تاریخ رقم،پاکستان نے آسٹریلیا سے ون ڈے سیریز 22 سال بعد جیت لی

پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا جو درست ثابت ہوا، کینگروز 140 رنز پر آل آؤٹ

پاکستان نے آسٹریلوی بالرز کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے مطلوبہ ہدف محض 26.5 اوورز میں حاصل کیا
نسیم شاہ اور شاہین شاہ آفریدی نے 3،3 حارث رؤف نے 2 اور محمد حسنین نے ایک وکٹ حاصل کی
پرتھ (آن لائن)پاکستان نے تیسرے ون ڈے میچ میں آسٹریلیا کو شکست دیکر 22 سال بعد سیریز اپنے نام کرلی۔پرتھ میں کھیلے گئے میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا جو درست ثابت ہوا، قومی ٹیم کے بولرز نے کینگروز کو 140 رنز پر آل آؤٹ کرکے ہدف 2 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کیا اور تاریخ جیت درج کی۔پاکستان نے آسٹریلوی بالرز کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے مطلوبہ ہدف محض 26.5 اوورز میں حاصل کیا۔میچ میں فتح کیساتھ ہی پاکستان نے آسٹریلیا کیخلاف تین میچز پر مشتمل ون ڈے سیریز 1-2 جیت لی۔پاکستان نے آخری مرتبہ 2002 میں وسیم اکرم کی قیادت میں کینگروز کیخلاف آخری سیریز جیتی تھی۔پرتھ میں کھیلے گئے ایک روزہ سیریز کے آخری میچ میں پاکستانی پیس بیٹری نے کینگروز کی بیٹنگ لائن کے پرخچے اڑا دیے،

قومی ٹیم نے 31.5 اوورز میں آسٹریلیا کے 9 کھلاڑی 140 رنز پر آؤٹ کردیے جبکہ ایک کھلاڑی انجری کی وجہ سے دوبارہ بیٹنگ کے لیے میدان میں نہیں اترے۔پاکستان نے مطلوبہ ہدف 27 اوورز میں 2 وکٹ کے نقصان پر حاصل کرلیا، قومی ٹیم کی اوپننگ جوڑی نے ایک بار پھر پر اعتماد انداز میں بیٹنگ کا آغاز کیا اور ٹیم کو 84 رنز کا آغاز فراہم کیا۔پچھلے میچ میں نصف سنچریاں بنانے والے صائم ایوب نے 42 رنز کی اننگز کھیلی جب کہ عبداللہ شفیق 37 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔ کپتان محمد رضوان 30 اور بابراعظم 28 رنز پر ناقابل شکست رہے۔آسٹریلیا کی جانب سے دونوں وکٹیں لینس موریس نے حاصل کیں۔ اس سے قبل قومی ٹیم کے کپتان محمد رضوان نے ٹاس جیت کر پہلے آسٹریلیا کو بیٹنگ کی دعوت دی، آسٹریلیا کی جانب سے سین ایبٹ 30 رنز بناکر نمایاں رہے اور ان کے 6 کھلاڑی ڈبل فیگر میں بھی داخل نہ ہوسکے۔آسٹریلیا کی اوپننگ جوڑی اس میچ میں بھی ناکام ثابت ہوئی، جیک فریزر میکگورک صرف 7 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے اور میتھیو شارٹ نے 22 رنز کی اننگز کھیلی۔

کپتان جوش انگلس بھی 7 ہی رنز بناسکے، ایرون ہارڈی نے 12 رنز بنانے میں کامیاب رہے، کوپر کونولی 7 رنز پر ریٹائرڈ ہرٹ ہوگئے، محمد حسنین کی گیند ان کے ہاتھ پر لگی جس سے وہ انجرڈ ہوگئے۔گلین میکسوئل مسلسل تیسرے میچ میں حارث رؤف کا شکار بنے، وہ کھاتہ کھولے بغیر ہی پویلین واپس لوٹ گئے، آل راؤنڈر مارکس اسٹونئس بھی 8 رنز ہی بناسکے، ایڈم زمپا نے 13 رنز بنائے۔قومی ٹیم کی جانب سے نسیم شاہ نے اور شاہین شاہ آفریدی نے 3،3 حارث رؤف نے 2 اور محمد حسنین نے ایک وکٹ حاصل کی۔پاکستانی ٹیم کی جانب سے گزشتہ میچ کی فاتح سائیڈ برقرار رکھی گئی ہے، تاہم آسٹریلیا نے ٹیم میں 5 تبدیلیاں کی ہیں، میزبان ٹیم نے کوپر کونولی، مارکس اسٹوئنس، شان ایبٹ، اسپینسر جونسن اور لینس موریس کو موقع دیا ہے۔بھارت کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے قبل آسٹریلیا نے اپنے اہم کھلاڑیوں کو آرام دیا ہے جن میں کپتان پیٹ کمنز، اسٹیو اسمتھ، مارنس لبوشین، مچل اسٹارک، اور جوش ہیزل ووڈ شامل ہیں۔پاکستان کی جانب سے عبداللّٰہ شفیق اور صائم ایوب نے اننگ کا آغاز کیا اور دونوں بیٹرز نے پُراعتماد انداز سے بیٹنگ کی اور 84 رنز کی پارٹنرشپ قائم کی۔پاکستان کی پہلی وکٹ 84 اور دوسری وکٹ 85 رنز پر گری، پچھلے میچ میں نصف سنچریاں بنانے والے عبداللّٰہ شفیق 37 اور صائم ایوب 42 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

اس کے بعد بابراعظم اور کپتان محمد رضوان نے تیسری وکٹ پر 58 رنز کی شاندار پارٹنر شپ قائم کی اور میچ ختم کیا۔کپتان محمد رضوان 30 اور بابراعظم 28 رنز پر ناقابل شکست رہے، پاکستان نے مطلوبہ ہدف 27 ویں اوورز میں 2 وکٹ کے نقصان پر حاصل کرلیا۔آسٹریلیا کی جانب سے پاکستان کی دونوں وکٹیں لانس مورس نے حاصل کیں، ان کے علاوہ کوئی بھی بالر وکٹ حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکا۔اس طرح پاکستان نے آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز 1-2 سے اپنے نام کرلی، قومی ٹیم آسٹریلوی سرزمین پر 22 سال بعد سیریز جیتنے میں کامیاب ہوگیا۔اس سے قبل پاکستان کے کپتان محمد رضوان نے میچ کا ٹاس جیت کر پہلے آسٹریلیا کو بیٹنگ کی دعوت دے دی۔ٹاس کے موقع پر پاکستانی کپتان محمد رضوان نے کہا کہ پچ مختلف نہیں لگ رہی اس لیے پہلے بولنگ کررہے ہیں، پچھلے میچ کی طرح اس میچ میں بھی اچھا کھیلنے کی کوشش کریں گے، میچ میں فتح کے ساتھ سیریز جیت کر دورے کو یادگار بنانا چاہتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، حارث رؤف یہاں لیگ کھیلتے رہے ہیں، وہ کنڈیشنز سے ہم آہنگ ہیں۔اس موقع پر آسٹریلوی کپتان جوش انگلس کا کہنا تھا کہ میچ میں فتح یقینی بناکر سیریز اپنے نام کریں گے، ٹیم میں 5 تبدیلیاں کی گئی ہیں، لانس مورس، کوپر کونولی، مارکس اسٹوئنس، شان ایبٹ اور اسپینسر جونسن ٹیم میں شامل ہیں۔

Comments are closed.