پی ایس ایل 11، اپریل مئی 2026 میں میلہ سجنے کا امکان‘تیاریاں شروع کر دی گئیں

کراچی(آن لائن)پی ایس ایل 11 کا بھی 10 ویں ایڈیشن کی طرح آئندہ برس اپریل، مئی میں آئی پی ایل کے ساتھ میلہ سجنے کا امکان ہے جس کیلئے تیاریاں ابھی سے شروع کر دی گئی ہیں تاہم اس صورت میں زمبابوے سے ہوم سیریز ری شیڈول کرنا ہو گی۔تفصیلات کے مطابق پی ایس ایل کا انعقاد روایتی طور پر فروری، مارچ میں ہوتا ہے مگر رواں برس ملک میں منعقدہ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کی وجہ سے ایونٹ اپریل اور مئی میں ہوا،اس دوران آئی پی ایل سے تاریخوں کا تصادم بھی رہا۔آئندہ برس فروری، مارچ میں آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ شیڈول ہے، اس لیے پاکستان کو اپنی لیگ کے لیے نئی تاریخوں کا تعین کرنا ہوگا، دسمبر، جنوری میں انعقاد کی تجویز سامنے آئی تھی لیکن کئی اہم امور حل طلب ہونے کی وجہ سے اتنی جلدی انعقاد دشوار لگنے لگا۔

اس ونڈو میں پی سی بی اسٹار کرکٹرز کی شمولیت سے ڈومیسٹک پینٹنگولر کپ منعقد کر سکتا ہے، رواں برس ہی پی ایس ایل کو الگ کمپنی بنانے کا اعلان ہوا تھا، سلمان نصیر بطور سی ای او کام شروع کر چکے ہیں، البتہ ابھی دیگر شعبوں میں کوئی بڑی تقرری نہیں ہوئی،10 ایڈیشن مکمل ہونے کے بعد اب موجودہ 6 فرنچائز ٹیموں کی ویلیویشن ہوگی جس کے بعد 25 فیصد تک فیس میں اضافہ متوقع ہے۔گذشتہ برس دسمبر میں ہی تمام ٹیموں نے تحریری طور پر ملکیت برقرار رکھنے کا کہہ دیا تھا، البتہ بعد میں ملتان سلطانز کے اونر علی ترین مسلسل مالی نقصان کا رونا روتے رہے،کچھ عرصے سے وہ خاموش ہیں لہذا واضح نہیں ہو سکا کہ وہ ٹیم اپنے پاس رکھیں گے یا دوبارہ بڈنگ کی جانب جائیں گے،ابھی سب سے مہنگی اس ٹیم کی سالانہ ایک ارب روپے سے زائد فیس ادا کی جاتی ہے۔

اسی طرح بورڈ نے 11 ویں ایڈیشن سے 2 نئی ٹیموں کو شامل کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن اس حوالے سے بھی تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی،ذرائع نے بتایا کہ ٹائٹل اسپانسر شپ کے 10 سالہ معاہدے کی بھی تجدید ہونا ہے، گراؤنڈ اسپانسر شپ کی 8 سے 10 کیٹیگریز، براڈ کاسٹ کے ملکی اور بین الاقوامی الگ کنٹریکٹس ہوں گے۔اسی طرح لائیو اسٹریمنگ کا بھی نیا معاہدہ ہونا ہے،اس وقت ٹائٹل اسپانسر شپ سے پی سی بی کو تقریبا 90 کروڑ روپے سالانہ ملتے ہیں، گذشتہ برس پاکستان کے لائیو اسٹریمنگ رائٹس تقریبا ایک ارب80 کروڑ روپے میں فروخت ہوئے تھے، لوکل براڈ کاسٹ سے تقریبا 6 ارب 30 کروڑ جبکہ انٹرنیشنل سے4.6 ملین ڈالر ملے۔

Comments are closed.