قومی مفادات کے تحفظ کی راہ میں مالی نقصانات کی قربانی کا اعتراف،

 بھارت کے ساتھ کشیدگی کے بعد پاکستانی فضائی حدود کی بندش سے ہونے والے مالی نقصانات کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش

فیصلے کے نتیجے میں پاکستان کو یومیہ 100 سے 150 بھارتی طیاروں کے متاثر ہونے کا سامنا کرنا پڑا، خواجہ آصف

 ایئر پورٹس اتھارٹی کو 24 اپریل 2025 تک 4 اعشاریہ 1 ارب روپے کا مالی نقصان اٹھانا پڑے گا، اسمبلی میں اظہار خیال

اسلام آباد (آن لائن) وزیر دفاع و ہوا بازی خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں فضائی حدود کی بندش کے نتیجے میں ہونے والے مالی نقصانات کے حوالے سے تفصیلات پیش کیں۔ خواجہ آصف نے بتایا کہ 2019 کے بعد معرکہ حق کے نتیجے میں بھارت اور پاکستان دونوں نے ایک دوسرے کی فضائی حدود بند کر دی تھیں، جس سے دونوں ممالک کی ائیر لائنز متاثر ہوئیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کے طیاروں کے لیے فضائی حدود بند کر دی تھی جس کے بعد بھارت نے بھی پاکستانی فضائی حدود پر اسی طرح کی پابندی لگا دی

اس فیصلے کے نتیجے میں پاکستان کو یومیہ 100 سے 150 بھارتی طیاروں کے متاثر ہونے کا سامنا کرنا پڑا۔خواجہ آصف نے مزید بتایا کہ اس بندش کے باعث پاکستان ایئر پورٹس اتھارٹی کو 24 اپریل 2025 تک 4 اعشاریہ 1 ارب روپے کا مالی نقصان اٹھانا پڑے گا، جبکہ 2019 میں بھی فضائی حدود کی بندش کے سبب پاکستان کو 7 اعشاریہ 6 ارب روپے کا نقصان ہوا تھا۔انہوں نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ باوجود ان مالی نقصانات کے، پاکستان کی قومی خودمختاری، دفاع اور وطن عزیز کا تحفظ ہمیشہ ہماری اولین ترجیح رہے گا۔ اس وقت بھارت کے علاوہ پاکستان کی فضائی حدود تمام بین الاقوامی ائیر لائنز کے لیے کھلی ہوئی ہیں، جب کہ پاکستانی طیاروں کے لیے بھی بھارتی فضائی حدود میں پرواز پر پابندی ہے۔

Comments are closed.