خود سے زیادہ ٹیم پر اعتماد ہے، ا نہی کھلاڑیوں نے ٹیم کو نمبر ون بنایا اور یہی میچز جتو پئیں گے، بابر اعظم
لاہور(آن لائن)پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کا کہنا ہے کہ خود سے زیادہ مجھے میری ٹیم پر اعتماد ہے،انہی کھلاڑیوں نے ٹیم کو نمبر ون بنایا اور یہی میچز جتو پئیں گے،بطور کپتان ورلڈکپ میں جارہا ہوں، کوشش ہوگی کہ ٹرافی لے کر آئیں ، ‘بھارت میں پہلی مرتبہ کھیلنے کا دباوٴ نہیں، ایشیا کپ میں جو غلطی ہوئی، ورلڈ کپ میں نہیں دہرائینگے، نسیم شاہ کے بعد سب سے بہتر آپشن حسن علی ہی تھے۔آئی سی سی ونڈے ورلڈکپ میں شرکت کے لیے بھارت روانگی سے قبل منگل کو پریس کانفرنس میں بابر اعظم نے کہا کہ انہی کھلاڑیوں نے پاکستان کو نمبر ون بنایا ہے، مجھے پتہ ہے کہ کون میرے لیے اور ٹیم کے لیے فائٹ کرتا ہے’۔ورلڈکپ سے متعلق بابر اعظم نے کہا ‘بھارت میں پہلی مرتبہ کھیلنے کا دباوٴ نہیں ہے،کنڈیشنز کے بارے میں علم ہے،سابق کرکٹرز سے معلومات لینے کی کوشش کی ہے، ورلڈ کپ کے لیے بھرپور تیاری ہے، کوشش کریں گے کہ بطور ٹیم اچھا کھیل پیش کریں’۔ بہترین کارکردگی دکھانے کی پوری کوشش کریں گے۔
قوم سے اپیل ہے کہ وہ پاکستانی ٹیم کی کامیابی کیلئے دعا کرے۔انہوں نے کہا کہ پہلے 2019 ورلڈ کپ میں بطور کھلاڑی شامل ہوا، میرے لیے اعزاز ہے کہ اس مرتبہ کپتان کی حیثیت سے کھیل رہا ہوں ، ان ہی لڑکوں کی وجہ سے ہم نمبر ون بنے ہیں، میں ٹیم میں زیادہ تبدیلیوں کا قائل نہیں ہوں، ایشیا کپ کے دو میچز میں ہم اچھا نہیں کھیلے، فیلڈنگ میں کمی تھی، بہتر کرنے کی ضرورت ہے، ہر میچ میں ایک جیسی غلطی نہیں ہوتی، ایک غلطی کو کور کرتے ہیں تو دوسری آجاتی ہے’۔بابر اعظم نے نسیم شاہ کی انجری سے متعلق کہا کہ ‘ورلڈکپ میں اس کی کمی محسوس ہوگی، اسے ہم کافی یاد کریں گے، وہ شاہین کے ساتھ جیسی بولنگ کرتا تھا وہ ہمیں مختلف وائب دیتا تھا، نسیم کے بعد جو بہترین چوائس تھی اسے ٹیم میں لائے ہیں’۔قومی کپتان نے کہا کہ ‘چیف سلیکٹر انضمام الحق ، کوچ مکی ا آرتھر کی مشاورت سے حسن علی کو منتخب کیا کیونکہ اس کے پاس تجربہ بھی ہے، ابھی نہیں بتاسکتا کہ شاہین کے ساتھ کون نیا گیند کرے گا، قومی ٹیم کو یہی پیغام دیا ہے کہ پہلے بھی کرتے آئے ہیں اور اب بھی کرنا ہے، ہمارا ایک میچ پر فوکس نہیں سب پر ہے، 2019 سے ہم آٹھ سے نو کھلاڑی ایک ساتھ کھیل رہے ہیں’۔ نائب کپتان شاداب خان کی کارکردگی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شاداب کی کارکردگی پر میری بات ہوئی ہے۔ شاداب خان بڑا کھلاڑی ہے، امید ہے وہ ورلڈ کپ میں اچھا پرفارم کریں گے۔ جب بھی کوئی کھلاڑی اچھا کرتا ہے، سب اچھا کہتے ہیں لیکن بری کارکردگی پر صرف ہم ہی کانفیڈنس دیتے ہیں۔
قومی کپتان نے مزید کہا کہ ‘ہمارے اسپنرز بہت اچھے ہیں، مانتا ہوں پرفارم نہیں کیا لیکن ایسا نہیں کہ وہ اچھے نہیں، پاکستان ٹیم میں کھیلنا آسان نہیں ، وہ اچھے ہیں تبھی ٹیم میں ہیں’۔سینٹرل کنٹریکٹ سے متعلق بابر اعظم نے کہا کہ ‘ویزے آچکے ہیں اور ہم جا رہے ہیں، سینٹرل کانٹریکٹ پر بات ہو رہی ہے اور جلد ْمعاملات حل ہوجائیں گے، پی سی بی نے ہمیشہ کھلاڑیوں کا اچھا سوچا ہے اس بار بھی اچھا ہی ہو گا’۔ اس موقع پر صحافی نے سوال کیا کہ سابق کرکٹر ہاشم آملہ نے پاکستان کو سیمی فائنلسٹ ٹیم قرار دیا ہے، آپ اپنے آپ کو ورلڈکپ میں کہاں دیکھتے ہیں؟ بابر نے جواب دیا کہ آپ ہمیں نمبر 4 پر بہت نیچے لے گئے ہیں، انشاء اللہ ورلڈکپ میں نمبر ون ہونگے۔ قومی ٹیم کے فاسٹ با ؤلر شاہین شاہ سے ڈریسنگ روم میں جھگڑے کی خبروں سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ سارے کھلاڑی مجھے عزت دیتے ہیں۔ جب کوئی میچ کم مارجن سے ہارتے ہیں تو میٹنگ میں تھوڑی بہت چیزیں چلتی ہیں لیکن اس کو بڑا چڑھا کر بتانا کہ لڑائی ہوگئی یہ غلط ہے۔بابر اعظم نے مزید کہا کہ ‘میرے اور شاہین کے درمیان اتنا ہی پیار ہے جتنا خاندان کے افراد کے درمیان ہوتا ہے۔’
Comments are closed.