سینٹرل کانٹریکٹ کی خلاف ورزی، پی سی بی کا محمد حارث کیخلاف سخت ایکشن لینے کا فیصلہ
لاہور(آن لائن) پی سی بی نے سینٹرل کنٹریکٹ کی خلاف ورزی پر قومی ٹیم کے وکٹ کیپر محمد حارث کیخلاف سخت ایکشن کا فیصلہ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق بنگلادیش پریمیئر لیگ انتظامیہ نے پاکستانی اوپنر محمد حارث کو ڈھاکا سے واپس بھیج دیا۔ محمد حارث پاکستان کرکٹ بورڈ کو چکمہ دے کر بنگلادیش چلے گئے تھے۔
وہ این او سی نہ ملنے کے باوجود بنگلادیش پریمئر لیگ کھیلنے ڈھاکا پہنچے تھے اور چٹاگرام چیلنجز کی ٹیم کے ساتھ 2 دن بھرپور پریکٹس بھی کرتے رہے۔لیگ انتظامیہ نے این او سی کے بغیر میچ کھیلنے سے محمد حارث کو روک دیا اور انہیں واپسی بھیج دیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام کی ایک کہانی میں حارث نے ایک تصویر شیئر کی ہے جس میں اس کے پیک کیے ہوئے بیگ اور پشاور واپسی کے لیے طے شدہ سفری راستے کا پتہ چلتا ہے۔اس تصویر میں گھر اور زپ شدہ منہ کی تصویر کشی کرنے والے ایموجیز بھی دکھائے گئے ہیں جو شاید واقعات کے موڑ پر اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہیں۔محمد حارث اپنے کوٹے کی 2 ٹی ٹونٹی لیگز کھیل چکے تھے اور تیسری کی این او سی انہیں نہیں ملی۔ محمد حارث نے جولائی میں گلوبل T20 کینیڈا ٹورنامنٹ میں حصہ لیا جس کے بعد اگست 2023 میں لنکا پریمیئر لیگ میں ان کی شمولیت ہوئی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے سینٹرل کنٹریکٹ کی خلاف ورزی پر وکٹ کیپر کیخلاف سخت ایکشن کا فیصلہ کیا ہے۔دریں اثنا بابر اعظم، محمد وسیم جونیئر، محمد رضوان اور عباس آفریدی پیر کو کرائسٹ چرچ سے ڈھاکہ کا سفر شروع کریں گے۔ رضوان کومیلا وکٹورینز کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے، بابر اعظم رنگپور رائیڈرز کے لیے ایکشن میں نظر آئیں گے اور محمد وسیم جونیئر کھلنا ٹائیگرز کی نمائندگی کے لیے تیار ہیں۔ عباس آفریدی فارچیون باریشال میں شعیب ملک کو جوائن کریں گے۔عثمان قادر، فہیم اشرف اور خوشدل شاہ جیسے کھلاڑی پہلے ہی 19 جنوری سے شروع ہونے والے بی پی ایل 2024 کے سیزن میں حصہ لے رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وکٹ کیپر بلے باز اعظم خان جولائی 2023 سے دو لیگز (جی ٹی 20 کینیڈا اور کیریبین پریمیئر لیگ) میں بھی حصہ لے چکے ہیں لیکن انہیں انٹرنیشنل لیگ ٹی 20 (آئی ایل ٹی 20) کے جاری دوسرے سیزن کے لیے این او سی جاری کر دیا گیا ہے۔ چونکہ اعظم سینٹرل کنٹریکٹ کے تحت نہیں ہے وہ حارث جیسی ذمہ داری کا پابند نہیں ہے، جس کے پاس صرف دو لیگز میں شرکت کے لیے سینٹرل کنٹریکٹ ہے
Comments are closed.