نوازشریف کے منشور کا اہم ترین حصہ قوم کو جوڑنا ، اس کے زخموں پر مرہم رکھناہے،شہباز شریف

لاہور (آن لائن) سابق وزیر اعظم و پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ نوازشریف کے منشور کا اہم ترین حصہ قوم کو جوڑنا ، اس کے زخموں پر مرہم رکھنا ،اپنی ذات اور انا سے بالا تر ہو کر پاکستان کے وسیع تر مفاد میں سوچنا ہے ، اس معاشرے میں جو زہر گھولا گیا ہے یہ آرام سے ختم نہیں ہوگا اس کے لئے بہت زیادہ کوشش کرنا پڑے گی، یہ ایک روایت ہے کہ ہر انتخابات میں جانے سے پہلے ہر جماعت اپنااپنامنشور قوم کے سامنے پیش کرتی ہے لیکن جو اصل بات ہے جس کی تہہ میں ہمیں جانا ہے وہ یہ ہے کہ آج تک جو روایتی منشورپیش ہوتے رہے ہیں کتنی جماعتوں اور لیڈرز نے ان پر صدق دل اور محنت سے عمل پیرا ہونے کی کوشش کی اور میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں مسلم لیگ(ن) اور اس کے قائد نے یہ کر کے دکھایا ہے، نواز شریف وہ لیڈر ہے جو دعوے کم اور کام زیادہ کرتا ہے۔ پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ میں آئندہ عام انتخابات کے لئے پارٹی منشور پیش کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہاکہ میں خود نمائی میں جائے بغیر کہنا چاہتا ہوں کہ نواز شریف نے یہ کبھی دعویٰ نہیں کیا تھا کہ 20،20 گھنٹے کے لوڈ شیڈنگ کے اندھیرے ختم کر دوں گا بلکہ انہوں نے کہاتھا میں انہیں ختم کرنے کی پوری کوشش کروں گا ۔نواز شریف کی حکومت میں ترقی اور خوشحالی کے خلاف لانگ مارچ ہوئے ، کئی ماہ پر محیط دھرنے ہوئے ،اے پی سی کا سانحہ ہوا تو انہیں مجبوراً دھرنا ختم کرناپڑا ،لانگ مارچ ،دھرنوں سے قوم کا جو وقت ضائع ہوا یہ کس کے ذمے ہے۔ لیکن نواز شریف کی قسمت میں لکھا تھاکہ ان کے دور میں جب ہر طرف دھرنوں کی صدائیں ہوں،سپریم کورٹ کے جنگلوں پر میلے کچیلے کپڑے لٹکائے جارہے ہوں اور پارلیمنٹ کو آگ لگانے کی صدائیں ہوں اورگھیراؤ کر نے کے نعرے لگ رہے ہوں اور اس ماحول میں جب ترقی کا دور دور تک سایہ نہیں پڑھ سکتا اس کے باوجود مئی 2018میں صرف ساڑھے تین سالوں میں نواز شریف کی قیادت میں ساڑھے 11ہزار میگا واٹ بجلی کے منصوبے لگائے گئے جو دنیا کی تاریخ کا بھی ریکارڈ ہے ۔ کراچی کی گرین لائن ہمارے منشور کا حصہ نہیں تھا لیکن نواز شریف نے اس کو سندھ اور کراچی کے عوام کو بطور تحفہ یہ دیا ،منشور سب پیش کرتے ہیں لیکن عمل کوئی کوئی کرتا ہے ۔ ایک جماعت تعلیم اور صحت کے میدان میں چمپئن بنتی تھی ، انہوں نے اپنے صوبے میں دس سالہ دورمیں کیا ،نواز شریف کے دورمیں جہاں ان کو مینڈیٹ ملا تھا وہاں انقلاب آیا جہاں ان کا مینڈیٹ نہیں تھا وہ آپ کے سامنے ہے ۔نواز شریف کی قیادت میں 20ارب روپے کی لاگت سے پی کے ایل آئی بنا اور مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اس کا آپ دنیا کے کسی بھی اعلیٰ ترین ہسپتال سے مقابلہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے خیبر پختوا ہ میں ہسپتالوں اور تعلیم کو برباد کر دیا ، ڈینگی آیا تو پہاڑوں پر چڑھ گئے ، یہاں پربہترین کام ہوا تھا لیکن بد ترین حسد کی وجہ سے پی کے ایل آئی کو برباد کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف اس شخص کا نام ہے جس نے جو وعدہ کیا اس پر عمل کرنے کے لئے سر توڑ کوشش کی اور دن رات ایک کیا ، نواز شریف نے دعوے کم اور کام زیادہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے منشور کا حصہ ہے کہ ہم نے پاکستان کی نوجوان نسل کو ماضی کی طرح سہانے خواب نہیں دکھانے ، ہم نے ماضی میں کر کے دکھایا ہے اور اب پہلے سے بہت بڑھ کر کام کریں گے ،نوجوان نسل ی تعلیم ، تربیت کے حوالے سے جدید ترین ہتھیار لے کر ائیں گے جس سے پوری دنیا میں اپنالوہا منوایا جائے ،آئی ٹی ،سکلڈ ڈویلپمنٹ اورووکیشنل ٹریننگ کے ذریعے نوجوانوں کی ترقی کا سامان کریں گے ۔ نوجوان چاہے دیہاتوں میں ہوں یا شہروں میں ہوں ان کو روزگار کے مواقع ملیں چاہئیں، سمال میڈیم انٹر پرائزز کو قرضے ملیں ، اللہ نے موقع دیا تو اس بات کا بندوبست کریں گے بینکوں کے ذریعے زیادہ قرضوں کی ترسیل نوجوانوں کے لئے ہو جس سے ملک میں کاٹیج انڈسٹری کا جال پھیل جائے ۔انہوں نے کہاکہ زراعت آج بھی معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی ہے ،اس میں جتنا کام نواز شریف کے دور میں ہوا وہ سب کے سامنے ہے ،کیا کسی نے کسان کو سستی کھاد مہیا کی تھی ،کس نے بجلی کے ساتھ چلنے والے ٹیوب ویل کے لئے سستی بجلی مہیا کی تھی، دنیا کی زراعت ترقی میں جہاں پہنچ چکی ہے ہم اس کھیل میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں ، ہم نے ریسرچ سنٹرز اور مادرن تکنیک کو نہیں اپنایا ۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف کے منشور کا اہم ترین حصہ قوم کو جوڑنا ہے ، قوم کے زخموں پر مرہم رکھنا ،اپنی ذات اور انا سے بالا تر ہو کر پاکستان کے وسیع تر مفاد میں سوچنا ہے ، ہم ذاتی اختلافات کو بلا کر قوم کو اکٹھا کریں، اس معاشرے میں جو زہر گھولا گیا ہے یہ آرام سے ختم نہیں ہوگا اس کیلئے بہت زیادہ کوشش کرنا پڑے گی یہی نوازشریف کے منشور کا بہت اہم ستون ہے ۔یہ منشور بڑی عرق ریزی سے ترتیب دیا گیا ہے ، جانفشانی سے بنایا گیا ہے ، میں منشور کی تیاری میں حصہ لینے والے تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں

Comments are closed.