چوتھی بار وزیراعظم بننے کا خواب دیکھنے والے غلط فہمی میں ہیں، بلاول بھٹو

راولپنڈی (آن لائن )پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین و سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے آئندہ انتخابات میں کامیابی کے بعد قومی مفاہمتی کمیشن بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک سے نفرت، تقسیم اور انتقام کی سیاست کو ہمیشہ کے لئے دفن کر دیا جائے گا پیپلز پارٹی کے منشور میں شامل 10نکاتی عوامی معاشی معاہدہ غربت ، مہنگائی ، بے روزگاری ، دہشت گردی ، نفرت اور تقسیم کی سیاست اوربدامنی کے خاتمے کا ذریعہ بنے گا دہشت گردی پاکستان کے مستقبل کے لئے انتہائی خطرناک صورتحال اختیار کر چکی ہے اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان میں کوئی ”گڈ طالبان اور بیڈ طالبان “(Good Talbiaan & Bad Talibaan) نہیں ہو گا معافی صرف اس کو ملے گی جو پاکستان کے آئین اور قانون کو تسلیم کرے گا اور اس کے تابع ہوگا اب پیپلز پارٹی آئین اور قانون کو نہ ماننے والوں کو منہ توڑ جواب دے گی خود کوچوتھی بار وزیر اعظم دیکھنے کے شوقین یہ سمجھ لیں کہ طاقت کا اصل سرچشمہ عوام ہیں

اگر کوئی شخص وزیر اعظم بن بھی گیا تو کوئی اسے تسلیم نہیں کریں گے یہ بات طے ہے کہ آئندہ الیکشن میں عمران خان نے بھی کسی صورت وزیر اعظم نہیں بننااس وقت پلانٹڈ لوگ تحریک انصاف پر قابض ہیں تحریک انصاف کو بلے کا نشان نہ ملنے میں کسی اور کا کوئی قصور نہیں بلکہ ان لوگوں کا اپنا قصور ہے پیپلز پارٹی ملک کو ایسا سیاسی استحکام دلائے گی جس سے ملک میں معاشی و جمہوری استحکام آئے گاضرورت اس امر کی ہے کہ پوری قوم مل کر پیپلز پارٹی ، بے نظیر اور تیر پر مہر لگائے اگر پوری قوم 8فروری کو تیر پر مہر لگائے گی تو ہم مل کر شیر کا شکار کریں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روزراولپنڈی کے تاریخی لیاقت باغ میں انتخابی مہم کے جلسہ عام سے خطاب میں کیا جلسہ عام سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 55کے امیدوار بابر سلطان جدون ، 56کی امیدوار سمیرا گل ،این اے57کے امیدوار مختار عباس ، پی پی 15کے امیدوار عامر فدا پراچہ ، پیپلز پارٹی پنجاب کے نائب صدر خالد نواز بوبیاور راجہ علی منہاس سمیت دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا جبکہ اس موقع پر پیپلز پاٹی کے مرکزی جنرل سیکریٹری نیئر حسین بخاری اور سابق وزر اعظم راجہ پرویز اشرف بھی موجود تھے بلاول بھٹو نے کہا کہ میں آج اس شہر میں موجود ہوں جہاں پر ذوالفقار علی بھٹو کو شہید کیا گیا اور یہاں پر بے نظیر بھٹو شہید نے بھی اپنی آخری تقریر کی تھی انہوں نے کہا کہ میں اس لئے یہاں آیا ہوں کہ آج ہمارا پاکستان خطرے میں ہے اس وقت پاکستان سیاسی ، معاشی ، جمہوی اور معارتی بحرانوں میں گھرا ہوا ہے آج پاکستان کو دہشت گردی کے اسی بحران کا سامنا ہے جس کے لئے ہم نے اپنی جانوں کے نذرانے دیئے اور شہادتوں کے ذریعے ہم نے دہشت گردوں کو شکست دی لیکن آج پھر وہی دہشت گردی دوبارہ سر اٹھارہی ہے یہی وجہ ہے کہ آج یہ دھرتی آپ کو اور مجھے پکار رہی ہے کہ میں خطرے میں ہوں اور صرف پیپلز پارٹی ہی اس دھرتی کو خطرات سے بچا سکتی ہے انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ دا اور پھر بے نظیر بھٹو میں مانگ رہا ہے ہر انسان روٹی کپڑا اور مکان کے ساتھ اونچا ہو جمہور کا نام، دہشت سے محفوظ پاکستان کا نعرہ دیا انہوں نے کہا کہ ذوالفقا رعلی بھٹو اور بے نظیر بھٹو نے نے قوم کو جو نظریہ دیا اسی فلسفے کے تحت پیپلز پارٹی نے اپنے انتخابی منشور کا اعلان کیا جس میں10نکاتی عوامی معاشی معاہدے کا اعلان کیا گیا

یہ معاہدہ غربت ، مہنگائی ، بے روزگاری ، دہشت گردی ، نفرت اور تقسیم کی سیاست اوربدامنی کے خاتمے کا ذریعہ بنے گا اور پاکستان کے ہر شہری کو روٹی کپڑا اور مکان دلوائے گا پیپلز پارٹی اس ملک کو نہ صرف معاشی بلکہ ہر طرح کے معاشرتی بحرانوں سے نجات دلوائے گی ملک سے نفرت، تقسیم اور انتقام کی سیاست کو ہمیشہ کے لئے دفن کر دیا جائے گا پیپلز پارٹی مفاہمتی کمیشن بنا کر ملک کو ترقی یافتہ ریاست بنائے گی پیپلز پارٹی وہ واحد سیاسی و جمہوری جماعت ہے جو سب کو ساتھ لے کر چلنے کا عزم رکھتی ہے اور 8فروری کے انتخابات اپنے منشور اور وعدوں پر عملدرآمد کر کے دکھائیں گے انہوں نے دہشت گردی کو مستقبل کے لئے انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں پاکستان کی یہ روائیت رہی کہ پہلے دہشت گردی کے مقابلے کی بجائے بہانے بناتے ہیں اور جب پانی سر سے گزر جاتا ہے تو مجبورا مقابلہ کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان میں کوئی ”گڈ طالبان اور بیڈ طالبان “(Good Talbiaan & Bad Talibaan) نہیں ہو گا معافی صرف اس کو ملے گی جو پاکستان کے آئین اور قانون کو تسلیم کرے گا اور اس کے تابع ہوگا اب پیپلز پارٹی آئین اور قانون کو نہ ماننے والوں کو منہ توڑ جواب دے گی انتخابات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ 8فروری کو ملک بر میں انتخابات ہونے ہیں اس کے لئے ایک جماعت وہ ہے جس نے اپنی وہی پرانی سیاست اور روش اختیار کر لی ہے جس سے چارٹر آف ڈیموکریسی پر دستخط کرتے وقت توبہ کی تھی وہ جماعت یہ سمجھتی ہے کہ چوتھی بار وزیر اعظم بن چکے ہیں لیکن انہیں یہ سمجھ نہیں کہ طاقت کا اصل سرچشمہ عوام ہیں یہ جماعت نفرت اور تقسیم کی سیاست سے عوام کو گمراہ کرنا چاہتی ہے لیکن عوام نے سوچ سمجھ کر ووٹ کا ہتھیار استعمال کرنا ہے عوام اور پیپلز پارٹی مل کر چوتھی بار وزیر اعظم بننے والی غیر جمہوری سازش کو مل کر ناکام بنائیں گے انہوں نے کہا کہ اس وقت جذباتی ہونے کی بجائے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے راولپنڈی سمیت ملک بھر کے عوام8فروری کو تیر پر مہر لگا کر ایسی سازشوں کو ناکام بنادیں انہوں نے پاٹی قیادت اور کارکنوں پر زور دیا کہ وہ ن لیگ کے نظریاتی کارکنوں کو بھی یہ بات سمجھائیں کہ اب وہ ن لیگ نہیں رہی جو ووٹ کو عزت دینے کی بات کرتی تھی بلکہ یہ ن لیگ ووٹ کی بے عزتی کر رہی ہے لہٰذا وہ بھی شیر کی بجائے تیر پر مہر لگائیں انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے جذباتی کارکنوں کو بھی سمجھائیں کہ ہم 3نسلوں سے جدوجہد کر رہے ہیں اور یہ انتہائی سنجیدگی کا وقت ہے یہ بات طے ہے کہ آئندہ الیکشن میں عمران خان نے کسی صورت وزیر اعظم نہیں بننا اس وقت بطور جماعت تحریک انصاف کا نہ کوئی چیئرمین ہے اور نہ جنرل سیکریٹری ہے اس وقت پلانٹڈ لوگ تحریک انصاف پر قابض ہیں تحریک انصاف کو بلے کا نشان نہ ملنے میں کسی اور کا کوئی قصور نہیں بلکہ ان لوگوں کا اپنا قصور ہے ایک دن ان کا لیڈر ججوں اور عدالتوں کو گالیاں دیتا ہے اگلے دن یہ لوگ کسی تیاری ، دستاویزات اور ریکارڈ کے بغیر عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں ان لوگوں نے اپنی نالائقی اور ناہلی سے تحریک انصاف کے کارکنوں کو نقصان پہنچایا لہٰذا تحریک انصاف کا کارکن بھی آزاد امیدواروں پر ووٹ ضائع کرنے کی بجائے تیر پر مہر لگائے کیونکہ ان اگر ان آزاد امیدواروں نے بھی کامیابی کے بعد استعفے دے کر لانگ مارچ ہی کرنے ہیں توپاکستان ترقی نہیں کر سکے گا انہوں نے کہ اگر پوری قوم 8فروری کو تیر پر مہر لگائے گی تو ہم مل کر شیر کا شکار کریں گے انہوں نے کہا کہ ملک کی اکثریت ایک شخص کو چوتھی بار وزیر اعظم نہیں دیکھنا چاہتی اگر یہ شخص وزیر اعظم بن بھی گیا تو کوئی اسے تسلیم نہیں کرے گا اور اس طرح ملکی معیشت کیسے چلے گی انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے پاس مسائل سے مقابلہ کرنے کا تجربہ ہے ہم ملک کو ایسا سیاسی استحکام دلائیں گے جس سے ملک میں معاشی و جمہوری استحکام آئے گا ہم ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے اس کے لئے ضروری ہے کہ پوری قوم مل کر پیپلز پارٹی ، بے نظیر اور تیر پر مہر لگائے۔

Comments are closed.