عمران خان اور بشری بی بی کا نکاح غیر شرعی قرار

راولپنڈی (آن لائن)سینئر سول جج قدرت اللہ نیازی نے دوران عدت نکاح (غیر شرعی نکاح)کیس میں تحریک انصاف کے سابق چیئرمین اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے نکاح کوغیر شرعی اور غیر قانونی قرار دے دیا ہے عدالت نے دونوں میاں بیوی کو 7/7سال قید اور 5لاکھ روپے فی کس جرمانے کی سزابھی سنائی ہے عدم ادائیگی جرمانہ پر دونوں ملزمان کو4/4ماہ مزید قید بھگتنا ہو گی عدالت نے ہفتہ کے روزمختصرفیصلہ بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا کی جانب سے دائر استغاثہ پر سماعت مکمل ہونے پر دیااستغاثہ میں خاور مانیکا نے اپنے نکاح نامے، طلاق نامے (Divorce deed)اور سیشن جج اسلام آباد کے آرڈر کی نقل کے علاوہ مفتی محمد سعید، عون شیرازی اور اپنے ملازم محمد لطیف پر مشتمل3گواہان کی فہرست بھی منسلک کی تھی فیصلہ سنائے جانے کے موقع پرسابق چیئرمین اپنی اہلیہ کے علاوہ اپنے وکلا سلیمان اکرم راجہ اور عثمان گل کے ہمراہ موجود تھے جبکہ خاورمانیکا ان کے وکیل راجہ رضوان عباسی اور پبلک پراسیکیوٹر سمیع اللہ جسرا بھی موجود تھے،فیصلہ سنانے سے قبل بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو عدالت کے روبرو پیش کیا گیا،عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار خاور مانیکا اپنا کیس ثابت کرنے میں کامیاب رہے،بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشری بی بی کا ناح غیر شرعی ہے ، دورانِ عدت نکاح کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 7، 7 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے۔یاد رہے کہ خاور فرید مانیکا نے تحریک انصاف کے سابق چیئرمین اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف عدالت میں دائر استغاثہ میں موقف اختیار کیا تھا کہ بشریٰ بی بی سے اس کی شادی1989میں ہوئی جوبعدازاں تحریک انصاف کے اسلام آباد دھرنے میں درخواست گزار کی خواہر نسبتی کے سابق چیئرمین کی مداخلت تک بہت احسن طریقے سے چلتی رہی

، درخواست گزار کو اس بات کا بھی پورا یقین ہے کہ یو اے ای میں مقیم اس کی خواہر نسبتی کے یہودی لابی کے کے ساتھ مضبوط روابط ہیں اس طرح سابق چیئرمین نے پیری مریدی کی آڑ میں درخواست گزار کے گھر آنا جاناشروع کیا اور پھر نہ صرف درخواست گزار کی عدم موجودگی میں بھی اس کے گھر آنے لگابلکہ گھنٹوں وہاں رکتا جو اخلاقیات اوراسلامی معاشرتی اقدار کے بھی منافی تھا اس طرح سابق چیئرمین نے درخواست گزار کی ازدواجی زندگی میں مسلسل مداخلت شروع کر دی جس پر درخواست گزار نے اسے ہر طریقے سے نصیحت کرنے اور سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ ایک بے شرم آدمی ثابت ہوا استغاثہ میں کہا گیا ہے کہ ایک دفع جب درخواست گزار گھر آیا تو ذوالفقار بخاری اکیلا درخواست گزار کے بیڈ روم میں موجود تھا جو کہ اس سے پہلے اکثر سابق چیئرمین کے ساتھ آتا تھا اس طرح بشریٰ بی بی نے بھی درخواست گزار کی اجازت کے بغیربنی گالہ میں سابق چیئرمین کے گھر جانا شروع کر دیا جس پر درخواست گزار نے انتہائی سختی کے ساتھ اپنی اہلیہ کو زبردستی روکنے کی کوشش کی لیکن وہ با زنہ آئی اور گھنٹوں سابق چیئرمین کے گھر گزارتی جبکہ سابق چیئرمین درخواست گزار کی اہلیہ کو رات گئے کالیں بھی کرتا ، جس پر درخواست گزار کو یہ اندازہ ہو ا کہ سابق چیئرمین مختلف فون اور سمیں استعمال کرتا ہے جو اسے فرح گوگی لا کر دیتی تھی چونکہ یہ سب انتہائی غیر شرعی، غیر اسلامی اور غیر اخلاقی حرکات تھیں جس پر درخواست گزار نے مختلف مواقع پرسختی سے واضح کیا کہ یہ عمل مزید قابل برداشت نہیں ہے لیکن درخواست گزار کی اہلیہ اس روحانیت کو ڈھال بنالیتی جس کا لبادہ ان دونوں نے اوڑھ رکھا تھا اس طرح درخواست گزار کے ملازم لطیف نے بتایا کہ نام نہاد نکاح سے پہلے دونوں کے درمیان غیر شرعی تعلق ہے درخواست گزار نے ہرممکن کوشش کی صورتحال کو بہتر کیا جائے اور اہلیہ کو اپنے اہل خانہ میں واپس لایا جائے تاکہ اپنے خاندان اور بچوں کی ساکھ کو خراب ہونے سے بچایا جا سکے کوششوں میں ناکامی کے بعد درخواست گزار نے 14نومبر2017کو اہلیہ کو طلاق دے دی جس کے لئے درخواست گزار کا خیال تھا کہ فیملی کے ذریعے فروری 2018سے قبل رجوع کی ایک کوشش کی جائے لیکن اسی اثنا میں درخواست گزار کی اہلیہ اور سابق چیئرمین کے عدت پوری ہونے سے قبل نکاح کی اطلاع نے معاملہ ہی ختم کر دیا

اس طرح ایک ماہ کی خاموشی کے بعد فرح گوگی نے درخواست گزار پر دباوٴ ڈالنا شروع کر دیا کہ وہ تاریخ میں ردوبدل کرے لیکن درخواست گزار نے انکار کر دیا اس طرح درخواست گزار کی اہلیہ اور سابق چیئرمین نے عدت کی مدت مکمل ہونے سے قبل ہی یکم جنوری2018کو نکاح کر لیا اس طرح عدت مکمل ہونے سے قبل یہ نکاح مکمل طور پر غیر شرعی اور غیر قانونی تھا اور مذکورہ دونوں نے اس غیر شرعی نکاح سے قبل بھی ناجائز تعلق قائم رکھا اور پھرفروری2018میں دھوکہ دہی سے مفتی سعید کے ذریعے دوبارہ نکاح پڑھوایا جو کہ وہ بھی غیر قانونی تھا اس طرح سابق چیئرمین نے درخواست گزار کی ازدواجی زندگی میں مداخلت کر کے اس کا گھر اور خاندان تباہ کر دیا جبکہ درخواست گزار کی اہلیہ بھی غیر شرعی اور غیر اخلاقی فعل کی مرتکب ہوئی اس طرح دونوں نے دوران عدت شادی کاڈرامہ رچا کرسنگین جرم کا ارتکاب کیااور دھوکہ دہی سے شادی کی تقریب کی جو مکمل غیر قانونی تھی جبکہ یہ سب کچھ تعزیرات پاکستان کی دفعات 496اور496-Bکے تحت سنگین جرم ہے استغاثہ میں کہا گیا ہے کہ اس طرح دونوں زنا کاری کے مرتکب ہوئے اور بعد ازاں دھوکہ دہی سے لاہور میں شادی کی تقریب منعقد کرنے اسلام آباد میں رہنے لگے استغاثہ میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار نے خاندان کی عزت اور ساکھ بچانے کے لئے کوئی شکائیت بھی نہ کی لیکن اب عدالت سے رجوع کیا ہے استغاثہ میں استدعا کی گئی ہے کہ دونوں مدعا علیہان کو طلب کر کے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے اور انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں یاد رہے کہ غیر شرعی نکاح کیس میں بشریٰ بی بی کی جانب سے ضابطہ فوجداری کی دفعہ342کا بیان جمع کرانے،دونوں میاں بیوی کے وکلا کی جانب سے گواہوں پر جرح مکمل ہونے اور وکلا کے حتمی دلائل کے بعد عدالت نے 2فروری کو 13گھنٹے کی طویل سماعت کے بعد کیس پر فیصلہ محفوظ کیا تھا بشریٰ بی بی نے342کے تحت عدالت میں جمع کرائے گئے بیان میں موقف اختیار کیا تھا کہ سابقہ شوہر نے اپریل 2017 میں زبانی طلاق دی تھی خاور مانیکا نے نومبر 2017 کا جو طلاق نامہ پیش کیا وہ جعلی ہے کیونکہ یکم جنوری 2018 تک میری عدت پوری ہوچکی تھی اورشادی کا باضابطہ اعلان فروری 2018 میں کیا گیا یکم جنوری 2018 سے قبل عمران خان سے فیملی کی موجودگی میں ملی اس لئے غیر شرعی تعلقات سے متعلق الزامات جھوٹے ہیں، بیان میں کہا گیا تھا کہ گزشتہ سال 14 نومبر تک خاور مانیکا حراست میں رہا جس کے بعد استغاثہ دائر کیااور دائر کیا گیااستغاثہ بدنیتی پر مبنی ہے کیونکہ فروری میں نکاح نہیں بلکہ دعائیہ تقریب کی گئی، فیصلے کے بعد تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے عدالتی فیصلے کو انتہائی شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس کانہ کوئی سر ہے اور نہ پاوٴں ہے اور عدالت نے اپنے حلف کی پاسداری بھی نہیں کی دوران ٹرائل بھی نہ ہماری بریت کی درخواست پر کاروائی گئی نہ ہمیں اس میں کوئی شہادت پیش کرنے کا موقع دیا گیا، عدالت نے زبانی مختصر فیصلہ سنا یا یہاں تک کہ فیصلے پر عدالت کے دستخط بھی نہیں حالانکہ فیصلے کے وقت دستخط شدہ کاپی وکلا کو دے کر ان سے وصولی پر دستخط لئے جاتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ سب کچھ سیاسی انتقام اور سیاسی مقاصد کے لئے ہو رہا ہے اس سے پہلے توشہ خانہ کیس میں بشریٰ بی بی کا کوئی تعلق نہ ہونے کے باوجود اسے سزا دی گئی پہلے ایک سازش کے تحت تحریک انصاف کی حکومت ختم کی گئی اور پھر اس کے بعد کیس پر کیس بنائے گے اور پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ توشہ خانہ کیس میں سب سے آخری وزیر اعظم کو سزا دی گئی پاکستان میں پہلے مرتبہ ہو رہا ہے کہ کسی ٹرسٹی کے خلاف کوئی کیس چلایا جارہا ہے تحریک انصاف کے خلاف ہر طرف سے گھیرا تنگ کر کے اس سے انتخابی نشان تک واپس لے لیا گیا۔

Comments are closed.