مولانا صاحب ۔۔فرشتے ووٹ نہیں دیتے عوام دیتے ہیں

اسلام آباد (آن لائن)خیبر پختونخوا میں نگران دَور حکومت میں کرپشن اتنی زیادہ تھی کہ پوری کابینہ کو برطرف کرنا پڑا (پاکستان کی تاریخ میں اس سے قبل ایسا کبھی نہیں ہوا)۔ کیا جمعیت علمائے اسلام ف کو کرپشن پر کوئی اعتراض نہیں؟۔جب عام انتخابات کے ٹکٹوں کی تقسیم کی بات آئی تو آپ نے اپنے کارکنوں کو عزت دینے کے بجائے ٹکٹیں امیر اور بااثر لوگوں کو بیچ دیں۔ آپ نے جن لوگوں کو ٹکٹیں دیں وہ انتہائی بری اہمیت کے حامل تھے مثلاً مفتی کفایت اللہ جن کی بری شہرت (گردش کرنے والی نا زیبا ویڈیوز) الیکشن ہارنے کا سبب بنی۔ آپ نے ایسا کیوں کیا؟ ۔

الیکشن میں جو توقعات آپ لگا کر بیٹھے تھے وہ بہت زیادہ تھیں۔ ایوان صدر پر قبضہ، درجنوں ایم این ایز کی سیٹیں اور صوبائی اسمبلی کے اراکین کی خاصی تعداد۔ یہ ایک غیر معقول مفروضہ تھا جو کہ وسیع مقبولیت سے ہی ممکن تھا۔اور مقبولیت آپ کے پاس نہیں تھی۔ اور آپ نے اپنی مقبولیت بڑھانے کے لئے کچھ نہیں کیا۔ آپ کے پی نگران حکومت میں رہ کر اپنا لوہا منوا سکتے تھے ۔ وہ موقع آپ نے گنوا دیا! کیوں؟۔سیاسی ساکھ، مقبولیت اور الیکشن مہم کے بغیر کیا آپ کو امید تھی کہ "فرشتے” آپ کو ووٹ دیں گے؟ آپکو معلوم ہونا چاہیے کہ فرشتے ووٹ نہیں دیتے، عوام دیتے ہیں. اور آپ کو یہ مان لینا چاہیے کہ لوگوں نے آپ کو ووٹ نہیں دیا۔. یہ شاید پہلی بار ہے کہ آپ نہ تو حکومت کا حصہ بننے کی پوزیشن میں ہیں اور نہ ہی کسی کنگ میکر کی طرح ابھرے ہیں۔ لگتا ہے یہ آپ کے لئے قابل بردست نہیں۔ اگر آپ حکومت سے باہر ہیں تو کیا اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آپ آپے سے بھی باہر ہو جائیں؟

جے یو آئی ایف کے لیے حکومت سے باہر ہونا پانی سے باہر مچھلی کے مترادف ہے۔ آپ اس حالت میں زندہ نہیں رہ سکتے۔ اِسی لئے آپ نے اپنے سیاسی دشمنوں کو گلے لگا لیا ہے؟ اصولی مؤقف کہاں گیا؟. آخری لیکن سب سے ضروری بات: اگر آپ نے اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر عدم اعتماد کا ووٹ لایا تو کیا آپ سیاست میں ان کے غیر آئینی کردار کے ذمہ دار نہیں ہیں؟ یا آپ کو صرف اس وقت اعتراض ہے جب ایسا کردار آپ کے حق میں ہو؟ اگر آپ عدم اعتماد کے ووٹ کے قائل نہیں تھے تو پھر آپ عدم اعتماد کے ووٹ کا دفاع کیوں کر رہے تھے؟

جب عمران خان کی حکومت ہٹائی گئی تو انہوں نے الزام لگایا کہ اسٹیبلشمنٹ نے انہیں بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر ہٹایا ہے۔ آج جب آپ انتخابات میں بری طرح ہار چکے ہیں تو آپ بھی یہ الزام بھی لگا رہے ہیں کہ یہ سب بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر کیا گیا ہے۔ کیا آپ عمران خان 2.0 ہیں؟ کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟ کیا آپ خود کو جمہوری کہہ سکتے ہیں؟ آپ اسٹیبلشمنٹ پر سنگین الزامات لگا رہے ہیں، کیا آپ عمران خان کے مشن کو آگے بڑھانے پر تلے ہوئے ہیں؟ کیا آپ کا ایجنڈا صرف اس لیے تقسیمی ہو گیا ہے کہ آپ الیکشن ہار گئے؟ کیا ہم سازشی تھیوریوں کے سیاسی کلچر کو تقویت دینا چاہتے ہیں؟

Comments are closed.