سخت حفاظتی انتظامات میں پنجاب اسمبلی کا پہلا اجلاس‘نومنتخب اراکین نے حلف اٹھا لیا
لاہور( آن لائن ) پنجاب اسمبلی کے نومنتخب اراکین نے حلف اٹھالیا ہے‘پنجاب اسمبلی کا اجلاس سپیکر سبطین خان کی زیر صدارت دو گھنٹے تاخیر سے شروع ہواسنی اتحاد کونسل کے اراکین اور مسلم لیگ نون اور اس کے اتحادی اراکین نے ایوان کے اندر اور باہر ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی کی ‘اجلاس میں سنی اتحاد کونسل کے 97 اراکین جبکہ مسلم لیگ ن اور اس کی اتحادی جماعتوں کے 215 ممبران ایوان میں موجود تھے.حلف برداری کی تقریب کے بعد سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے اجلاس کی کارروائی میں 45 منٹ کا وقفہ کر دیا ‘اس سے قبل ن لیگ کے ارکان نے سپیکر سے حلف لینے کی استدعا کی تھی جسے سپیکر نے مسترد کر دیا تھا سنی اتحاد کونسل کے رانا آفتاب نے نقط اعتراض پر ارکان کے مہمان نہ آنے دینے پر اعتراض کیا انہوں نے کہا کہ ایک مخصوص جماعت کے لوگ مہمانوں کی گیلری میں بٹھا دیے گئے ہیں جبکہ ہمارے مہمانوں کو اندر نہیں آنے دیا گیاہمارے مہمانوں کو اندر بلایا جائے.اس پر سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ رانا صاحب آپ اپنے مہمانوں کی فہرست دیں میں ان کو اندر بلواؤں گا اسپیکر نے کہا کہ میاں اسلم اقبال کی رپورٹ منگواتا ہوں اگر وہ گرفتار ہیں تو میں ان کے پروڈکشن آڈر جاری کروں گا اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق کل ہفتہ کے روز سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا انتخاب ہوگا ایوان میں سب سے زیادہ نشستیں رکھنے والی جماعت مسلم لیگ نون اور اتحادیوں کی جانب سے سپیکر کے امیدوار مجتبیٰ شجاع الرحمان جبکہ ڈپٹی سپیکر ظہیر چنڑ ہوں گے ان کے مد مقابل سنی اتحاد کونسل کی جانب سے کسی امیدوار کا اعلان نہیں کیا گیا.سپیکر اور ڈپٹی سپیکر منتخب ہونے کے بعد وزیراعلیٰ کا انتخاب ہوگا وزیر اعلیٰ پنجاب کے لیے مسلم لیگ نون کی امیدوار مریم نواز کے مقابلے میں سنی اتحاد کونسل نے میاں اسلم اقبال کو نامزد کیا ہے‘ منتخب ہونے والے وزیراعلیٰ سے گورنر پنجاب حف لیں گے قانونی طور پر الیکشن کمیشن کی جانب سے مخصوص اور اقلیتی نشستوں پر اراکین کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد پہلا اجلاس طلب کیا جاتا ہے.گورنر پنجاب کی جانب سے اسمبلی کے پہلے اجلاس کے حوالے سے جاری کیے گئے اعلامیے کے بعد22فروری کو الیکشن کمیشن کی جانب سے مخصوص نشستوں کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا حالیہ انتخابات کے بعد ہونے والے پنجاب اسمبلی کے پہلے اجلاس کے موقعے پر سکیورٹی کے سخت انتظامات تھے اور پولیس اہلکار وں کو گزشتہ رات ہی اسمبلی کے اطراف اور احاطے میں تعینات کر دیا گیا تھا‘پنجاب اسمبلی کی کل نشستوں کی تعداد 371 ہے الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کیے گئے نتائج کے مطابق مسلم لیگ نون کو 137 جنرل، 36 خواتین کی مخصوص جبکہ پانچ اقلیتی نشستیں مل چکی ہیں‘آزاد جیتنے والے 12 اراکین بھی مسلم لیگ نون میں شمولیت اختیار چکے ہیں، اس لیے ان کے اراکین کی تعداد 190 ہو چکی ہے‘اسی طرح مسلم لیگ (ق) کو مخصوص نشستیں ملنے کے بعد اس کے 10 اراکین ہوگئے ہیں‘ پیپلز پارٹی کی کل نشستیں 11 ہوچکی ہیں‘ استحکام پارٹی کی چار، مسلم لیگ ضیا اور تحریک لبیک کی ایک ایک نشست موجود ہے‘ آزاد اراکین میں سے آٹھ ابھی تک کسی جماعت میں جانے کا اعلان نہیں کر سکے.پنجاب میں حکومت بنانے کے لیے 186 اراکین کی حمایت درکار ہوتی ہے، اس لیے عددی لحاظ سے مسلم لیگ نون کی امیدوار مریم نواز کو برتری حاصل ہے. پاکستان تحریک انصاف کی حمایت سے آزاد حیثیت میں جیتنے والے اراکین پنجاب اسمبلی کی تعداد 117 ہے، انہیں سنی اتحاد کونسل میں شامل کرنے کا اعلان کیا گیا تھا تاہم ابھی تک یہ حتمی تعداد سامنے نہیں آئی کہ کتنے اراکین نے سنی تحریک میں پنجاب سے شامل ہونے کے حلف نامے الیکشن کمیشن میں جمع کروائے ہیں دوسری جانب الیکشن کمیشن کی جانب سے خواتین کی 24 مخصوص جبکہ تین اقلیتی نشستیں سنی اتحاد کونسل کو الاٹ کرنے کا نوٹیفکیشن ابھی تک جاری نہیں کیا گیا‘الیکشن کمیشن کے قواعد کے مطابق مخصوص اور اقیلتی نشستوں کے لیے امیدواروں کی فہرست الیکشن سے قبل جمع کروانا ہوتی ہے، مگر سنی اتحاد کونسل کی جانب سے پہلے فہرست جمع نہ کروائے جانے کے باوجود یہ نشستیں دینے کا معاملہ الیکشن کمیشن میں زیر غور ہے
Comments are closed.