جج مظاہر اکبر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل کی رائے کو چیلنج کرنے کیلئے آئینی وقانونی ماہرین سے مشاورت مکمل کرلی

اسلام آباد(آن لائن )سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق جج مظاہر اکبر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل کی رائے کو چیلنج کرنے کے لیے آئینی وقانونی ماہرین سے مشاورت مکمل کرلی ہے آئندہ ہفتے سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے کوسپریم کورٹ میں چیلنج کیے جانے کاامکان ہے۔رائے کوچیلنج کرنے کے حوالے سے جسٹس ریٹائرڈ مظاہر اکبر نقوی نے کہا ہے کہ یہ یکطرفہ کارروائی تھی جس کا حصہ بننے سے میں نے انکار کر دیا تھا، قانون جج کے استعفیٰ دینے کے بعد انکوائری جاری رکھنے کی اجازت نہیں دیتا، صدر نے استعفیٰ تسلیم کر لیا جسے سرکاری گزٹ میں شائع کر دیا گیا۔اپنے بیان میں جسٹس ریٹائرڈ مظاہر اکبر نقوی نے مزید کہا ہے کہ شکایات درج کرانے سے پہلے ہی کئی کونسل ممبران نے میرے خلاف قبل از وقت کارروائی کا مطالبہ کیا، جوڈیشل کونسل استعفیٰ کو عہدے سے برطرف کرنے میں کیسے تبدیل کر سکتی ہے؟واضح رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مظاہر نقوی کو مس کنڈکٹ کا مرتکب قرار دیتے ہوئے برطرف کرنے کی سفارش کر دی۔ اعلامیہ کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل نے اپنی رائے منظوری کیلئے صدر مملکت کو بھجوا دی۔سپریم جوڈیشل کونسل نے اپنے رول 5 میں ترمیم کر دی، رول پانچ میں ترمیم کے بعد الزامات پر وضاحت دینے کا حق ججز کو دیدیا گیا۔

سپریم جوڈیشل کونسل کے اعلامیہ کے مطابق مظاہر علی اکبر نقوی کیخلاف 9 شکایات آئیں۔سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف دائر درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا جس میں لکھا گیا ہے کہ جسٹس (ر) مظاہر نقوی نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور وہ مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے ہیں۔صدر مملکت کو ارسال کی گئی سفارش میں سپریم جوڈیشل کونسل نے رائے دی کہ ہائی یا سپریم کورٹ کے ججز پر اگر الزامات عائد ہوں تو انہیں عوامی سطح پر زیر بحث لایا جا سکتا ہے۔کونسل کے مطابق کچھ ججز کی جانب سے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا اگر الزامات پر جواب دیں گے تو وہ بھی مس کنڈکٹ کے زمرے میں آئے گا۔سپریم جوڈیشل کونسل نے رائے دی کہ ججز کوڈ آف کنڈکٹ کے آرٹیکل پانچ کے مطابق ججز کو عوامی شہرت کے پیچھے نہیں بھاگنا چاہیے۔جوڈیشل کونسل نے جائزہ لے کر رائے دی کہ اگر کوئی جج اپنے اوپر لگے الزامات کی وضاحت کرتا ہے یا جواب دیتا ہے تو یہ کونسل رول پانچ کی خلاف ورزی نہیں ہوگی۔کونسل کی رائے کے مطابق ججز کی جانب سے اپنے خدشات ظاہر کرنے کے بعد جوڈیشل کونسل کے رول پانچ میں ترمیم کی جاتی ہے۔ترمیم کے مطابق کوئی جج اپنے اوپر لگے الزام کا جواب دے سکے گا، ترمیم شدہ کونسل رول پانچ کے تحت کسی تنازع یا سیاسی نوعیت کے سوال کا جواب نہیں دے گا۔صدر مملکت کو سپریم جوڈیشل کونسل نے رائے دی کہ مظاہر نقوی سابق جج سپریم کورٹ کیخلاف موصول ہونے والی 9 شکایات کا جائزہ لیا گیا اور انہیں شوکاز نوٹس جاری کر کے 14 دن میں جواب جمع کرانے کی مہلت دی گئی مگر انہوں نے اپنی صفائی میں کچھ بھی پیش نہیں کیا۔کونسل نے رائے دی کہ آرٹیکل 209 کی شق 6 کے تحت مظاہر نقوی کو مس کنڈکٹ کا مرتکب قرار دیا جاتا ہے، مظاہر نقوی کو بطور جج عہدے سے برطرف کیا جانا چاہئے تھا۔سپریم جوڈیشل کونسل کے تحریری فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ کونسل نے ججز کیخلاف 6 دیگر شکایات عدم شواہد کی بنیاد پر خارج کر دیں، بلوچستان ہائی کورٹ کے ایک جج کیخلاف شکایت کی بنیاد پر 14 روز میں جواب جمع کرانے کیلئے نوٹس جاری کر دیا ہے۔

Comments are closed.