تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی،پارلیمانی عہدوں میں اختلافات کھل کرسامنے آگئے
اسلام آباد(آن لائن)پاکستان تحریک انصاف میں پارلیمانی عہدوں میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے ، مفاہمت یا جارحانہ رویہ رکھنے کے معاملے پر تین دھڑوں میں تقسیم ہوگئی ،پارٹی میں مختلف فاورڈ بلاک بننے کا امکان ہے ،باوثوق ذرائع نے بتایا کہ پاکستان تحریک انصاف کواس وقت بیرونی چیلنجز کے بعد اندرونی چینلز کا بھی سامنا ہے جبکہ پنجاب، خیبرپختونخوا اور وفاق میں پارلیمانی عہدوں کے لئے پی ٹی آئی کے رہنماوٴں کے درمیان سرد جنگ بڑھ گئی،ذرائع کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخواہ سے تیمور سلیم جھگڑا نے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کیلئے لابنگ کی مگر ان کو ہی کابینہ میں نظرانداز کیا گیاجس سے وہ سخت ناراض ہیں اور اپنا الگ سے گروپ بنالیا ہے ،تیمور سلیم جھگڑا خیبرپختونخوا میں نظرانداز ایم پی اے کو ساتھ ملانے لگے اور ان سے خفیہ ملاقات کررہے ہیں،اس کے علاوہ خیبرپختونخوا میں سپیکر کا عہدہ بھائی کو نہ دینے پر اسد قیصر بھی نالاں ہیں اور صوبائی سطح پر سیاست پر ایکٹیو ہیں اور مختلف پارٹی رہنماؤں سے ملاقات کررہے ہیں ،ذرائع کے مطابق سینیٹ کے لیے دیئے گئے امیدواروں کے ناموں پر کارکنان اور نظریاتی رہنماء بھی ناراض ہوگئے ہیں ،ان رہنماؤں نے زلفی بخاری، حامد خان، صنم جاوید سمیت دیگر امیدواروں کے ناموں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اورکہا کہ پارٹی کے ساتھ مشکل وقت میں کھڑے ہونے والوں کو ٹکٹ جاری نہیں کئے گئے، قبل ازیں اسدقیصر بھی برملا ناراضگی کا اظہار کرچکے ہیں،اسد قیصر بھی عمر سرفراز چیمہ کو نامزد نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کرچکے ہیں
،دوسری جانب قومی اسمبلی میں بھی پارلیمانی عہدوں کے لیے لاڈلوں کو نوازنے پر پی ٹی ائی کے رہنماوٴں میں اضطراب پایا جاتا ہے، قومی اسمبلی میں اپوزیشن کے حصے میں آنے والی قائمہ کمیٹیوں کی چیئرمین شپ اور ممبرشپ کے حوالے سے مخصوص لوگوں کو نوازا جا رہا ہے،گزشتہ روز ہونے والے کور کمیٹی اجلاس میں بھی اس حوالے سے جنید اکبر سمیت مختلف رہنماوٴں نے تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ بانی چیئرمین کو جیل کی باہر کی صورتحال کے حوالے سے مکمل آگاہی نہیں دی جا رہی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ تحریک انصاف قیادت جارحانہ حکمت عملی اور مفاہمتی رویہ اختیار کرنے کے معاملے پر بھی واضح تقسیم ہے اور اس معاملے پر واضح تین دھڑے بن چکے ہیں ،کور کمیٹی بھی اختلافات دور کرنے میں تاحال ناکام ہوگئی ہے ،تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر، اسد قیصر، علی محمد خان، بیرسٹر سیف،وزیراعلی علی امین گنڈا پور مفاہمتی پالیسی کے خواہاں ہیں اور ان رہنماؤں کا کہناہے کہ بانی پی ٹی آئی کے جیل کے باہر آنے تک مفاہمتی پالیسی اختیار کرنی چاہیے ،اس وقت ملک کو اندرونی و بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے اور عوام مشکل سے دوچار ہیں تاہم تحریک انصاف کا دوسرا دھڑامفاہمتی پالیسی کے خلاف ہیں ،بیرسٹر علی ظفر، شیر افضل مروت، بیرسٹر عمیر نیازی، عامر ڈوگر، عمر ایوب جارہانہ رویہ اپنانے کے حمایتی ہیں ،ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کے تیسرا دھڑا کا موقف ہے کہ ہمیں خود سے کوئی فیصلے نہیں کرنے چاہئیں،بانی چیئرمین کے فیصلوں پر من وعن عملدرآمدکرنا چاہیے، مفاہمتی پالیسی اپنانی ہے یا جارحانہ رویہ اس کا فیصلہ عمران خان کو ہی کرنا ہے اور ہمیں ان کے فیصلوں پر لبیک کہناہوگا،ذرائع کے مطابق پارٹی کے اس تیسرے دھڑے میں علیمہ خان بھی شامل ہیں اور وہ پارٹی میں ان نظر آرہی ہیں تاہم شیر افضل مروت اور علیمہ خان میں بہت اختلافات ہیں ان کی سیاسی سوچ اور مشاورت عملی میں اختلافات کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کو دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے ہیں اور قوی امکان ظاہر ہے کہ جلد تحریک انصاف میں مختلف فاورڈ بلاک سامنے ا ٓسکتے ہیں۔
Comments are closed.