وزیراعظم شہبازشریف کی چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے ملاقات

اسلام آباد: (آن لائن) اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججز کے خط کے معاملے پر وزیراعظم شہبازشریف کی چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے ملاقات ہوئی ہے یہ ملاقات ایک گھنٹہ 25منٹ سے زائدوقت تک جاری رہی اس دوران سینئر جج سپریم کورٹ جسٹس سیدمنصورعلی شاہ بھی چیف جسٹس پاکستان کے ہمراہ تھے جبکہ وزیراعظم میاں شہبازشریف کے ساتھ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان بھی اس ملاقات میں موجودتھے۔حکومت کی جانب سے چیف جسٹس پاکستان قاضی فائزعیسیٰ کویقین دہانی کرائی گئی ہے کہ عدلیہ کی آزادی پرکوئی سمجھوتہ نہیں کیاجائیگااور اس حوالے سے عدالت کوہر طرح کی یقین دہانی کرانے کوتیارہیں جبکہ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائزعیسیی نے ٹیکس کی وصولی کے مقدمات کوجلدنمٹانے بارے حکومت استدعاکومنظور کرتے ہوئے کہاہے کہ ان مقدمات کوجلدازجلدنمٹانے کے لیے بنچوں کی تشکیل کے لیے ججزکی کمیٹی کے روبرورکھاجائیگا۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان قاضی فائزعیسیٰ اور وزیراعظم میاں شہبازشریف کے درمیان ملاقات دوبجے شروع ہوئی تھی جوکہ تین بج کربیس منٹ تک جاری رہی اس دوران ملاقات میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججز کے جوڈیشل کونسل کو لکھے گئے خط پر تبادلہ خیال کیاگیا،وزیر اعظم شہباز شریف ججز گیٹ سے سپریم کورٹ پہنچے، جہاں چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ سے ان کی ملاقات شروع ہوئی۔ذرائع نے بتایاہے کہ ملاقات میں اسلام آبادہائی کورٹ ججزکی جانب سے سپریم جوڈیشل کولکھے جانے والے خط کے ساتھ ملک کی مختلف عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات ،ججزکی خالی آسامیوں کوپرکرنے ،مقدمات کونمٹانے کی رفتار تیزکرنے میں ساتھ دینے ،عدالتوں میں ضروری اشیاء کی فراہمی کے لیے حکومت کوشش کرے گی،وزیراعظم میاں شہبازشریف نے چیف جسٹس پاکستان قاضی فائزعسیی او رجسٹس سیدمنصورعلی شاہ کویقین دہانی کرائی اور کہاکہ حکومت عدلیہ کی آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی ،عدلیہ کی آزادی پر یقین رکھتی ہے حکومت چاہتی ہے کہ عام لوگوں کے مقدمات کوجلدسے جلدسماعت کے لیے مقررکرکے ان کے فیصلے کیے جائیں وزیراعظم پاکستان نے چیف جسٹس کی توجہ 2500ارب روپے کے ٹیکسوں کی وصولی کے حوالے سے مقدمات کے فیصلے نہ ہونے پر دلائی ہے جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ وہ اس حوالے سے ججزکمیٹی سے بات کریں گے اور اس کے لیے بنچ کی تشکیل کی جائیگی۔واضح رہے کہ 26 مارچ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججز نے ججوں کے کام میں خفیہ اداروں کی مبینہ مداخلت اور دباوٴ میں لانے سے متعلق سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھا خط سامنے آیا تھا۔

Comments are closed.