دشمن نہیں چاہتا پاک چین دوستی ، تعلقات مضبوط ہوں ، وزیراعظم
اسلام آباد(آن لائن) وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ 26مارچ کو بدقسمتی سے بشام میں اندونہاک واقعہ پیش آیا جس میں 5چینی انجینئرز ہلاک ، ایک پاکستانی شہید ہوگیا،اس کے پیچھے پاکستان کے دشمن ہیں وہ نہیں چاہتے کہ پاک چین دوستی مضبوط ہو ، میں خود چینی سفارتخانے گیا ، چینی رہنماؤں اور عوام سے تعزیت کی ،یقین دلایا کہ واقعہ کی تحقیقات کرکے مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جائے گی ،چار مارچ کو وزارت عظمیٰ کا دوبارہ حلف اٹھایا دعا ہے اللہ ہماری رہنمائی فرمائے ہم چیلنجوں کا مقابلہ کرسکیں ،کابینہ معرض وجود میں آ گئی ہے ۔ پانچ سالہ منصوبہ آپ سے شیئر کر دیا ہے باقاعدہ اہداف مقرر کر دیئے ہیں ۔ وفاقی کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 26 مارچ کو بدقسمتی سے بشام میں اندوناک واقعہ ہوا جس میں 5 چینی انجینئرز ہلاک اور ایک پاکستانی شہید ہو گیا ۔ اس کے پیچھے پاکستان کے دشمن ہیں وہ نہیں چاہتے کہ پاک چین دوستی مضبوط ہو ہمارا تعاون تعلقات مثالی ہیں میں خود چینی سفارتخانے گیا چینی رہنماؤں سے عوام کے ساتھ تعزیت کی انہیں یقین دلایا کہ اس واقعہ کی تحقیقات فوری کی جائیں گی اور مجرموں کو قرار واقعہ مثالی سزا ملے گی پوری کوششں ہو گی کہ ایسا واقعہ دوبارہ نہ ہو ۔ انہوں نے کہا کہ 4 مارچ کو دوبارہ وزارت عظمٰی کا حلف اٹھایا الله سے دعا ہے کہ وہ ہماری رہنمائی فرمائے ، توفیق دے کہ ہم چیلنجوں کا مقابلہ کر سکیں کابینہ معرض وجود میں آ گئی ہے پانچ سالہ منصوبہ آپ سے شیئر کر دیا ہے باقاعدہ اہداف مقرر کر دیئے ہیں اس کی حکمت عملی ، انسانی وسائل اور حکمت عمل ہے تمام وزارتوں کو بجھوا دیئے ہیں چھ ماہ ، 100 دن اور پانچ سالہ اہداف ہیں اس کے لئے دن رات محنتگ کرنی ہے تمام وسائل استعمال کرنے ہیں اور وقت ضائع نہیں کرنا ۔ تاخیر کو ختم کرنے کے لئے ایس آئی ایف سی کا طریقہ کار اختیار کریں پیپرا رولز سے چھوٹ حاصل کر لیں تاکہ چھ ماہ کا وقت نہ لگے ۔ انسانی وسائل کی کمی لمز اور نسٹ سے لے لیں جدید دور کے تقاضوں سے آگاہی حاصل کریں ہمارے پاس اکثر قابل سیکرٹری ہیں مگر کچھ لوگوں کی کارکردگی درست نہیں ہے اچھے سیکرٹریوں کو شاباش ملے گی جو کام نہیں کرتے تو پھر قانون کا استعمال کریں گے انہیں سائیڈ لائن کر دیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ وزارتوں میں فائل ورک بہت زیادہ ہے اہداف پورے کرنے کے لئے جدید سوچ اختیار کریں ۔ احتساب اور ذمہ داروں کا مظاہرہ کرنا ہو گا یہ مجھ سے شروع ہو گا ۔ اس کے تحت اختیار استعمال کرنا ہوں گے جو اہداف مقرر کر دیئے ہیں ان پر کام شروع کر دیا ہے ۔ یہ مکمل آٹو میٹڈ ہو گا ہر وزارت کے ساتھ بیٹھوں گا ۔ سرخ فیتہ برداشت نہیں ہو گا اس کے بغیر ترقی نہیں ہو گی ۔ میں فالو اپ بھی کروں گا اور سپرویژن بھی ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ معاشی بحالی کے لئے مسلسل میٹینگ کر رہا ہوں ۔ آئی ایم ایف پروگرام تو صرف سہارا ہو گا ہمیں اپنی گروتھ بڑھانی ہے ۔
زراعت سمیت تمام شعبوں میں ترقی کرنی ہے ۔ اصلاحات لانی ہیں ۔ کابینہ تجربہ کار اور نوجوان افراد پر مشتمل ہے سب مل کر کام کریں ہمیں سبز اور معاشی انقلاب لانا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے زراعت کے میدان میں ترقی کرنی ہے ہمت نیت سوچ اچھی ہو تو راستے خود بخود ہموار ہوتے جاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا ایف بی آر کی ڈ یجیٹیلائزیشن پر بھی کام جاری ہے ۔ گژشتہ دور میں ججز اور پولیس کی تنخواہوں میں سو فیصد اضافہ کیا ۔ ابھی بھی انکا بھر پور خیال رکھا جائے گا ۔ چیف جسٹس نے معاشی استحکام کے لئے بھر پور تعاون کا یقین دلایا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پانچ سال میں ہر حال میں معاشی استحکام لانا ہے معیشت کا پہیہ چلے گا تو ہی سارا نظام ٹھیک ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات کو بڑھانا بھی اہداف میں شامل ہے ۔ انہوں نے کہا ملکی دفاع نا قابل تسخیر ہاتھوں میں ہے ۔ ملک و قوم کے لئے پاک فوج کی خدمات نا قابل فراموش ہیں ۔ شہدا اور غازی ہمارے قومی ہیروز ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وزارتوں کے لئے اہداف پر مبنی پانچ سالہ منصوبہ کابینہ ارکان کے ساتھ شئیر کر دیا بعض وزارتوں کے لئے اہداف چھ ماہ اور پانچ دن کے لئے ہیں ۔ ا ب مل بیٹھ کر اس پر عمل کریں گے ۔ ہر تین ماہ کے ا ندر رپورٹ بھی طلب کروں گا ۔ شہباز شریف نے کہا کہ ہمیں بتدریج اپنے قرضوں کو نیچے لے کر آنا ہے اور خودانحصاری کی طرف جانا ہے، آئی ایم ایف پروگرام سے ہمیں استحکام ضرور ملے گا کہ لیکن ہر شعبے میں ترقی اور روزگار کے مواقع ہمیں خود پیدا کرنے ہیں۔انہوں نے کہا کہ معیشت کا پہیہ تیزی سے چلے گا تو پاکستان آگے بڑھے گا، استحکام کے لیے ہمیں آئی ایم ایف کے دوسرے پروگرام کی ضرورت ضرور ہے، مگر کس شعبے میں کیسے ترقی کرنی ہے یہ آئی ایم ایف نہیں بتائے گا، ہمیں خود تیزی سے اقدامات اٹھانے ہوں گے۔انہوں نے بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ڈیجیٹائزیشن کے لیے مکمل پروگرام بن چکا ہے، آئندہ ماہ اس کے کنسلٹنٹس بھرتی کرلیے جائیں گے، اس کے لیے ہم نئے ججز کے خدمات حاصل کریں گے، ہوسکتا ہے نسٹ اور لمز کے ذریعے ان کا ٹیسٹ لیا جائے۔وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں سرکاری اخراجات کم کرنے ہوں گے، آئی ٹی کے شعبے میں برآمدات 25 ملین ڈالرز تک لے جانے کا خواب میرے سر پر سوار ہے، اگر ایسا نہیں بھی ہوا تو ہم اس کے قریب بھی پہنچ جائیں تو بڑی بات ہے۔انہوں نے بتایا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے ملاقات کے دوران انہوں نے مجھے یقین دہانی کروائی کہ آپ کی اچھی پالیسوں کو سپورٹ کرنے کے لیے ہم بالکل حاضر ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ میں نے چیف جسٹس سے بات کی کہ ہمارا اپیلیٹ کورٹ اور ہائر کورٹس میں اربوں روپیہ پھنسا ہوا ہے، انہوں نے مجھے کہا کہ آپ بیفکر رہیں، آپ اپنی طرف سے محکموں کو ٹھیک کریں تو ہماری طرف سے کوئی کمی نہیں ہوگی۔
Comments are closed.