ججز کے خط کا معاملہ،جسٹس ریٹائرڈ تصدیق جیلانی نے کمیشن کی سربراہی سے انکار کردیا ،بذریعہ خط وزیراعظم کو آگاہ کردیا

اسلام آباد ( آن لائن ) اسلام آباد ہائی کورٹ ججز کے جوڈیشل کمیشن کو لکھے گئے خط کے تناظر میں بننے والے کمیشن کے حوالے سے ایک اور موڑ، جسٹس (ر) تصدق جیلانی نے کمیشن سربراہی سے انکار کر دیا ،بذریعہ خط وزیراعظم کو اپنے فیصلے سے آگاہ بھی کردیا ۔کمیشن کے سربراہ بننے سے انکار پر وزیراعظم کو لکھے گئے خط میں جسٹس ریٹائرڈ تصدیق جیلانی نے کہا کہ خود پر اعتماد کرنے پر میں وزیراعظم اور کابینہ کا بے حد مشکورہوں ،چیف جسٹس اور سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ کا بھی اعتماد کرنے پر مشکور ہوں ۔

انہوں نے کہا کہ میں نے چھ ججز کا خط ، کابینہ کے ٹی او آرز اور اس سے متعلقہ آئین کا آرٹیکل 209بھی پڑھا ہے چھ ججز کا خط سپریم جوڈیشل کونسل اور اس کے چیئرمین چیف جسٹس آف پاکستان کو لکھا گیا ۔تصدیق حسین جیلانی کا خط میں مزید کہنا تھا کہ میرا کسی ایسے معاملے کی تحقیق کرنا جو کسی آئینی ادارے سپریم کورٹ یا سپریم جوڈیشل کونسل کے دائرہ کار میں آتا ہو عدالتی قواعد کی خلاف ورزی ہو گی انکوائری کے لیے طے کردہ ٹی او آرز چھ ججز کے خطوط سے مناسبت نہیں رکھتے۔چھ ججز کے خط میں کی گئی درخواست ادارہ جاتی مشاورت کے لیے ہے چھ جج صاحبان کا خط آئین کے آرٹیکل209 کے دائرہ میں نہیں آتا چیف جسٹس آف پاکستان ادارہ کے سربراہ کے طور پہ ادارہ جاتی سطح پہ معاملہ حل کر سکتے ہیں اس لئے میں اس یک رکنی انکوائری کمیشن کی سربراہی سے معذرت کرتا ہوں۔یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججوں کے خط پر انکوائری کمیشن کی تشکیل کی منظوری کے بعد سابق چیف جسٹس پاکستان تصدق حسین جیلانی کو انکوائری کمیشن کا سربراہ نامزد کیا گیا تھا۔

Comments are closed.