تحریک انصاف کاچیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کا بائیکاٹ
اسلام آباد(آن لائن) تحریک انصاف نے سینیٹ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے بائیکاٹ کر دیا۔منگل کے روز ایوان بالا میں تحریک انصاف کے سینیٹر علی ظفر نے کہاکہ اس وقت سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب غیر آئینی ہے کیونکہ خیبر پختونخوا سے سینیٹ کے ممبران کی ابھی تک نامزدگی نہیں ہوئی ہے اور ایوان نامکمل ہے انہوں نے کہا کہ ایوان ایک ہاؤس آف فیڈریشن ہے اور یہ چھوٹے اور بڑے صوبوں مین برابری قائم کرتا ہے انہوں نے کہاکہ ایوان بالا تمام صوبوں کا نمائندہ ہے اور اس میں برابرہ کی نفی نہیں کی جاسکتی ہے اور سینیٹ کے سب سے اہم اجلاس میں ایک صوبے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے اس سے فیڈریشن کو نقصان پہنچ سکتا ہے انہوں نے کہاکہ آرٹیکل 59اور آرٹیکل 60کے مطابق سینیٹ کا یہ اجلاس غیر آئینی ہے آرٹیکل 59کے مطابق یہ ایوان 96ممبران پر مشتمل ہے اور آرٹیکل 60کے مطابق مکمل ایوان ہی سینیٹ کے چیرمین اور ڈپٹی چیرمین کا انتخاب کرسکتا ہے اور اگر یہ ایوان مکمل نہ ہو تو کسی قسم کا انتخاب نہیں ہوسکتا ہے انہوں نے کہاکہ سینیٹ چیرمین اور ڈپٹی چیرمین کا انتخاب بہت اہم ہے اور یہ تین سال تک ہمارے فیصلے کرتے رہیں گے اتنے اہم عہدے پر خیبر پختونخوا سے سینیٹ کے اراکین کے انتخاب کے انہوں نے کہاکہ یہ حقیقت ہے کہ الیکشن کمیشن ہر وہ اقدام کرتا ہے جس سے ملک میں آئینی بحران پیدا ہو انہوں نے صدر اور وزیر اعظم سمیت تمام انتخابات تو کر لئے مگر جب خیبر پختونخوا میں سینیٹ ممبران کی باری آئی تو اس کو روک دیا اور اسی وجہ سے آج خیبر پختونخوا کے آدھے سینیٹر موجود نہیں ہیں
انہوں نے کہاکہ ہم کیوں اچھے بھلے انتخابات کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے انہوں نے کہاکہ ہم انتخابات میں بھرپور حصہ لینا چاہتے ہیں مگر ایسے حالات میں جب انتخابات آئین کے خلاف ہونگے ہم ان انتخابات کا حصہ نہیں رہیں گے انہوں نے التجا کی کہ اس وقت تک انتخابات کو ملتوی کیا جائے اور جب خیبر پختونخوا کے ممبران آجائیں تو اس وقت انتخابات کرالیں انہوں نے کہاکہ اس حوالے سے سیکرٹری سینیٹ کو ایک خط بھی لکھا تھا انہوں نے کہاکہ عام انتخابات بھی متنازعہ ہوئے ہیں اور ہم سینیٹ انتخابات کو کیوں متنازعہ بنا رہے ہیں سینیٹر محسن نے کہاکہ نئے ممبران کو مبارکباد ینا چاہتا ہوں انہوں نے کہاکہ اس ایوان کی حفاظت کرنا ہمارے لئے مقدم ہے انہوں نے کہاکہ اس ایوان سے عام انتخابات کو ملتوی کرنے کی قرارداد منظور کر کے اس ایوان کی جگ ہنسائی کی گئی تھی آج بھی اس ایوان کا ایک حصہ خیبر پختونخواکا حصہ نامکمل ہے اس صوبے کے عوام پہلے بھی محرومیت کا شکار ہیں اس لئے اس صوبے کے ممبران کے بغیر ہمیں یہ انتخاب نہیں کرنا چاہیے انہوں نے کہاکہ اگر آج اس کو ملتوی کیا جائے تو اسمیں کیا قباحت ہے اور اس سے ساری دنیا میں یہ پیغام جائے گا کہ پاکستان میں ایک اور غیر آئینی انتخابات ہوئے ہیں انہوں نے کہاکہ ہم اس غیر آئینی انتخابات کا حصہ نہیں بننا چاہیے انہوں نے کہاکہ اس وقت دنیا بہت آگے جاچکی ہے اور ہم بہت پیچھے ہیں انہوں نے کہاکہ آج کا دن یہ ثابت کرے گا کہ یہ حکومت اس آئین کو بالا دست رکھنا چاہتی ہے یا اپنی پارٹی کی ہدایات کو توقیت دینا چاہتی ہے آج کے دن حق اور ناحق کا فیصلہ ہوگا انہوں نے کہاکہ آج ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم ریاست کو بچائیں گے یا اپنی سیاست کو بچائیں گے اور اگر ہم نے فہم و فراست سے فیصلہ نہ کیاتو اس کے ثمرات ہمیشہ ملیں گے۔(اعجاز خان )
Comments are closed.