ہارے ہوئے جانور کی آخری پکار۔۔۔

اسلام آباد(آن لائن)
آج کی نیازی کی بھڑکیں ایک خود پسند (Narcissist), frustrated اور desperate انسان کی ہیں جو ہمیشہ اپنے آپ کر شمع محفل بنانا چاہتے ہے پر اب اس کو کوئی موم بتی بھی نہیں بناتا۔ایک چیز تو پکی ہے کہ ہر آنے والے دن اب ایک نئی بچگانہ، اشتعال انگیز اور بھونڈا بیان سننے کو ملے گا۔ کیونکہ بلی اب اپنے بچے مارنے کے مقام پر پہنچ چکی ہے۔

صاحب کے مطابق ملک میں جمہوریت نہیں تو پھر کے پی کی حکومت اور وفاق میں اپوزیشن لیڈر کیا مارشل لاء والوں نے دیے۔ دراصل اس کی لغت میں جمہوریت کا معانی ہے کہ ڈونکی راجہ ہی سر پر تاج سجائے بیٹھے۔ مطلب میں نہیں تو کچھ نہیں۔

آج تو اس پنجاب پولیس کا درد بھی جاگا جس کے افسران کی تصاویر لگا کر ان کو دھمکیاں دلواتا ہے، اس کے وکلا ، جن میں بھانجا حسان بھی شامل ہے وہ بیشتر دفعہ پولیس کی سرعام درگت بنا چکے۔ مطلب یہاں بھی محبت اپنے فائدے کی۔ آئین و قانون کی اہمیت صرف جب بہتر گھر نما جیل ملے جس میں جم، مشقتی اور دیسی ککڑ ہوں اور بیگم صاحبہ بنی گالہ میں آرام کی جیل کاٹیں۔ جبکہ خود جب چاہا اس کو پیروں تلے روند دے۔

ڈیفالٹ کی بات کرتے شرم بھی نہیں آتی اسے۔خیبر پختونخواہ کو دس سالوں میں گیارہ سو ارب کا مقروض کر دیا، اب ان کے پاس تنخواہیں دینے کو کچھ نہیں۔ وہ دن بھول گیا جب اس کا وزیر داخلہ اور وزیر خزانہ کھلے عام IMF معائدے کو سبوٹاژ کرتے پکڑے گئے۔ جب اس نے 2018 میں حکومت سنبھالی تو پاکستان G 20 میں شامل ہونے کی نوید سنا رہا تھا لیکن اس کی حکومت کے اختتام تک بات ڈیفالٹ تک پہنچ چکی تھی ۔ اب تکلیف ہی یہ ہے کہ چیزیں کس طرح درست ہو رہی ہیں اسلیے اس کی بات کھسیانی بلی والی ہے جو کھمبا نوچنے کی کوشش کر رہی ہے۔

جنرل باجوہ کے بعد جنرل سید عاصم منیر کی خلاف اس کی بکواسیات یہ چیز ثابت کرتی ہیں کہ یہ فرد واحد کے نہیں بلکے ادارے کے خلاف ہے۔ اسلیے حکومت کو چاہیے کہ اس جانور کو نکیل ڈال کے رکھے ورنہ یہ ایک اور نو مئی کرانے کے درپے ہے۔سعودی دورے اور اس کے بے نظیر ثمرات سے یہ معاشی دہشتگرد اتنی بھوکلاٹ کا شکار ہیں کہ انہوں نے اپنا شیرو چھوڑ دیا جو سعودی لیڈر شپ پر بھونک رہا ہے کے وہ ڈر جائیں۔ ان کی مرچوں میں اضافے کے لیے صرف اتنا ہی کہ یہ تو شروعات ہے، آنے والے دنوں میں اس سے کئی زیادہ ترقی آ رہی ہے۔ ابھی تو محمد بن سلمان نے آنا ہے، مطلب یہ بتیس ارب ڈالر ٹریلر ہیں پکچر ابھی باقی ہے انشاللہ۔ حکومت اور فوجی قیادت کے لیے اس کی حیثیت اس ٹوٹے چھتر کے مانند ہے جس کو آگ لگا کر پھینک دیا جاتا ہے۔ اس کی باتوں پر کوئی بھی غور نہیں کرتا کیونکہ کتے بھونکتے رہتے ہیں کاروان چلتا رہتا ہے۔ یہ خود ہی چیخ چیخ کر آخر اپنا سر دیوار پر مار کر پھوڑ دے گا۔

Comments are closed.