اسلام آباد ہائیکورٹ کی پرویز الہٰی کی صحت سے متعلق میڈیکل رپورٹ اورپمز ہسپتال انتظامیہ کو بھی اڈیالہ جیل کا دورہ کرکے رپورٹ پیرکو پیش کرنے کی ہدایت

اسلام آباد ( آن لائن )اسلام آباد ہائیکورٹ نے پرویز الہٰی کی صحت سے متعلق میڈیکل رپورٹ اورپمز ہسپتال انتظامیہ کو بھی اڈیالہ جیل کا دورہ کرکے پرویز الہٰی کی رپورٹ پیرکو پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ جسٹس ارباب طاہرنے ریمارکس دیے ہیں کہ پرویز الہٰی اب ہمارے قیدی نہیں ہیں ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے،۔ گھر میں نظر بندی کا اختیار وفاقی یا صوبائی حکومت کے پاس ہے کیا عدالت ہاوٴس اریسٹ کے لیے ہدایات جاری کرسکتی ہے اس بارے بھی عدالت کوبتایا جائے۔ انہوں نے یہ ریمارکس گزشتہ روز دیے ہیں۔ تحریک انصاف کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کو اڈیالہ جیل سے کہیں اور منتقل نہ کرنے کیلئے دائر درخواست پر سماعت کے دوران جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہاکہ پرویز الٰہی کی پسلیاں فریکچر ہونے کی رپورٹ پمز ہسپتال کی ہے،رپورٹ کہتی ہے کہ پرویز الٰہی کواسٹنٹ ڈلے ہوئے ہیں، سانس لینے میں مشکل ہے، آپ کے اور میرے والدین بھی ہیں، ہم سب کو انسانیت کے ناطے بھی دیکھنا ہوگا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں پرویز الٰہی کو اڈیالہ جیل سے کہیں اور منتقل نہ کرنے کیلئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی،نمائندہ اڈیالہ جیل نے کہاکہ پرویز الٰہی کو سکیورٹی وارڈٹو میں رکھا گیا ہے،وکیل نے کہاکہ جیل میں تو ڈسپرین کی گولی بھی نہیں ملتی، کسی اچھے ہسپتال منتقل کیا جائے،جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہاکہ پرویز الٰہی کی پسلیاں فریکچر ہونے کی رپورٹ پمز ہسپتال کی ہے،رپورٹ کہتی ہے کہ پرویز الٰہی کواسٹنٹ ڈلے ہوئے ہیں، سانس لینے میں مشکل ہے، آپ کے اور میرے والدین بھی ہیں، ہم سب کو انسانیت کے ناطے بھی دیکھنا ہوگا۔جسٹس ارباب طاہر نے استفسار کیا کہ کیا عدالت پرویز الٰہی کو جیل سے ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دے سکتی ہے؟وکیل قیصرہ الٰہی نے کہا کہ اسی ہائیکورٹ نے شاندانہ گلزار اور شہریار آفریدی کو ہاؤس اریسٹ کرنے کا حکم دیا تھا،جسٹس ارباب طاہر نے کہاکہ ان دونوں کو تھری ایم پی او میں نظربند کیا گیا، وہ الگ معاملہ تھا،پرویز الٰہی اب ہمارے قیدی نہیں ہیں ہم نے یہ چیزیں بھی دیکھنی ہیں، ہاؤس اریسٹ کا اختیار وفاقی یا صوبائی حکومت کے پاس ہے،عدالت نے کہاکہ ا?ئندہ سماعت پر بتائیں کہ کیا عدالت حکومت کو ہاؤس اریسٹ کیلئے ڈائریکشن دے سکتی ہے؟بعد از عدالت نے اس حوالے سے تفصیلات مانگتے ہوئے سماعت 22 اپریل تک ملتوی کر دی۔

Comments are closed.