اسلام آباد (آن لائن)پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان نے کہا ہے کہ چین کے صدر کا دورہ پاکستان کے دوران قیدی نمبر 804 کے لوگوں نے انتشار پھیلایا اور اب ایرانی صدر کے دورے کے دوران بھی ان لوگوں کو یہی ارادہ ہے،پیپلز پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ اس جماعت کو غنڈہ گردی کی اجازت نہیں دینگے۔ وہ یہاں سینیٹر شہادت اعوان کے ساتھ پریس کانفرنس کررہی تھیں ،انہوں نے کہا کہ آج ایک تاریخی دن ہے آج ایران کے وزیر اعظم پاکستان آئے ہیں،ایران نے اسرائیل کو اس ہی کی زبان میں سبق سکھایا،ہماری جماعت کی جانب سے ان کو خوش آمدید کہا جاتا ہے،ایک جماعت پاکستان میں ایسی ہے جو مفاہمت نہیں چاہتی،پارلیمنٹ میں جب صدر پاکستان نے اپنے خطاب میں بار بار مفاہمت کی پیشکش کی،مگر اپوزیشن نے ہر بار مفاہمت سے انکار کیا
،پہلے بھی پاکستان میں جب چین کے صدر نے آنا تھا تو قیدی نمبر 804 کے لوگوں نے انتشار پھیلایا جس کی وجہ سے وہ دورہ کینسل ہوگیا،انہوں نے کہا کہ اب جب ایران کے صدر پاکستان میں ہیں تب بھی قید نمبر 804 کے لوگوں کا یہی ارادہ پھر سے ہے۔مگر اس پر ہم چپ نہیں بیٹھیں گے۔پلوشہ خان نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی نے فیصلہ کیا کہ اس جماعت کو غنڈہ گردی کی جازت نہیں دیں گے،یہ جس زبان میں بات کریں گے انہی کی زبان میں انکا مقابلہ کریں گے،اگر یہ اس روش کو جاری رکھتے ہیں کہ تو انکا نقصان اس سے بھی زیادہ ہوگا۔اس موقع پر سینیٹر شہادت اعوان نے کہا کہ پارلیمانی سال شروع ہونے پر صدر خطاب کرتا ہے،پہلی دفعہ پارلیمنٹ میں باجے بجائے گئے،ملک و قوم نے دیکھاکس قسم کے لوگ پارلیمنٹ میں بھیجے،صدر آصف علی زرداری کا خطاب مدلل تھا،انکے بانی لیڈر کتنے مقدمات میں عدالتوں سے سزا پاچکا ہے،نکاح کیس، توشہ خانہ کیس جیسے کیسز میں سزا پائی،میں ذاتی الزام نہیں لگاوٴں گا، ٹیریاں کیس سب کے سامنے ہے،صدر آصف علی زرداری نے اپنے خطاب میں پائہ دار پیغام تھا،انہوں نے کہا کہ ملک کی قسمت ہے کہ اس نے اپنے اختیارات پارلیمنٹ کو دئیے،میڈیا ایک اہم ستون ہے،انشاء اللہ اس ملک کیں جمہوریت بہتر طور پر چلے گی۔
Comments are closed.