ایران کے صدرتین روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے
اسلام آباد (آن لائن) ایران کے صدرڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی پاکستان کے تین روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے،نورخان ایئربیس پروفاقی وزیر میاں ریاض حسین پیرزادہ اوردیگر حکام نے ان کا پرتپاک استقبال کیا،اس موقعے پربچوں نیروایتی اندازمیں ایرانی صدرکوپھول پیش کئے۔ ایران کے صدر ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی کو وزیراعظم ہاؤس آمد پر مسلح افواج کے دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔ وزیراعظم ہاؤس میں ایرانی صدر کی آمد پر باضابطہ استقبالیہ تقریب منعقد ہوئی۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایران کے صدر کا پرتپاک خیر مقدم کیا جس کے بعد انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ ایرانی صدر نے گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے قومی ترانے بھی بجائے گئے۔ وفاقی کابینہ کے ارکان کا ایران کے صدر کے ساتھ تعارف کرایا گیا۔ ایرانی صدر نے اپنے وفد کے ارکان کو بھی وزیراعظم محمد شہباز شریف سے متعارف کرایا۔ ایرانی صدر اور وزیراعظم شہباز شریف نے ارتھ ڈے کی مناسبت سے پودا بھی لگایا۔
قبل ازیں وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ایرانی صدر نے ملاقات کی ،اس موقع پر ایرانی سفیر اور دیگر اعلی حکام بھی موجود تھے ،ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون سے متعلق امور پر تبادلہ خیال ہوا،بعد ازاں دفترخارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہاگیا ہے کہ ایرانی صدر تین روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے ہیں ،یہ کسی بھی ایرانی صدر کا گذشتہ 8 برس میں پہلا دورہ پاکستان ہے،فروری میں ہونے والے انتخابات کے بعد پاکستان کا دورہ کرنے والے پہلے عالمی سربراہ ایرانی صدر ہیں،ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور ایران میں دیرینہ تعلقات ہیں،ہماری کوشیش ہے کہ اب پاک ایران تعلقات کو مزید فروغ دیں،ایرانی صدر کا دورہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے،ایرانی صدر پاکستانی قیادت اور راہنماوں سے ملاقاتیں کریں گے،فریقین کے درمیان زیر غور آنے ولی سب سے اہم چیز باہمی تجارت ہو گی، اہم معاملات میں غور ہو گا کہ کسطرح پاکستان اور ایران مل کر اپنے اپنے عوام کی بہتری کے کیے کام کر سکتے ہیں،ملاقاتوں میں تجارت و سرمایہ کاری، سرحدی منڈیوں پر بات چیت ہو گی،دونوں ممالک کی قیادت سیکیورٹی اور درپیش دہشت گردی کے مشترکہ چیلنج پر تبادلہ خیال کرے گی،دونوں ممالک ہی دہشت گردی کا شکار رہ چکے ہیں،اس کے علاوہ علاقائی صورتحال, غزہ کی صورتحال اور بین الاقوامی تبدیلیوں پر بات ہو گی۔
Comments are closed.