نگران وزیراعظم کی طرح نگران وفاقی کابینہ بھی بڑا سرپرائز ، اپنے دیئے نام شامل نہ ہونے پر کئی "ہاتھی” برہم ، صرف پروفیشنلز اور ایکسپرٹس شامل کیئے گئے
اسلام آباد :نگران وزیراعظم کی طرح نگران وفاقی کابینہ بھی بڑا سرپرائز ، اپنے دیئے نام شامل نہ ہونے پر کئی “ہاتھی” برہم ، صرف پروفیشنلز اور ایکسپرٹس شامل کیئے گئے۔ چلے ہوئے کارتوسوں کو ملک و قوم کا مزید بیڑہ غرق کرنے کا موقع بالکل نہیں دیاجا رہا، ابھی مزید پالیسی سرپرائز بھی آئیں گے ، ذرائع کا دعوی
نگران وفاقی کابینہ کا اعلان تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماں اور کارکنوں کے ساتھ ساتھ میڈیا کے بڑے بڑے جغادری تجزیہ کاروں پر بھی بجلی بن کر گرا ہے کہ جس طرح نگران وزیراعظم کے حوالے سے سامنے آنے والے تمام نام وقت آنے پر کوڑے دان میں پڑے تھے اسی طرح نگران وفاقی کابینہ کے حوالے سے باخبر حلقے جو نام دے رہے تھے جب کابینہ کا اعلان ہوا ہے تو ان میں سے اکثر نام غالب ہیں اور یہ کہا جا رہا ہے کہ نگران وزیراعظم کی طرح نگران کابینہ بھی “بڑا سرپرائز” ثابت ہوئی ہے اور سامنے آنے والے ان سرپرائزز کا سلسلہ ابھی مزید آگے بڑھے گا اور نگران حکومت کی ترجیحات ، پالیسیوں اور اقدامات کے حوالے سے بھی اب تک جتنے تجزیئے کیئے گئے تھے ان کا حشر بھی نگران وزیراعظم اور نگران کابینہ کے حوالے سے پیشگی خبروں جیسا ہوگا ، انتہائی باخبر حلقوں کا دعوی ہے کہ اپنے پیش کیئے ہوئے ناموں کو نگران وفاقی کابینہ میں شامل نہ کیئے جانے پر سابق حکمران اتحاد کے کئی بڑے ہاتھی خاصے ناراض ہیں
ذرائع کا کہنا ہے کہ بہت سے نام رد ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ چلے ہوئے کارتوسوں کو ملک و قوم کا مزید بیڑہ غرق کرنے کا موقع دینے پر بالکل تیار نہیں ، اس لیئے انتہائی پروفیشنل ٹیکنوکریٹس پر مشتمل نگران کابینہ میں ہر شعبہ کے ایکسپرٹس شامل کیئے گئے ہیں اور بارہا آزمائے گئے پرانے مداریوں کو فارغ کر دیا گیا ہے ، ذرائع کا کہنا ہے کہ چونکہ عام انتخابات التوا کا شکار ہو گئے ہیں اور نئی مردم شماری کے مطابق نئی حلقہ بندیوں کی وجہ سے الیکشن کمیشن نے عام انتخابات 90 دن میں کروانے سے دوٹوک اظہار معذوری کر دیا ہے اس لیئے نگران وفاقی حکومت کا اب تمام تر فوکس معیشت کی بحالی پر ہو گا اور مسلسل سیاست سیاست کھیلنے کی وجہ سے ملکی معیشت کا جو بیڑہ غرق ہو چکا ہے اس افسوسناک طرزعمل سے نجات ملتی دکھائی دے رہی ہے ،
نئی نگران کابینہ میں پی ڈی ایم کی رکن جماعتوں کو سابق حکومت کے دوران ملنے والے شیئر کی مناسبت سے کوٹہ ملنے کی افواہیں بھی دم توڑ گئی ہیں ، ذرائع کا کہنا ہے کہ کچھ بڑے پولیٹیکل ہیوی ویٹس نے بڑے بڑے طاقت ور امیدواروں کو اقتدار کا جھولا دلوانے کی بیش قیمت ڈیلز کر رکھی تھیں، نگران حکومت کے لیے بنائی گئی پالیسی میں اس میجر شفٹ کی وجہ سے ان پرکشش ڈیلز پر بھی پانی پھر گیا ہے نگران کابینہ میں جلیل عباس جیلانی وزیر خارجہ ، ڈاکٹر شمشاد اختر وزیر خزانہ ، احمد عرفان اسلم وزیر قانون ، ڈاکٹر ندیم جان وزیر صحت ، شاہد اشرف تارڑ وزیر مواسلات ، مرتضی سولنگی وزیر اطلاعات ، سرفراز بگٹی وزیر داخلہ ، لیفٹننٹ جنرل (ر ) انور علی حیدر وزیر دفاع ، انیق احمد وزیر مذہبی امور ، جمال شاہ وزیر ثقافت ، ڈاکٹر عمر سیف وزیر آئی ٹی مقرر کیئے گئے ہیں ، محمد سمیع بھی وفاقی کابینہ میں شامل ہیں ، اعجاز گوہر وزیر تجارت و صنعت ، مدد علی سندھی وزیر تعلیم ، مشعال ملک معاون خصوصی ، وصی شاہ معاون خصوصی ثقافت مقرر کیئے گئے ہیں ،
صدر مملکت نے تین مشیروں کی بھی منظوری دے دی ہے ، ائیر مارشل ریٹائرڈ فرحت حسین خان ، احد خان چیمہ اور وقار مسعود خان مشیر برائے وزیر اعظم مقرر کیئے گئے ہیں۔ یہ سارے نام ایسے ہیں جو اپنے اپنے شعبوں کو بہترین پیشہ وارانہ انداز میں چلانے اور درپیش چیلنجز سے نمٹنے کا فن جانتے ہیں۔ سب سے بڑی بات یہ تمام شخصیات اپنی اپنی سیاس و دیگر نوعیت کی وابستگیوں کو ایک طرف رکھ کر قومی مفاد میں فیصلوں کے حوالے سے بھی جانی جاتی ہیں۔








Comments are closed.