شاید باجوہ صاحب غلط بیانی کر رہے ہیں، ان چیزوں میں میرا کوئی ہاتھ نہیں ہے ساری چیزیں ان کی منظوری سی ہوتی رہی ہیں،محسن جمیل بیگ
اسلام آباد(آن لائن )سینئر صحافی و معروف تجزیہ نگار محسن جمیل بیگ نے کہا ہے کہ میرے خیال میں شاید باجوہ صاحب غلط بیانی کر رہے ہیں اور وہ کہ رہے ہیں کہ ان چیزوں میں میرا کوئی ہاتھ نہیں ہے ساری چیزیں ان کی منظوری سی ہوتی رہی ہیں میں ان چیزوں کا عینی شاہد ہوں
،یونیفارم اگر پہن کے اگر تھوڑی سیاست میں حصہ لیتے ہیں جب یونیفارم اتر جاتی ہے میں اس بیک راؤنڈ میں کہہ رہا ہوں جب مشرف جتنے فعال صدر اور آرمی چیف رہے ،وردی میں سیاست کرنا بہت آسان ہے ،جب آپ وردی اتر دیں تو پھر یہ سیاستدان آپ کو بھاگنے کا موقع نہیں دیں گے،پاکستان میں سیاست بہت مختلف ہے ،میں سمجھتا ہوں کہ وہ غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں ،یونیفارم کے بغیر الیکشن لڑنا ہے تو آیئے اور الیکشن لڑیں ان کو آزادی دیں الیکشن لڑنے کی ،ان کو پتا چلے کہ حلقے کی سیاست کیا ہوتی ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ باوجوہ صاحب اپنی پارٹی بنا سکتے ہیں جس طرح مشرف صاحب نے اپنی پارٹی بنائی تھی دور سے سیاست بہت اچھی لگتی ہے ،جب حلقہ کی سیاست کرنا ہو تو وہ مختلف ہوتی ہے ،بیانات دیکر آپ جان نہیں چھڑا سکتے ہیں ،جب عمران خان کی حکومت ختم ہوئی تو یہ چاہتے تھے کہ الیکشن ہوں لیکن الیکشن نہیں ہو سکے تھے کیونکہ مردم شماری ہونا تھی جس میں چار پانچ ماہ لگنے تھے ،جو لوگ بھی وردی میں ہیں اور سیاست میں ہیں وہ اپنے آنے والی نسل اور مستقبل پر تھوڑا سا غور کرنا چاہئے ،بغیر وردی کے آپ پاکستان میں رہیں گے تو پھر آپ لوگوں کو پتہ چلے گا کہ لوگ کیا کہتے ہیں
،بہت قصے ہیں اور بہت سی چیزیں ہیں یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے بغیر بھی آپ سیاست نہیں کر سکتے ہیں اور ان کا حال بھی دیکھ لیں گے کہ ان کے بغیر ان کا کیا حال ہواہے ،حقیقت پسند ہونا چاہئے جو بات آپ کریں سچی کریں اور آدھا سچ نہ بولیں ،جو بتانا ہے تو کھل کر بتائیں کہ سچ ہے کیا میڈیا میں کچھ نہیں ہوگا ،سنی سنائی باتیں پارلیمنٹ کی کمیٹی سے بھی کچھ نہیں نکلے گا کیونکہ حمام میں سب ننگے ہیں انہوں نے کہاکہ میرے اور آپ کے کچھ کہنے سے کچھ نہیں ہوگا ،کسی فورم پر ان لوگوں نے نہیں آنانہ اس کو یہ اس کا طریقہ سے دفاع کر سکیں ، یہ عدالتوں میں پیش نہیں ہوتے فیض صاحب کو دو جگہ پر بلایا گیا وہ خود پیش نہیں ہوئے ،حقیقت یہ ہے کہ ان کو بلا کر پوچھ کر کیا کر لیں گے ،انہوں نے اپنے بندوں پر سویلین سائیڈ پر کوئی کیس نہیں کرنے دیا یہ حقیقت ہے اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا،پارلیمنٹ اتنی مضبوط نہیں ہے کہ ان کو بلا کر فیصلہ کرے اس کو مانے گا کون شامی صاحب پاس باجوہ گئے ہیں شامی نے سوال کیا ہوگا کہ آپ نے یہ کام کیا ہے انہوں نے خود ہی بتایا ہوگا آپ ذرا بتا دیں ، آرام ان کو بھی نہیں ہے بھائی آرام سے بیٹھیں آپ کو ٹائم ملے گا آپ فری ہونگے عوام ہی بتا سکتی ہے کہ آپ سچ بول رہے ہیں یا نہیں ،
Comments are closed.