پاکستان نے بلیسٹک میزائل پروگرام سے متعلق امریکی لسٹنگ پر اپنا ردعمل دے دیا

اسلام آباد ( آن لائن )پاکستان نے بلیسٹک میزائل پروگرام سے متعلق امریکی لسٹنگ پر اپنا ردعمل دے دیا ،ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے کہا کہ پاکستان نے امریکہ کو اپنے تحفظات سے متعلق انہیں آگاہ کردیا ہے اپنے لسٹنگ بلا ثبوت اور دوہرے معیار کیساتھ ناقابل قبول ہیں ۔ اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ایسی متنازعہ لسٹنگ نان پرولیفیکیشن کے بیانیہ کو بھی متاثر کرتی ہیں پاکستان نے اپنے ردعمل میں کہا کہ ایسے لسٹنگ بلا ثبوت اور دوہرے معیار کے ساتھ ناقابل قبول ہیں اس حوالے سے انہیں مکمل طور پر آگاہ کردیاگیا ہے ۔ترجمان نے کہا کہ افغانستان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات پر افغان حکا م کو مسلسل آگاہ کرتے ہیں دوحہ معاہدے کے تحت افغان عبوری حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے ہم چاہتے ہیں افغان عبوری حکومت یقینی بنائے کہ پاکستان کے خلاف انکی سرزمین استعمال نہ ہو۔ ممتاز زہرابلوچ نے کہا کہ انفرادی سطح پاک بھارت تعلقات کے مذاکرات کی ذمہ داری نہیں سونپی جاسکتی فی الوقت وزارت خارجہ کو بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات نارمل کئے جانے کی کوئی اطلاع نہیں ہے پاکستان کی بھارت کے ساتھ تجارت پر پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے پاکستان کے اپنے ہمسایہ ملک ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران پاکستان سرحدی علاقوں میں تجارت سے مقامی لوگوں کو فائدہ ملے گا بارڈر مارکیٹ سے مقامی تجارت مستفید ہوسکیں گے۔ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان مختلف ذرائع سے بات چیت ہوتی رہتی ہے پاکستان اپنے ہمسائے ممالک کے ساتھ امن سیکورٹی اور خوشحالی کی خاطر تعلقات قائم رکھنا چاہتا ہے پاکستان اپنی قومی مفاد میں فیصلہ کرتا ہے بین الاقوامی صورتحال اور اقوام متحدہ کی جانب سے پابندیوں کو مدنظر رکھا جاتا ہے پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کی خاطر بات چیت جاری رکھے گا ۔ ترجمان نے کہا کہ ایرانی صدر نے پاکستان کا دورہ کیا جو سات سال میں پہلا دورہ تھا پاکستان اور ایران ایک دوسرے کے قیدیوں کو رہا کرینگے دونوں فریقین کے غزہ اور کشمیر پر ایک جیسے خیالات تھے ۔بریفنگ میں ترجمان نے مزید کہا کہ وزیر اعظم وزیر خارجہ کے ہمراہ ورلڈ اکنامک فورم میں شرکت کرینگے ایرانی صدر کے دورے پر آئی پی گیس پائپ لائن پر بات ہوئی ہے پاکستان کو توانائی کی اشد ضرورت ہے ، ترجمان ہم مختلف آپشن پر غور کررہیں تاکہ توانائی کی ضرورت پوری ہوسکے ۔ایرانی صدر کے دورہ پاکستان پر امریکی ردعمل پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ امریکی کی جانب سے کچھ بیانات جاری کیے گئے ہم امریکہ کے ساتھ رابطے میں ہے اور توانائی کی ضروریات پر بات ہوئی ہے پاکستان اور افغانستان کے. دیرینہ تعلقات ہیں دونوں ممالک کے مابین کمیونیکیشن کے چینلز موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہہم کثیر الجہتی فورم پر کہہ چکے ہیں کہ افغانستان دوحہ معاہدے پر اپنی ذمہ داریاں مکمل کرے کسی نجی فرد کو بھارت سے تعلقات معمول پر لانے کی کوئی ذمہ داری نہیں سونپی گئی بھارت کے ساتھ کسی قسم کے بیک ڈور مزاکرات نہیں چل رہے۔

Comments are closed.