ایوان بالا اجلاس، اراکین نے نگران دور حکومت میں یوکرین سے گندم کی درآمد کے معاملے کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کردیا
اسلام آباد(آن لائن) ایوان بالا میں اراکین نے نگران دور حکومت میں یوکرین سے گندم کی درآمد کے معاملے کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا ہے اراکین نے بلوچستا ن اور خیبر پختونخوا میں آمن و آمان کی مخدوش صورتحال اور مہنگائی سمیت عوام کو درپیش مسائل کے حل کیلئے فوری اقدامات اٹھانے پر زور دیا ہے۔سوموار کے روز سینیٹ اجلاس کے دوران بات کرتے ہوئے سینیٹر مولانا عطاء الرحمن نے کہاکہ ملک میں آمن و آمان کی صورتحال خراب ہے ہمیں اپنے فیصلے پارلیمنٹ پر نافذ نہیں کرنے چاہیے اگر یہی رویہ رہا تو پھر کہا جائے گا کہ یہ ملک سیاستدانوں کی وجہ سے تقسیم ہورہاہے انہوں نے کہاکہ اس قو م اور ملک کی آزادی میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار کیا ہے آج جو ہمارے سروں پر مسلط ہیں ان کا اس ملک کیلئے کیا کردار ہے انہوں نے کہاکہ اس ملک کی ترقی کیلئے سیاستدانوں کیلئے آگے آنا چاہیے اور قوم جو کہہ رہی ہے اس کو تسلیم کیا جائے انہوں نے کہاکہ بتایا جائے کہ اس ملک میں کونسا قانونی اسلام کے مطابق بنایا گیا ہے سینیٹر انوشہ رحمن نے کہاکہ سوشل میدیا کے حوالے سے قوانین میں تبدیلی کی ضرورت ہے انہوں نے کہاکہ ایوان بالا کو ایسے تمام قوانین کو دیکھنا چاہیے سینیٹر نسیمہ احسان نے کہاکہ گوادر میں حالیہ سیلاب زدگان کو جو امداد فراہم کی گئی ہے وہ کم ہے مذید امداد فراہم کی جائے انہوں نے کہاکہ آج اس ایوان میں جو باتیں کی جارہی ہیں ہم بلوچستان والے ایسی باتیں نہیں کر سکتے ہیں اگر ہم ایوان میں مسنگ پرسنز کے حوالے سے بات کریں تو کہا جاتا ہے کہ خاموش ہوجائیں
انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے مسائل کو سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے سینیٹر عون عباس پبی نے کہاکہ نگران دور میں یوکرین سے گندم منگوا کر اس ملک کے کسانوں کو شدید نقصان پہنچایا گیا اور اس وجہ سے آج کسان سڑکوں پر ہیں اور کسی نے اس سسٹم میں رہ کر 85ارب روپے کمائے انہوں نے کہاکہ نگران دور میں چور پنجاب اور وفاق کی حکومت میں بیٹھا تھا اس کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے انہوں نے کہاکہ اس معاملے پر سیکرٹری فوڈ کو بلا کر باز پرس کی جائے اور تمام معاملات کی انکوائری کی جائے انہوں نے کہاکہ اس ایوان میں ایسا کچھ ہونے والے ہے جس کا چیرمین سینیٹ کو بھی نہیں پتہ ہے اس ایوان میں ججزکی مدت ملازمت میں توسیع دینے کے حوالے سے قانون سازی لائی جانے والی ہے اور تحریک انصاف اس کی حصہ نہیں بنے گی اس موقع پر سینیٹر عرفان الحق صدیقی نے کہاکہ ایسی کوئی بات نہیں ہے کہ ججز کی مدت میں توسیع کی جارہی ہے اور اگر اس طرح کی کوئی چیز لائی جائے گی تواس پر سب بحث کریں گے انہوں نے کہاکہ ججز کے خلاف تضحیک امیز پراپیگنڈے کی شدید مذمت کرتے ہیں سینیٹرحاجی ہدایت اللہ خان نے کہاکہ کئی روز سے سننے میں آرہا ہے کہ حکومت شمسی توانائی پر بھی ٹیکس لگانے کا ارادہ رکھتی ہے انہوں نے کہاکہ اگر حکومت بجلی بلوں میں ریلیف نہیں دے سکتی ہے تو شمسی سسٹم پر بھی ٹیکس لگانے سے گریز کرے سینیٹر منظور کاکڑ نے کہاکہ تمام صوبے ہمارے لئے محترم ہیں ہمیں ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہیے انہوں نے کہاکہ ہم خود اس عوام کے ساتھ ظلم کر رہے ہیں ہمیں عوام کی بہتری کیلئے سوچنا ہوگا سینیٹر جان محمد نے کہا کہ سیلاب کی موجودہ صورتحال میں این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے کی کارکردگی بہت ناقص رہی ہے انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے طلباء کیلئے پورے ملک کی یونیورسٹیوں میں نشستیں محتص کی گئی تھی اس پر عمل درآمد کیا جائے انہوں نے کہاکہ بتایا جائے کہ سی پیک کے منصوبوں میں بلوچستان کو کیا فائدہ پہنچ رہا ہے گوادر میں ہونے والے معاہدوں سے وہاں کے عوام کو کچھ بھی نہیں مل رہا ہے اور اس قسم کے معاہدوں سے وفاق اور صوبوں کے مابین خیلج مذید زیادہ ہوجائے گاسینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہاکہ ملک کو سنگین مسائل کا سامناہے اور ملک دولخت ہونے کی سمت جارہا ہے انہوں نے کہاکہ خیبر پختوا اور بلوچستان میں شورش بہت زیادہ ہے انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں جو الیکشن ہوا ہے اس پر پوری دنیا میں باتیں ہورہی ہیں انہوں نے کہاکہ اس ملک کو بچانے کیلئے حقیقی نمائندوں کا اسمبلیوں میں موجودگی ضروری ہے انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں وسائل کے غلط استعمال کو روکنا ہوگا افسوس ہے کہ جب سیاستدان کرسی تک پہنچ جاتا ہے تو اس کیلئے سب کچھ ٹھیک ہوتا ہے انہوں نے کہاکہ اگر کوئی ان نتائج کو تسلیم کرے گا تو اس کا مستقبل میں جو حشر ہوگا وہ سب دیکھیں گے انہوں نے کہاکہ بلوچستان احساس محرومی کا شکار ہے بلوچستان کے مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے سینیٹر ندیم بھٹو نے کہاکہ ملک کو صحیح سمیت میں لے جانے کیلئے اقدامات اٹھانے ہونگے ۔۔۔۔
Comments are closed.