مئی پر جوڈیشل کمیشن بنایا جاے یہ 9 مئی کا ڈرامہ محسن نقوی اور آئی جی پنجاب نے رچایا 9

اسلام آباد(آن لائن ) سابق سپیکر قومی اسمبلی و رکن سنی اتحاد کونسل اسد قیصر نے کہا ہے کہ ہم پارلیمٹ کی مضبوطی ، آزاد عدلیہ آئین و قانون کی بالادستی چاہتے ہیں۔ ہمیں جلسے کیوں نہیں کرنے دیئے جا رہے کس وجہ سے ہمیں دیوار کے ساتھ لگایا جا رہا ہیں۔ اس ملک تین وزیر اعظم ہیں محسن نقوی سب سے طاقتور ہیں۔ ان خیالات کا اظہار اسد قیصر نے پوائنٹ آف آرڈر پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے لوگوں کے خلاف دفعہ 144 ہے پر چے کاٹے گئے ہیں میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کوئی آئین و قانون نہیں ہے یا جنگل کا قانون ہے پنجاب میں ہمارے ایم این ایز گرفتار کیا گیا ہے کیا سپیکر سے اجازت لی گئی ہے ہمیں بتایا جاے، پی ٹی آئی جب جلسہ کرتی ہے تو دفعہ 144 لگا دی جاتی ہے۔ یہ مسترد شدہ لوگ بیٹھے ہوے ہیں خاص طو ر پر کراچی والے۔

ہم کراچی لاہور میں جائیں گے۔ اگر ہمارے ساتھ ایسا رویہ رکھا گیا تو اسمبلی نہیں چلے گی۔ میں مطالبہ کرتا ہوں 9 مئی پر جوڈیشل کمیشن بنایا جاے یہ 9 مئی کا ڈرامہ محسن نقوی اور آئی جی پنجاب نے رچایا ہے وہ زمہ دار ہیں۔ ہم پارلیمٹ کی مضبوطی ہو آزاد عدلیہ ہو آئین و قانون کی بالادستی چاہتے ہیں۔ ہمیں جلسے کیوں نہیں کئے جانے دہیے جا رہے ہم پھر اسمبلی نہیں چلنے دیں گے۔ گندم کے حوالے سے کہا کہ گندم کا بحران ہے اس ایک دن مقرر کیا جاے۔ پی ٹی آئی کسانوں کے احتجاج میں بھر پور شرکت کریں گے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما قادر پٹیل نے کہا کہ یہ وہی قانون ہے جب ہم ساری ساری رات ہم سابق سپیکر قومی اسمبلی کے دفتر کے سامنے بیٹھے رہتے تھے پروڈکشن آرڈر کے لے آپ چلے جاتے تھے شاید یہ وہی قانون ہو سکتا ہے۔ آپ تو تیاری کررہے ہیں کہ جیل پر حملہ کر کے اپنے قائد کو چھوڑوانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آج ہم دیکھ رہے کس طرح احتجاج ہو رہے ہیں۔ چار سال ہمیشہ موقع ملا، ان کے درمیان قرعہ اندازی ہونی چاہیے کوئی کہتا ہے میں چیرمین ہوں میں سابق سپیکر ہوں میں نے بات کرنی ہے۔ چیرمین بنے پی ٹی آئی کے اور شامل ہو گئے سنی اتحاد میں۔یہ آن لوگوں کی صورت حال ہے

Comments are closed.