شہزاد اکبر اور ڈیوڈ روز کا گٹھ جوڑ

اسلام آباد( آن لائن)سب سے پہلے بات کرتے ہیں شہزاد اکبر کے ساتھی اور پارٹنر ان کرائم ڈیوڈ روز جس کا تعلق  صیہونی لابی سے ہے اور وہ اسکا حصہ ہے جو کہ اسکے پاکستان مخالف سٹانس کی واضح دلیل ہے۔۔ یہودی پیروکاروں سے پاکستان کے لیے شر ہی کی توقع کی جا سکتی۔ اور اسکے کچھ کارنامے پاکستان کے حوالے سے آپ کو بتاتے ہیں۔

ڈیوڈ روز نامی اس شخص نے برطانوی اخبار ڈیلی میل کے 2019 کے ایک آرٹیکل میں شہباز شریف پر زلزلہ زدگان کے لیے بھیجی گئی برطانوی امداد کو ہڑپ کرنے کا الزام لگایا تھا، اور اس وقت بانی پی ٹی آئی عمران خان کی حکومت تھی، آرٹیکل میں الزام لگایا گیا تھا کہ شہباز شریف اور ان کے خاندان نے 2005 کے تباہ کن زلزلے کے متاثرین کے لیے برطانیہ کے محکمہ برائے بین الاقوامی ترقی (DFID) کی جانب سے فراہم کی گئی 500 ملین پاؤنڈ ($612 ملین) سے زیادہ کے فنڈز کا غلط استعمال کیا جب وہ پنجاب، پاکستان کے وزیراعلیٰ تھے۔ جس پر شہباز شریف کی جانب سے برطانوی ہائی کورٹ میں ہتک عزت کا کیس کیا گیا تو کوئی بھی الزام ثابت نہ کر پانے پر ڈیلی میل اخبار کی جانب سے تمام الزامات واپس لئے گیے اور شریف خاندان سے معافی مانگ لی تھی۔

ڈیوڈ روز کے جھوٹوں کی داستان ابھی ختم نہیں ہوئی، اس مکار صحافی کی وجہ سے ڈیلی میل برطانوی نژاد پاکستانی ٹیکسی لائسنسنگ آفیسر واجد اقبال کے خلاف تقریباً 1.2 ملین پاؤنڈ (244 ملین روپے) کا ہتک عزت کا مقدمہ ہار گیا تھا۔واجد اقبال جن پر مئی 2017 میں صحافی ڈیوڈ روز کے لکھے گئے ایک آرٹیکل میں روچڈیل میں پیڈو فائل ٹیکس ڈرائیوروں کے لیے "فکسر” کے طور پر کام کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ 44 سالہ واجد اقبال نے ڈیلی میل پر مقدمہ دائر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہتک آمیز آرٹیکل نے ان کی زندگی تباہ کر دی ہے، جس سے وہ اینٹی ڈپریسنٹ پر انحصار کرتے ہیں، بے روزگار ہو گئے ہیں۔ اس نے عدالت کو بتایا تھا کہ ڈیلی میل نے اسے اس کے پاکستانی بیکگراونڈ ، اس کے نسلی پس منظر کی وجہ سے اسکو نشانہ بنایا – اسے جھوٹی کہانی بنانے کے لیے ایک مکروہ اسکینڈل سے جوڑ دیا۔ لیکن ڈیلی میل یہ کیس ہار گیا تھا۔

ایسے ہی براڈ شیٹ کیس کسی سے ڈھکا چھپا ہے نہیں ۔براڈ شیٹ کے سی ای او کا کہنا تھا کہ ڈیوڈ روز نے شہزاد اکبر کے ساتھ انکی ملاقات کا اہتمام کیا، براڈشیٹ کے سی ای او موساوی کا کہنا ہے کہ ڈیوڈ روز نے ان سے £250000 کمیشن ادا کرنے اور پاکستان کے 30 ملین امریکی ڈالر کے واجب الادا رقم کو حل کرنے میں مدد کے لیے اپنا کمیشن ادا کرنے کو کہا۔ اس کیس میں ڈیوڈ روز نے اپنی جیب گرم کرنے کی اسکیم کی ۔ براڈشیٹ ایل ایل سی کے مالک کاویح موسوی نے ڈیلی میل کے رپورٹر ڈیوڈ روز کو لندن ہائی کورٹ میں ہتک عزت کا دعویٰ کرنے کے لیے چیلنج کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ ڈیوڈ روز نے ان سے 250,000 پاؤنڈ کمیشن طلب کیا تھا اور جب بات اگے نہ بڑھ سکی تو وہ اس کے ساتھ بگڑ گیا اور تعلقات خراب ہو گئے تھے۔

یہ دیوڈ روز اور شہزاد اکبر دونوں ہر کام میں ملے ہوتے ہیں، اور دونوں پارٹنرز ان کرائم ہیں، شہزاد اکبر ہمیشہ ڈیوڈ روز کے پیچھے چھپتا ہے اسکا سہارا لیتا ہے۔اور انکے تانے بانے zionist یہودی لابیوں سے ملتے ہیں۔ یہ لوگ یہودیوں کے ٹاوٹس ہیں جو ان کے ایجنڈوں پر پاکستان کے خلاف کام کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Comments are closed.