فیصلہ پسند آئے تو جج ٹھیک ‘پسند نہ آئے تو جج کالی بھیڑیں بن جاتے ہیں؟جسٹس مندوخیل ناراض برہم
اسلام آباد( آن لائن)نیب ترامیم کیس میں جسٹس جمال مندوخیل کے سابق وزیراعظم عمران خان اور موجودہ وزیراعظم پاکستان بارے گلے شکوے کرتے ہوئے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ وزیر اعظم نے ہمیں کالی بھیڑیں کہا،فیصلہ پسند آئے تو جج ٹھیک ‘پسند نہ آئے تو جج کالی بھیڑیں بن جاتے ہیں؟باقیوں کا مجھے پتہ نہیں میں اخبار،سوشل میڈیا اور ٹی وی بھی دیکھتا ہوں۔ سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف حکومتی اپیلوں پر سماعت ہوئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 5رکنی لارجر بنچ نے اپیلوں پر سماعت کی ،بانی پی ٹی آئی ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے۔اس دوران جسٹس جمال مندوخیل نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ وزیر اعظم نے ہمیں کالی بھیڑیں کہا،فیصلہ پسند آئے تو جج ٹھیک پسند نہ آئے تو جج کالی بھیڑیں بن جاتے ہیں؟باقیوں کا مجھے پتہ نہیں میں اخبار،سوشل میڈیا اور ٹی وی بھی دیکھتا ہوں۔اس پراٹارنی جنرل منصور اعوان نے کہاکہ موجودہ ججز کے بارے میں ایسا نہیں کہا گیا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ ہمیں سابق وزیر اعظم بانی پی ٹی آئی اور حکومت سے بھی گلہ ہے،جب حکومت تبدیل ہوتی ہے تو مخالفین پر مقدمات بنا دیئے جاتے ہیں،دائیں سائیڈ والے بائیں سائیڈ جائیں تو نیب کو انکے خلاف استعمال کیا جاتا ہے،پارلیمنٹ اپنے مسائل خود حل کیوں نہیں کرتی،سپریم کورٹ میں ایسے مقدمات کیوں لائے جاتے ہیں،پارلیمنٹ سزا کم رکھے یا زیادہ خود فیصلہ کرے یہ اس کا کام ہے،سپریم کورٹ تو صرف قانون کے آئینی ہونے یا نہ ہونے کا جائزہ لے سکتی ہے۔
Comments are closed.