انڈسٹری بند ہوگئی ہے بزنس مین بھاگ رہاہے ،لوگ پریشان ہیں،محسن جمیل بیگ

اس وقت عدلیہ میں جو تقسیم ہے جو نظر آ رہا ہے یہ بڑا خوفناک عمل ہے ۔عدالت میں یہ تناؤ ریاست کیلئے بہتر نہیں ہے اور ملکی مفاد بھی نہیں ہے،نجی ٹی وی پروگرا م میں گفتگو

اسلام آباد(آن لائن)معروف تجزیہ نگار و صحافی محسن جمیل بیگ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ میں عمران خان کو براہ راست ٹیلی کاسٹ نہیں کرنا چاہئے اگر آپ کے وکلا ء موجود ہیں تو پھر کیا ضرورت ہے وہ بات کریں ۔عام طور پر ججز کسی کو بات نہیں کرتے دیتے ہیں اس کیلئے الگ سے برتاؤ ہے ۔اطہر من اللہ صاحب کا پہلے سے اختلاف پیدا ہو ا تھا اسے لایا جائے کیوں لایا جائے پھر دوسروں کو بھی لایا جائے اصل میں ہمارے ہاں دوہرا معیار ہے ۔جو بندہ پسند آ جائے اس کے دلائل بھی بہت ہیں ۔ اس وقت عدلیہ میں جو تقسیم ہے جو نظر آ رہا ہے یہ بڑا خوفناک عمل ہے ۔
عدلیہ میں یہ تناؤ ریاست کیلئے بہتر نہیں ہے اور ملکی مفاد بھی نہیں ہے۔نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھاکہ ججز کو بھی سوچنا چاہئے اس سے پہلے جو چیف جسٹس صاحبان تھے وہ کس قسم کا ایکٹ کر رہے تھے ۔ عدلیہ کون سے قانون کو فالو کرتی ہے ،آئین پاکستان کو فالو کرتے ہیں ،ہماری عدلیہ 142ویں نمبر پر ہے ہماری وجہ سے نہیں بلکہ اپنے کنڈکنٹ کیوجہ سے ہے۔بانی پی ٹی آئی کو براہ راست ٹی وی پر لانا کون سا عوامی مفاد کا معاملہ تھا ۔عوامی مسائل میں تو سو مسائل ہیں جن کا ذکر تک نہیں کرتے ہیں ۔ اس ملک میں عدلیہ ایک حصہ ہے اس کے علاوہ بہت سے لوگ ہیں جو ریاست توڑنے اور انتشار پھیلانے میں برابر کے شریک ہیں انہوں نے کہا کہ تقسیم اتنی زیادہ ہے کہ اس کے مقابلے میں لوگ اوپن ہوگئے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ جب اسے لائیو لانا تھاکہ جسٹس اطہر من اللہ نہیں مانے ۔ انہوں نے کہاکہ آج تک ایک نظیر دکھا دیں کہ ایک بندہ جیل سے وڈیو لنک کے ذریعے آیا ہو یہ سپیشل ٹریٹمنٹ ہے مقصد یہ ہے کہ ایک شخص کیلئے آپ ایک نیا قانون بنا رہے ہیں ۔
پوری دنیا میں سب سے زیادہ اس پر بحث ہو رہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ صبح اٹھیں تو کورٹ کورٹ کیسز کیسز ہوتے ہیں کورٹ کورٹ چل رہا ہوتا ہے ہر بندہ اپنا موقف دے رہا ہوتاہے پوری قوم کو آپ نے ہیجان میں مبتلا کر دیا ہے ۔صبح شام کیسز ہی کیسز ہیں اور اس ملک میں کام ہی نہیں رہا ہے ۔ماشاء اللہ انڈسٹری بند ہوگئی ہے بزنس مین بھاگ رہا ہے ا ،لوگ پریشان ہیں اور ملک میں کوئی انٹرٹیمنٹ ہی نہیں صرف یہی رہ گئی۔اس کے بعد بھی اگر آپ کہیں یہ ملک سیدھا ہو سکتا ہے تو میں سمجھتا بہت مشکل ہے ۔

Comments are closed.