عدالتی نہیں غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ پر پابندی ہے،، چیف جسٹس عامر فاروق
اسلام آباد (آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ نے عدالتی رپورٹنگ پر پابندی کیخلاف پریس ایسوسی ایشن سپریم کورٹ اوراسلام آباد ہائیکورٹ جرنلسٹ ایسوسی ایشن کی درخواست پر سماعت گیارہ جون تک ملتوی کرتے ہوئے فریقین سے دلائل مانگ لیے ہیں۔عدالت نے مقدمات کے حوالے سے ذمہ دارنہ رپورٹنگ کی اجازت دے دی ہے۔چیف جسٹس عامرفاروق نے ریمارکس دیے ہیں کہ عدالتی رپورٹنگ پر کوئی پابندی نہیں ہے، میڈیا عدالتی کارروائی کو رپورٹ کرسکتا ہے، پابندی رپورٹنگ پر نہیں غیر زمہ دارانہ رپورٹنگ پر ہے۔انھوں نے یہ ریمارکس بدھ کے روزدیے ہیں۔چیف جسٹس عامرفاروق نے پریس ایسوسی ایشن اور پی ایف یو کی درخواستوں پر سماعت کی درخواست گزار فیاض محمود ، رضوان قاضی اور عقیل افضل عدالت میں پیش ہوئے
،اس دوران چیف جسٹس نے کہاکہ عدالتی رپورٹنگ پر کوئی پابندی نہیں ہے، میڈیا عدالتی کارروائی کو رپورٹ کرسکتا ہے، پابندی رپورٹنگ پر نہیں غیر زمہ دارانہ رپورٹنگ پر ہے انھوں نے مزیدکہاکہ صرف سنسنی خیز ٹکر چلانے پر مسئلہ ہوتا ہے ، اس دوران پیمرا نے عدالت میں جواب جمع کروا دیا۔درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر عمر اعجازِ گیلانی اور اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کے صدر ریاست علی آزاد عدالت میں پیش ہوئے ،عدالت کا ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسارکیاکہ کیا وفاقی حکومت کا اس معاملے سے تعلق ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل نے کہاکہ یہ پیمرا کا معاملہ ہے وفاقی حکومت کا تعلق نہیں ہے ، بیرسٹر عمر اعجاز گیلانی نے کہاکہ پیمرا نے جس قانون کا سہارا لیا ہے اس میں زیر سماعت مقدمات رپورٹ کرنے پر پابندی نہیں ہے، اس پر عدالت نے آئندہ سماعت پر حتمی دلائل طلب کرلئے ہیں اورکیس کی سماعت گیارہ جون تک ملتوی کردی۔
Comments are closed.