وزیراعظم شہباز شریف کا گریٹ ہال آف دی پیپل پہنچنے پر پرتپاک استقبال ، گارڈ آف آنر پیش
بیجنگ( آن لائن ) وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف سے چینی وزیراعظم لی چیانگ کی وفود کی سطح پر ملاقات، اہم معاملات پر ایک دوسرے کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ، مختلف شعبوں میں شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لئے 23 مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط، شہباز شریف کا پاکستان میں چینی باشندوں اور منصوبوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ، دونوں فریقوں نے اعلیٰ سطح کے تبادلوں کو برقرار رکھنے پر اتفاق بھی کیا، دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے بھی خصوصی طورپر شرکت کی ۔ گریٹ ہال آف دی پیپل پہنچنے پر وزیراعظم شہباز شریف کے پرتپاک استقبال کیاگیا ان کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب کا اہتمام اور پیپلز لبریشن آرمی کے دستے کی جانب سے گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ زیراعظم نے گریٹ ہال آف دی پیپل میں چین کے وزیراعظم عزت مآب لی چیانگ سے وفود کی سطح پر ملاقات کی وزیراعظم کے ہمراہ ان کی کابینہ کے اہم ارکان بھی تھے۔ملاقات کے دوران، دونوں رہنماوٴں نے دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلووٴں پر تبادلہء خیال کیا اور باہمی دلچسپی کی علاقائی اور عالمی پیش رفت پر بھی بات چیت کی۔ دونوں رہنماوٴں نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ پاک چین آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ ،جو کہ باہمی اعتماد اور مشترکہ اصولوں پر مبنی ہے، وقت کو ساتھ مزید مضبوط ہو رہی ہے۔ وزیراعظم لی نے وزیراعظم شہباز شریف کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب ہونے پر مبارکباد دی۔
دونوں رہنماوٴں نے اہم معاملات پر ایک دوسرے کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کی اعلیٰ معیار کی ترقی کے لیے مسلسل عزم اور حمایت کا اظہار کیا۔ انہوں نے باہمی فائدہ مند اور پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے صنعت، زراعت کی جدید کاری، سائنس اور ٹیکنالوجی اور خصوصی اقتصادی زونز پر خصوصی توجہ کے ساتھ تمام جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ سی پیک کو اپ گریڈ کر کے مزید تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق ہوا۔ دونوں فریقوں نے گوادر شہر کی سی پیک کے ایک اہم ستون کے طور پر اہمیت پر تبادلہء خیال کیا اور گوادر کو علاقائی اقتصادی مرکز میں تبدیل کرنے کے لیے تمام متعلقہ بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی بروقت تکمیل پر اتفاق کیا۔ انہوں نے سی پیک کے مخالفین کے خلاف اپنے پختہ عزم کا بھی اظہار کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم شہباز نے پاکستان میں چینی باشندوں اور منصوبوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں فریقوں نے اعلیٰ سطح کے تبادلوں کو برقرار رکھنے پر اتفاق کیا جس میں تمام سطحوں اور دو طرفہ تعاون کے تمام شعبوں میں ادارہ جاتی روابط کو مضبوط کرنا شامل ہے۔ پاکستان اور چین علاقائی اور عالمی اہمیت کے مسائل اور کثیر الجہتی فورمز پر بھی قریبی مشاورت جاری رکھیں گے خاص طور پر پاکستان کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر رکن کے طور پر دو سالہ دور کے دوران اس مشاورت میں اضافہ کیا جائے گا۔ دریں اثناؤفود کی سطح پر بات چیت کے بعد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کی تقریب ہوئی، جس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف اور وزیراعظم لی کیانگ نے شرکت کی۔ تقریب کے دونوں ممالک کے درمیان ٹیلی ویژن ، فلم، ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر، صنعت، توانائی، زراعت، ، صحت، سماجی، اقتصادی ترقی اور باہمی دلچسپی کے دیگر شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لئے 23 مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کیے گئے ۔ ملاقات کے بعد وزیر اعظم لی چیانگ نے وزیر اعظم کے اعزاز میں ایک ظہرانے کا اہتمام بھی کیا۔
Comments are closed.