لندن پلان ہماری سیاست کا ایک بیانیہ بن گیا ہے، محمد زبیر

اسلام آباد( آن لائن) پاکستان مسلم لیگ ن کے سابق رہنماء محمد زبیر کا کہنا ہے کہ عدم اعتماد سے 2 ماہ پہلے قمر باجوہ کی نوازشریف سے گفتگوشروع ہوگئی تھی،پتہ چلا تھا لندن میں باجوہ کی نوازشریف سے ایک دوملاقاتیں بھی ہوئی تھیں، لندن پلان ہماری سیاست کا ایک بیانیہ بن گیا ہے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سابق رہنماء ن لیگ نے کہا کہ جنرل (ر) باجوہ نے نواز شریف کو کہا کہ عدم اعتماد سے ڈیڑھ سال پہلے بانی پی ٹی آئی کو تختہ کر رہا تھا، جس پر نواز شریف نے مجھے کہا کہ پتہ نہیں آپ نے کیسے مس کمیونی کیشن کیا۔باجوہ کو کمٹمنٹ میں تو نہیں دے سکتا تھا ظاہر ہے قیادت ہی دے گی۔ باجوہ کو کمٹمنٹ کے معاملے کے آرکیٹکٹ شہباز شریف تھے۔ نوازشریف اورمریم نوازکی ہدایت پرمیری اہم شخصیت سے ملاقات ہوئی تھی

، دونوں نے کہا تھا کہ اس ملاقات کا کسی کو بھی پتہ نہیں چلناچاہیے یہاں تک کہا تھا کہ شہباز شریف کو بھی پتہ نہیں چلنا چاہیے۔شہباز شریف نے بعد میں مجھ سے کہا کہ آپ نے اس ملاقات کے متعلق مجھے نہیں بتایااس پر شہبازشریف نے اظہار ناراضگی بھی کیا تھااوراسی وقت ہمارے تھوڑے تعلقات خراب ہوئے تھے میں آج بھی افسوس کرتا ہوں کہ کبھی بھی اس میٹنگ میں نہیں جاناچاہیے تھا۔نوازشریف اورمریم نواز نے کہاکہ یہ نہیں بتانا کس نے ملاقات کیلئے بھیجا، ن لیگ ممبران مجھے جھاڑتے تھے کہ آپ ہیں کون اس قسم کی ملاقاتیں کرنیوالے۔سب مجھے برا کہہ رہے تھے کچھ دن بعد نوازشریف نے مجھے ترجمان بنادیا۔گفتگو کے دوران محمد زبیر نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کیلئے نوازشریف کی سوچ انتہائی ناپسندیدہ کی ہے جبکہ مریم نوازکی بانی پی ٹی آئی سے متعلق سوچ نفرت انگیز ہے۔ میری شہبازشریف سے کبھی بھی نہیں بنتی تھی کیونکہ شہباز شریف اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کیساتھ ٹکراو کا ذمہ دار مجھے سمجھتے تھے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ن لیگ کو فیض حمیدسے بھی ڈرایاجاتاتھا۔ ن لیگ نے دھڑلے سے کہاکہ ریاست کو بچانے کیلئے سیاست قربان کی۔ ن لیگ نے کیوں ایسے فیصلے کئے جس کی وجہ سے سیاست قربان کرنا پڑی۔

Comments are closed.