ایوان بالا میں اپوزیشن لیڈر سینیٹر شبلی فراز کی آپریشن عزم استحکام کی مخالفت
اسلام آباد(آن لائن) ایوان بالا میں اپوزیشن لیڈر سینیٹر شبلی فراز نے آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ اس سے پہلے بھی کئی اپریشن ہوئے ہیں مگر دہشت گردی ختم نہ ہوسکی انہوں نے کہاکہ ملک میں استحکام قانون کی عمل داری اور آئین پر عمل درآمد میں ہے حکومت بانی پی ٹی آئی کو رہا کرے۔سوموار کو ایوان بالا میں نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ ایپکس کمیٹی میں اپریشن عزم استحکام کا فیصلہ کیا گیا ہے انہوں نے کہاکہ ہم نے پہلے بھی ملٹری اپریشنز دیکھے ہیں اور وہاں پر جتنی بھی شہادتیں ہوئی ہیں وہ سب پاکستانی ہیں اوران کی جانیں بہت اہم ہیں انہوں نے کہاکہ گذشتہ کچھ عرصے سے فوجی جوانوں کی شہادتوں میں اضافہ ہوا ہے ایسے وقت میں اپریشن عزم استحکام کی سمجھ نہیں آرہی ہے کہ اس کو کس طرح سے دیکھیں انہوں نے کہاکہ اگر ملک میں استحکام لانا ہے تو اس کیلئے اپریشن کی ضرورت نہیں بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے جو عام طور پر معاشی اور آمن وآمان کی ایک شاخ ہے انہوں نے کہاکہ استحکام اس وقت تک نہیں آئے گا جب تک کہ اس ملک میں قانون اور آئین کی بالادستی اور عوام کے حقیقی مینڈیٹ کی واپسی نہ ہو انہوں نے کہاکہ جو استحکام ہم حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ حاصل کر ہی نہیں سکتے ہیں اس کیلئے شفاف انتخابات کی ضرورت ہے جو کہ نہیں ہوا اس بار کا الیکشن بہت زیادہ دھاندلی زدہ تھا اور ملک کی سب سے بڑی پارٹی کے لیڈر پر سیاسی مقدمات بنا کر جیل میں ڈالا گیا اسی طرح دیگر لیڈر شپ کو بھی جیلوں میں ڈال کر نشان عبرت بنایا جارہا ہے انہوں نے کہاکہ پاکستان کی تاریخ میں اتنے سیاسی قیدی نہیں تھے جو آج ہے پنجاب پی ٹی آئی کے کارکنوں کیلئے کربلہ بنا ہوا ہے وہاں پر فسطائیت اور ڈکٹیر شپ ہے اور کارکنوں پر جھوٹے پرچے درج ہوتے ہیں اس طرح کے حالات میں نہ ملک میں استحکام آسکتا ہے اور نہی معاشی بہتری آسکتی ہے انہوں نے کہاکہ جو مقدمات بنائے گئے ہیں وہ ایک مذاق ہے انہوں نے کہاکہ انتخابات پر اربوں روپے خرچ کئے گئے مگر شفاف انتخابات نہیں کرائے گئے اور اس کی ذمہ دار الیکشن کمیشن ہے ایسے حالات میں استحکام کیسے آسکتا ہے انہوں نے کہاکہ فارم 46والوں سے نہ تو بجٹ بن سکا ہے اور ان کے اتحادی بھی شکایت کر رہے ہیں
انہوں نے کہاکہ ایک جانب دہشت گرد ہمارے فوجیوں پر حملے کر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب جمہوریت کے لبادے میں گدھ بیٹھے ہوئے ہیں ایوان بالا میں کس طرح سے کمیٹیاں بنائی گئی ہیں یہ شرم کا مقام ہے انہوں نے کہاکہ ایوان بالا کو بھی مذاق بنا دیا گیا ہے اور اپوزیشن کو دیوار سے لگا دیا گیا ہے وقت کسی کا نہیں رہتا ہے اور جو نئے معیار بنا دئیے گئے ہیں وہ کل آپ پر بھی لاگو ہونگے انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس کوئی اخلاقی قوت نہیں ہے یہ بجٹ کس نے بنایا ہے ایسے حالات میں کوئی بھی ناجائز حکومت ان مسائل کو حل نہیں کر سکتی ہے انہوں نے کہاکہ 1ارب ڈالر گندم درآمد کی کوئی انکوائری نہیں ہوئی ہے اور ہم ڈالر کیلئے در بدر پھر سکتے ہیں ایسے میں استحکام نہیں آسکتا ہے ملکی استحکام قانون پر عمل درآمد میں ہے شفاف انتخابات میں ہے انہوں نے کہاکہ آج جس صورتحال سے دوچار ہیں وہ ہماری اپنی بنائی ہوئی ہے یہ سارے مسائل یہاں پر ہیں جس ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی ہو وہاں پر کوئی بھی ملکی استحکام ختم نہیں کر سکتا ہے انہوں نے کہاکہ ملک جل رہا ہے مگر حکومتی اراکین قہقہے لگا رہے ہیں ان کو شرم آنی چاہیے انہوں نے کہاکہ حکمرانوں کے دل میں چور ہیں ہمیں اس ایوان کی عزت اور وقار کی بحالی کیلئے اقدامات اٹھانے چاہیے چیرمین کو کسی سیاسی جماعت کا ساتھ نہیں دینا چاہیے ملک میں قانون کی بالا دستی ہونی چاہیے انہوں نے کہاکہ ملکی مسائل کا ایک ہی حل ہے کہ بانی پی ٹی آئی پر بنائے گئے جھوٹے اور سیاسی کیسز ختم کرکے رہا کریں اور ہمیں ہمارا مینڈیٹ واپس کریں انہوں نے کہاکہ اس ملک کو بانی پی ٹی آئی نے اکھٹا رکھا ہوا ہے ملک کا استحکام عمران خان کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور وہی استحکام لاسکتا ہے۔۔۔۔اعجاز خان
Comments are closed.