تحریک انصاف کا اسلام آباد میں ہونے والا جلسہ منسوخ کرنے کا اعلان
ہائی کورٹ میں جج موجود نہیں تھے ہم نے یہی سوچا تھا کہ اجازت لے کر جلسہ کریں گے‘بیرسٹر گوہر
ملک میں گورننس نام کی کوئی چیز نہیں‘ عمر ایوب
آئین سے ماورا آرڈر کس قانون کے تحت دیا جارہا ہے؟ بندوق کے زور پر ملک نہیں چلایا جاسکتا‘ اسد قیصر
چیئرمین بیرسٹر گوہر کی پارٹی کے سینئر رہنماوں عمر ایوب، علی محمد خان، اسد قیصر، رؤف حسن اور دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس
اسلام آباد(آن لائن)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے آج اسلام آباد میں ہونے والا جلسہ منسوخ کرنے کا اعلان کردیااورچیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے دعوی کیا ہے کہ حکومت چند دنوں کی مہمان ہے جس کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی، تحریک انصاف کا جلسہ عاشورہ کے بعد ہوگا‘ ہائی کورٹ میں جج موجود نہیں تھے ہم نے یہی سوچا تھا کہ اجازت لے کر جلسہ کریں گے۔ سیکرٹری جنرل عمر ایوب نے کہا کہ ملک میں گورننس نام کی کوئی چیز نہیں۔ سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ آئین سے ماورا آرڈر کس قانون کے تحت دیا جارہا ہے؟ یقین رکھتے ہیں کہ ملک کو آئین اورقانون کے تحت چلائیں، بندوق کے زور پر ملک نہیں چلایا جاسکتا۔پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے اسلام آباد میں پارٹی کے سینئر رہنماوں عمر ایوب، علی محمد خان، اسد قیصر، رؤف حسن اور دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے جلسہ ملتوی کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ ہم نے آج کا جلسہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ جلسہ آئین کے تحفظ کے لیے تھا۔ چار مہینے بعد ایک این او سی جاری ہوا تھا۔ڈپٹی کمشنر یا چیف کمشنر کے کہنے سے این او سی معطل نہیں ہوسکتا۔ ہم نے پھر بھی قانون کا سہارا لیتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ ہائی کورٹ میں جج موجود نہیں تھے ہم نے یہی سوچا تھا کہ اجازت لے کر جلسہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے آج اپنی سیاسی کمیٹی کا اجلاس بلایا، آج ہمارا ون پوائنٹ ایجنڈہ تھا کہ جلسہ اسلام آباد میں منعقد ہونے جارہا تھا،
یہ جلسہ آئین کے تحفظ کے لیے تھا، ہم نے آج فیصلہ کیا ہے جلسہ منسوخ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 4 مہینے بعد ایک این او سی جاری ہوا تھا، ڈپٹی کمشنر ہو یا چیف کمشنر کے کہنے سے این او سی معطل نہیں ہو سکتا، ہم نے پھر بھی قانون کا سہارا لیتے ہوئے درخواست دائر کردی ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہفتے کی وجہ سے جج موجود نہیں تھے، ہم نے یہی سوچا تھا کہ اجازت لیکر جلسے کریں گے۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ حکومت چند دنوں کی مہمان ہے جس کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی، تحریک انصاف کا جلسہ عاشورہ کے بعد ہوگا۔چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ حکومت کونہیں مانتے تاہم بانی پی ٹی آئی کی ہدایت کے مطابق حکومت کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں شرکت کریں گے۔قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل عمر ایوب نے کہا کہ ملک میں گورننس نام کی کوئی چیز نہیں۔اس موقع پر سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ آئین سے ماورا آرڈر کس قانون کے تحت دیا جارہا ہے؟ ہمیں کہا گیا آپ نے این او سی کے بغیر جلسہ نہیں کرنا، ہم یقین رکھتے ہیں کہ ملک کو آئین اورقانون کے تحت چلائیں، بندوق کے زور پر ملک نہیں چلایا جاسکتا۔انہوں نے کہا کہ ہم ملک کو قائداعظم کا پاکستان بنانا چاہتے ہیں، ٹیکس کے بجٹ کو کسی صورت نہیں مانتے، ہم ڈٹے ہوئے ہیں، نہ ڈریں گے نہ پیچھے ہٹیں گے، ہمارے اپوزیشن لیڈر پارلیمنٹ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ عمرایوب کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، ہم کسی طور پرڈرے نہیں ہے، آئینی اورقانونی جنگ جاری رکھیں گے، پیپلزپارٹی اپنا ڈبل اسٹینڈرڈ ختم کرے۔اسد قیصر نے کہا کہ پیپلزپارٹی پی ٹی آئی کیساتھ ہونیوالی زیادتیوں پرکیوں بات نہیں کرتی؟انہوں نے کہا کہ بانی چیئرمین کے بغیر کوئی سیاسی عمل مکمل نہیں ہو سکتا، ہم نے سیاسی کمیٹی میں فیصلہ کیا ہے آج کا جلسہ ملتوی کر رہے ہیں۔عمر ایوب نے کہا کہ آج کے جلسے میں اسلام آباد انتظامیہ نے اجازت دے رکھی تھی، رات پولیس آئی اور جلسے کا علاقہ سیل کر دیا۔عمر ایوب کا کہنا ہے کہ ڈی سی اسلام آباد نے آرڈر پر دستخط کیے ہوئے تھے، عدالت کے احکامات کے باوجود رات گئے جلسے سے سامان اٹھایا، خود ہی ترنول کی جگہ ہمیں جلسہ کے لیے دی تھی، پی ٹی آئی کارکنان کے ڈر سے این او سی معطل کیا۔
Comments are closed.