جاوید لطیف گرفتاری کیس:گرفتاری سے قبل ملزم کو آگاہ کرنے کے حکم کیخلاف نیب کی اپیل خارج

اسلام آباد(آن لائن)مسلم لیگ (ن) کے رہنما جاوید لطیف گرفتاری کیس میں سپریم کورٹ نے گرفتاری سے قبل ملزم کو آگاہ کرنے کے حکم کیخلاف نیب کی اپیل خارج کر دی۔ بدھ کے روز سپریم کورٹ میں رہنما مسلم لیگ ن جاوید لطیف کو گرفتاری سے قبل آگاہ کرنے کے حکم کیخلاف نیب اپیل پر سماعت ہوئی،نیب پراسکیوٹر نے موقف اختیار کیا کہ ملزم کو گرفتاری سے قبل مطلع کرنے کا فیصلہ خلاف قانون ہے۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دئیے کہ جاوید لطیف کا مقدمہ انکوائری کی سطح پر تھا جس میں گرفتاری نہیں ہو سکتی۔

نیب پراسکیوٹر نے بتایا کہ 3 جولائی 2023 کی ترمیم کے بعد انکوائری کے دوران بھی گرفتاری ہو سکتی ہے۔ چیف جسٹس نے قرار دیا کہ جولائی کے دوران ہونے والی نیب ترمیم مشکوک ہے،3 جولائی کو کی گئی نیب ترامیم عدالتی فیصلوں کے متصادم ہے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ سوال جواب کیلئے بلائے گئے شخص کو جیل میں کیسے ڈالا جا سکتا ہے؟ نیب قانون 2021 تک ڈریکونین تھا۔نیب قانون میں ریمانڈ کا دورانیہ کم کرنے اور ضمانت دینے کی ترمیم اچی ہے۔ عدالت نے گرفتاری سے قبل ملزم کو آگاہ کرنے کے حکم کیخلاف نیب کی اپیل خارج کر دی۔ قبل ازیں شمیم شوگر ملز کیس میں سپریم کورٹ نے مریم نواز کی ضمانت منسوخی کی درخواست نمٹا دی تھی۔

سپریم کورٹ میں شوگر ملز کیس میں سنیئر نائب صدر مسلم لیگ ن مریم نواز کی ضمانت منسوخی کی درخواست پر سماعت ہوئی تھی،نیب نے مریم نواز کی ضمانت منسوخی کی درخواست واپس لینے کی استدعا کی۔ نیب پراسکیوٹر نے بتایا کہ نیب قانون تبدیل ہونے کی وجہ سے درخواست پر مزید کارروائی نہیں ہو سکتی۔ عدالت نے ضمانت منسوخی کی درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج کی۔ نیب نے استدعا کی کہ آرڈر میں درخواست خارج کرنے کی بجائے نمٹا دینا لکھ دیں

Comments are closed.