عمران خان کی ہفتہ میں ایک بار بیٹوں سے وٹس ایپ ملاقات کی درخواست مسترد

راولپنڈی (آن لائن)انسداد دہشت گردی راولپنڈی کی خصوصی عدالت نمبر1کے جج ملک اعجاز آصف نے سانحہ9مئی کے مقدمات میں نامزد تحریک انصاف کے سابق چیئرمین کی جانب سے اپنے صاحبزادوں سے واٹس ایپ کال پر رابطے کی درخواست مسترد کر دی ہے عدالت نے یہ درخواست جیل انتظامیہ کی رپورٹ کی روشنی میں خارج کی ہے سابق چیئرمین کی درخواست پر عدالت نے جیل انتظامیہ سے جواب طلب کیا تھا گزشتہ روز سماعت کے موقع پر جیل انتظامیہ کی جانب سے جمع کروائے گئے جواب میں موقف اختیار کیا گیا کہ جیل مینوئل کے مطابق کسی ملزم کی واٹس ایپ پر رشتہ داروں سے ملاقات کا قانون موجود نہیں جبکہ عدالتی حکم کے مطابق ملزم کی مہینہ میں دو مرتبہ بیٹوں سے بات کروائی جاتی ہے جس پر عدالت نے ہفتہ میں ایک مرتبہ واٹس ایپ پر بیٹوں سے بات کروانے کی استدعا مسترد کر دی

سابق چیئرمین نے عدالت میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ درخواست گزار سابق وزیر اعظم ہے جس کی کھیل، صحت، سیاست اور ملکی ترقی میں بہت خدمات ہیں درخواست میں کہا گیا کہ جیل انتظامیہ درخواست گزاراور اس کے بیٹوں کے درمیان ملاقات میں حائل ہے عدالت کی بار بار اجازت کے باوجود درخواست گزار کو انتہائی محدود وقت کے لئے واٹس ایپ استعمال کرنے کی اجازت دی جاتی ہے جیل مینول کے مطابق اسیران کو ہفتے میں ایک مرتبہ اجازت کی بجائے درخواست گزار کو جیل انتظامیہ کی جانب سے کوئی سہولت نہیں دی جاتی درخواست میں کہا گیا کہ عدالت جیل انتظامیہ کو حکم دے کہ وہ درخواست گزار کے بیٹوں قاسم خان اور سلیمان خان سے ملاقات کا انتظام کریں اور سہولت فراہم کریں حالانکہ عدالت نے پہلے بھی حکم دیا تھا کہ واٹس ایپ پر درخواست گزار کا اس کے بیٹوں سے رابطہ کروایا جائے لہٰذا عدالت سینٹرل جیل اڈیالہ کے سپرنٹنڈنٹ کو حکم دے کہ وہ درخواست گزار کی اس کے بیٹوں سے ملاقات کا فوری انتظام کرے اور درخواست گزار کو ہفتہ وارواٹس ایپ یا زوم کال کی اجازت دی جائے۔

Comments are closed.