جسٹس طارق محمود جہانگیری کیخلاف سوشل میڈیا مہم
اسلام آباد(آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری کیخلاف سوشل میڈیا مہم کے معاملے پرتوہین عدالت کیس میں پیمرا‘ ایف آئی اے اور پی ٹی اے کے ساتھ ساتھ اینکرز غریدہ فاروقی، عمار سولنگی اور حسن ایوب کو بھی نوٹس جاری کردیاہے اور ان سے جواب طلب کیاہے جبکہ،کیس کی سماعت گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد تک ملتوی کردی گئی۔دوسری جانب اسلام آبادہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے ہیں کہ یہ صرف ایک جج کانہیں پورے ادارے کامعاملہ ہے،ہم نے کسی کونہیں روکاکہیں بھی جائے،لیکن کسی کویہ حق نہیں کہ سوشل میڈیاپر مہم چلائے،اب ججزٹویٹ کریں کہ میری ڈگری صحیح ہے یانہیں،،پورے نیشنل اور سوشل میڈیاپر چل رہاہے،یہ ادارہ جاتی ریسپانس ہے،جوکہ اس میں ملوث ہوگاوہ اپنی گرمیاں اڈیالہ جیل میں گزارے گا،،ہم فل کورٹ کوچھوڑ کر،آپ لوگوں کوباہر نکال کرصحافیوں کوبلاکرپریس کانفرنس کردیتے ہیں،چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں مزیدکہاکہ اب ہم حکومت اور پیمرا کو بتائیں گے کہ ان کی کیا ذمے داری ہے،ان کو اب ہم بتائیں گے کیا کرنا ہے۔ ہم اس کمپین کو برداشت نہیں کرینگے،ہم نے پہلے بھی ایکشن لیا کسی نے کوئی سبق نہیں سیکھا،جو بھی اس میں ملوث نکلا اس کے خلاف کارروائی ہونی ہے،جس نے درخواست دینی ہے جائے درخواست دے کسی کو روک نہیں رہے،پیمرا، پی ٹی اے اور ایف آئی اے کی کیا ذمے داری ہے کیا ان کو نظر نہیں آ رہا،آپ حکومت کے نمائندے ہیں اس لئے آپ کو بلایا ہے
،ایڈیشنل اٹارنی جنرل صاحب ایسا نہیں چلے گا، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہاکہ ججز کے خلاف مہم چلی حکومت نے کوئی ایکشن نہیں لیا۔انھوں نے یہ ریمارکس پیر کے روزدیے ہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری کیخلاف سوشل میڈیا مہم کے معاملے پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں توہین عدالت کی کارروائی کے کیس کی سماعت ہوئی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل اور ایڈووکیٹ جنرل عدالت میں پیش ہوئے،چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں فل کورٹ نے توہین عدالت کاررروائی پر سماعت کی،جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب، جسٹس بابرستار، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان، جسٹس ارباب طاہر، جسٹس ثمن رفعت امتیاز بنچ میں شامل ہیں،جسٹس طارق محمود جہانگیری فل کورٹ میں شامل نہیں تھے،دوران سماعت چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہاکہ اب ہم حکومت اور پیمرا کو بتائیں گے کہ ان کی کیا ذمے داری ہے،ان کو اب ہم بتائیں گے کیا کرنا ہے،اب ججز ٹویٹ کریں کہ میری ڈگری صحیح یا نہیں،پورے نیشنل میڈیا اور سوشل میڈیا پر چل رہا ہے،چیف جسٹس نے کہاکہ یہ ادارہ جاتی رسپانس ہے، جو اس میں ملوث ہوگا اپنی گرمیاں اڈیالہ جیل میں گزارے گا۔جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہاکہ تاثر جارہا ہے حکومت اس کے پیچھے ہے،چیف جسٹس نے کہاکہ احتساب سے گھبرانے والے نہیں لیکن احتساب کے نام پر جاری مہم کو برداشت نہیں کریں گے۔بعد ازاں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ ججز کے خلاف مہم چلی مگر حکومت نے کوئی ایکشن نہیں لیا، وزیر قانون اور اٹارنی جنرل نے کوئی بات نہیں کی، اس کا مطلب ہے آپ اس کی حمایت کر رہے ہیں۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ آپ کی جانب سے کوئی ڈائریکشن نہیں دی گئی، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ نہیں ایسی باتیں نہ کریں، ہم کیا ڈائریکشن دیں گے کیا حکومت کی ذمہ داری نہیں ہے؟ یہ ادارہ جاتی رسپانس ہے، ججز کونسل کو جواب دے دیں گے، تو کیا ججز اب جواب دینے کے لیے رہ گئے ہیں؟اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیمرا اور پی ٹی اے کو نوٹس جاری کردیا،عدالت نے غریدہ فاروقی، عمار سولنگی اور حسن ایوب کو بھی نوٹس جاری کردیا،کیس کی سماعت گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد تک ملتوی کردی گئی۔
Comments are closed.