190 ملین پاؤنڈ ریفرنس‘ سابق وزیر دفاع پرویز خٹک کا عدالت میں دیا گیابیان سامنے آ گیا

اسلام آباد(آن لائن)190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کی سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی کے خلاف سابق وزیر دفاع پرویز خٹک کا عدالت میں دیا گیابیان سامنے آ گیاجس میں انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ 2019میں کابینہ میں مشیر احتساب شہزاد اکبر نے بریفنگ دی اور ایک بند لفافہ پیش کیا کہ برطانیہ سے معاہدہ ہوا ہے،کابینہ ارکان نے اعتراض کیا اور بند لفافہ کھولنے کا مطالبہ کیا مگراس کی اضافی ایجنڈے کے طور پر منظوری لی گئی ۔اپنے بیان میں سابق وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا کہ شہزاد اکبر نے کابینہ کو آگاہ کیا،برطانوی اور پاکستانی حکومت کے مابین معاہدہ ہوا ہے،

معاہدے میں برطانیہ میں پکڑی گئی غیر قانونی رقم کو پاکستان واپس لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے،شہزاد اکبر نے کابینہ کیسامنے ایک بند لفافہ پیش کیا،بتایا لفافے میں معاہدہ کی دستاویز موجود ہے۔شہزاد اکبر نے کابینہ کو بتایا کہ غیر قانونی طور پرمنتقل کئے گئے190ملین پاونڈ پاکستانی حکومت کو واپس کئے جائیں گے۔پرویز خٹک کاکہنا تھا کہ معاملہ پر مجھ سمیت کابینہ کے دیگر اراکین نے اعتراض کیا،میں نے اور کابینہ کے دیگر اراکین نے اعتراض کیا کہ بند لفافے میں موجود معاہدے کے مندرجات سے آگاہ کیا جائے۔شہزاد اکبر نے بتایا کہ معاہدہ خفیہ ہے،جس پر کابینہ کے اراکین خاموش ہو گئے۔پرویز خٹک کے بیان کے مطابق شہزاد اکبر نے بند لفافے کو اضافی ایجنڈے کے طور پر کابینہ میں پیش کیا،سابق وزیر اعظم نے اضافی ایجنڈے کی کابینہ سے باقاعدہ منظوری بھی لی۔پرویز خٹک کے مطابق ریفرنس کے تفتیشی افیسر نے بتایا کہ معاہدے کے ساتھ ایک تحریر بھی تھی،تفتیشی افیسرنے مجھے بتایا کہ تحریر پر رقم پراپرٹی ٹائیکون کو منتقل کرنے کا لکھا گیا تھا،تفتیشی آفیسر نے بتایا کہ رقم کا کچھ حصہ پہلے ہی منتقل کیا جا چکا ہے،میں نے اپنے وکیل کی موجودگی میں بیان نیب کو ریکارڈ کروایا تھا۔

Comments are closed.