پنجاب اور سندھ میں کچے کے ڈاکوؤں کیخلاف بھر پور آپریشن جاری،محسن نقوی
اسلام آباد(آن لائن)وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو بتایا کہ تمام صوبے خود مختیار ہیں ان پر کوئی دباؤ نہیں ڈال سکتے،امن و امان کا مسئلہ خالصتا صوبائی ہے ،ایف سی اور دیگر ادارے صرف دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرتے ہیں ،پنجاب اور سندھ میں کچے کے ڈاکوؤں کیخلاف بھر پور آپریشن کیا جارہا ہے ،قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس بلوچستان میں کرنے کے لیے تیار ہیں۔سینیٹر فیصل رحمان کی صدارت میں سینیٹ کی داخلہ کمیٹی کا اجلاس ہوا ،وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ،حکام نے کمیٹی اجلاس کو بتایا کہ دو سال میں دہشت گردوں کے خلاف 110 بڑے آپریشن کیے گئے،دہشتگردوں کے خلاف 485 انٹیلی جنس آپریشنز بھی کیے گئے،آپریشنز میں 116 دہشت گرد مارے گئے 55 زخمی ہوئے،سینیٹر عمر فاروق نے نقطہ اٹھایا کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پریشان کن ہیں ،میں نے اپنی حفاظت کے لئے پچاس ساتھ گارڈ رکھے ہیں،ہم اپنے گھر سے نہیں نکل سکتے ،مجھ پر دو بار حملہ ہو چکا ہے ،جس چیک پوسٹ پر جاوٴ بغیر بے عزتی کے سوا کچھ نہیں ہے، سینیٹر نسیمہ احسان نے کہا کہ ہمیں سکیورٹی میسر نہیں دھمکیاں ملتی ہیں،ہمارا رونا ہے کہ ہماری جانوں کی حفاظت کی جائے،ایک ڈیڑھ مہینے پہلے میرے گھر پر حملہ ہوا،آئے روز ہمیں کالز موصول ہوتی ہیں،ہم اپنے گھر سے نہیں نکل سکتے،ہمیں سکیورٹی والے بھی کہتے ہیں آپ تین بجے تک گھر پہنچ جائیں،صوبے کی طرف سے بھی ہمیں کوئی جواب نہیں ملا۔سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ سینیٹرز کی سکیورٹی کے معاملات ہیں تو پاکستان کی سکیورٹی کی کیا بات کریں،کمیٹی اجلاس میں سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ دہشت گردی کی ایک نئی لہر آئی ہے
،دہشت گردی کے واقعات میں روزانہ فوجی جوان شہید ہورہے ہیں ،آپریشن عزم استحکام کیا شروع ہوچکا ہے ،آپریشن عزم استحکام کے اہداف کیا ہیں ،صدرمملک آصف زرداری کے کے دورہ سکھر میں اس پر اجلاس ہوا تھا ،لوکل پولیس آفیسرز کو اس ڈویژن سے نکالنے کا فیصلہ کیا گیا تھا،حکومت پاکستان کا تحریک طالبان پاکستان سے معاہدہ ہوا اور انہیں پاکستانی جیلوں سے چھوڑا گیا،رہا ہونے والے طالبان نے بی ہیو نہیں کیا اس کے بعد دہشتگردی کی کارروائیوں میں اضافہ ہواہے،طالبان نے خود کو آرگنائز کیا ہے۔ ،سینیٹر عرفان کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردی کے واقعات میں پاکستانی طالبان ملوث ہیں،عزم استحکام آپریشن ابھی شروع نہیں ہوا،نیشنل ایکشن پلان کے چھ نکات ہیں ،نیشنل ایکشن پلان کے نکات پر ازسر نوعملدرآمد کا فیصلہ ہوا۔اس موقع پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ وفاقی حکومت کی کچھ حدود ہیں ، صوبے خودمختار ہیں ان پر دباؤ نہیں ڈال سکتے،قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس بلوچستان میں کرنے کے لیے تیار ہیں ،پنجاب اور سندھ حکومت ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن کررہی ہے ،آپریشن کو لیڈ سندھ حکومت کررہی ہے ،مین ہائی ویز کو محفوظ بنا دیا گیا ہے ،کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف سندھ حکومت کو مکمل سپورٹ فراہم کررہے ہیں،وزیر داخلہ نے کمیٹی کو بتایا کہ لاء اینڈ آرڈر کی ہینڈلنگ صوبوں کے ساتھ مل کر کی جاتی ہے،رینجرز ٹارگٹڈ آپریشن کرتی ہے،لاء اینڈ آرڈر کا تعلق صوبوں کی پولیس سنبھالتی ہے ،بلوچستان کے مسائل پر جاکر بات کرنے کو تیار ہوں ،ایف سی اور لیویز وغیر بارڈر فورسز ہیں ،رینجرز صوبوں کی مدد کرتی ہے ،محسن نقوی نے مزید کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے نکات پر عملدرآمد کا نام عزم استحکام رکھا گیا ،میڈیا پر پہنچ پر معاملہ کچھ اور ہوگیااس پر سینیٹر عرفان نے کہا کہ میڈیا کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔،بعد ازاں وزیر داخلہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس سے روانہ ہوگئے اور آپریشن عزم استحکام سے متعلق کسی سوال کا جواب نہ دیا ۔
Comments are closed.