سپریم کورٹ کے فیصلے سے حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،اعظم نذیر تارڑ
اسلام آباد(آن لائن )وفاقی وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلے سے حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے، ہمارے پاس اب بھی 209 ارکان ہیں۔ ریلیف سنی اتحاد کونسل مانگنے آئی لیکن مل پی ٹی آئی کو گیا،جمعہ کوسپریم کورٹ فیصلے پر اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آج اکثریتی فیصلہ آیا ہے، ریلیف سنی اتحاد کونسل مانگنے آئی لیکن مل پی ٹی آئی کو گیا، یہ نشستیں سنی اتحاد کونسل کو جانی چاہیے تھی۔سپریم کورٹ کے مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلے سے حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے، ہمارے پاس اب بھی 209 ارکان ہیں۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ کیس میں پاکستان تحریک انصاف تو فریق ہی نہیں تھی، کیس میں پی ٹی آئی تو فریق ہی نہیں تھی، پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے میں پی ٹی آئی کا کلیم نہی تھا، سنی اتحاد کے آئین مین تھا کہ غیرمسلموں کو ورکر تصور نہیں کرتے۔وزیر قانون نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نیاپنے ہی آئین کی خلاف ورزی کی،
کیس میں کبھی پی ٹی آئی کے 80 ارکان نہیں آئے۔انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلے سے لگتا ہے کہ آئین کی شقوں کودوبارہ لکھا گیا ہے، ہمیں یہ سکھایا گیا ہے کہ عدالتی فیصلوں کا احترام کریں۔ان کا کہنا تھا کہ وفاقی کابینہ کے تمام فیصلے کابینہ میں ہوتے ہیں، کابینہ میں فیصلہ ہوگا کہ نظرثانی دائرکرنی ہے یا نہیں، سپریم کورٹ کے فیصلے سے سوالات نے جنم لیا ہے۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے کیس میں پشاور ہائی کورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کو مخصوص نشستوں کا حقدار قرار دے دیا ہے۔چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں 13 رکنی فل نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو غیر ا?ئینی قرار دے دیا، فیصلہ جسٹس منصور علی شاہ کی جانب سے لکھا گیا ہے۔سپریم کورٹ سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے کیس میں پشاور ہائی کورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کو مخصوص نشستوں کا حقدار قرار دے دیا جب کہ ماہر ین قانون فیصلے کو ا?ئین و قانون کے مطابق قرار دیا ہے۔
Comments are closed.