اسلام آباد( آن لائن)حکومت ن پاکستان تحریک انصاف پر پابندی لگا نے کا فیصلہ کیا ہے وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے آج پریس کانفرنس میں کہا کہ ملک نے اگر ترقی کرنی ہے تو پاکستان اور تحریک انصاف ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔اِسکے علاوہ سابق صدر عارف علوی، بانی پی ٹی آئی اور سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کے خلاف آرٹیکل 6 کا کیس چلایا جائے گا، ان تینوں اشخاص کے خلاف وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد یہ ریفرنس سپریم کورٹ کو بھجوایا جائے گا۔
مزید برآں حکومتی اور اتحادی جماعتوں نے اعلیٰ عدلیہ کے مخصوص نشستوں کے جانبدارانہ فیصلوں پر نظر ثانی اپیل دائر کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے
پابندی کا یہ فیصلہ ٹھوس شواہد کی بنیاد پر کیا گیا ہے جن میں ریاست مخالف سرگرمیاں مثال کے طور پر سائفرکیس، آئی ایم ایف کو پاکستان کی امداد روکنے کے حوالے سے خطوط جن کی آڈیوز بھی موجود ہیں، 9 مئی پر ریاستی اداروں اور شہداء کی یادگاروں پر حملے، ریاست اور اہم ریاستی شخصیات کے خلاف زہریلا پروپیگیڈا اور غیر ملکی فنڈنگ جیسے سنگین جرائم شامل ہیں۔پی ٹی آئی نے من گھڑت مقبولیت کی آڑ میں اخلاقی، سماجی اور قانونی اقدار کی دھجیاں اڑا دی ہیں اور خود کو قانون سے بالاتر سمجھ لیا ہے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے مخصوص نشستوں کے حوالے سے دیئے جانے والے فیصلے کے بعد قانونی ماہرین اور قانونی حلقے واضح طورپر کہہ رہے تھے کہ حکومت کی جانب سے اِس سہولت کاری کا جواب آئیگا اور وہ جواب ایساہوگا کہ سب دیکھتے رہ جائینگے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی پرپابندی کا فیصلہ دیرآید درست آید کے مصدق درست فیصلہ ہے بلکہ اس فیصلے کو بہت پہلے کرلیا جاتا تو آج جن وطن عزیز اس انتشار پسند جماعت کی وجہ سے جن مشکلات کا شکار ہے نہ ہوتا۔ بہرحال یہ ایک بہترین فیصلہ ہے اور اس سے ملک کی سیاسی فضا جسے اس ایک طرح کی شدت اور دہشتگرد جماعت پی ٹی آئی نے خراب کر رکھا تھا میں بہتری آئے گی۔
اس میں کوئی شک نہیں کے وفاقی حکومت نے ایک لمبے عرصے تک تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کیا مگر حالیہ سپریم کورٹ کے فیصلے نے یہ ثابت کیا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ میں بیٹھے کچھ سیاسی ججز کی سہولت کاری اور پی ٹی آئی جیسے ملک دشمن کے ساتھ اب مزید تحمل و برداشت دراصل ملک اور ملک کے عوام کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہوگی
جن کیسز پر حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے وہ کافی مضبوط ہیں اور اگر اِس بار بھی عدلیہ اِن ٹھوس شواہد کے باوجود سہولت کاری کرتی ہے تو اُن جانبدارانہ فیصلوں پر عمل داری پر ہمیشہ سوالات اٹھتے رہیں گے اور بحران جاری رہ سکتا ہے
Comments are closed.