پی ٹی آئی سے دشمنی سمجھ آتی ہے وطن سے کیا دشمنی ہے؟شاندانہ گلزار
اسلام آباد(آن لائن)وکلاء رہنماء معظم بٹ، شاندانہ گلزار، نیاز اللہ نیازی اور عمر ڈار نے کہا ہے کہ آرٹیکل 6 کا یہ اعلامیہ ٹوائلٹ پیپر سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا‘عوام کا مینڈیٹ مسلم لیگ ن نے چرایا یہ بھی آرٹیکل 6 کے مرتکب ہیں‘اگر سائفر، عدت کا کیس بھی ختم ہوگیا تو باقی سب کیسز بھی جھوٹے ہیں۔آج کی پارلیمنٹ عوام کی نمائندہ پارلیمنٹ نہیں ہے‘جن کو عوام نے منتخب کیا وہ باہر ہیں‘پی ٹی آئی سے دشمنی سمجھ آتی ہے وطن سے کیا دشمنی ہے؟پیر کو یہاں نیشنل پریس کلب اسلام اباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے معظم بٹ نے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ سب کو جیلوں میں ڈال دو‘انہوں نے جتنا بھی ظلم کیا ہم نے اس کا سامنا بھی کیا‘ہم نے اب تک ہر قانون محاذ پر اپنا کیس لڑے اور جیتے۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے ہم سے ہمارا نشان چھینا اس کے باوجود ہم اسمبلی پہنچے‘انہوں نے خواتین کی نشستوں کو چھینا ہم سرخرو ہوئے‘آئین و قانون کے مطابق فیصلہ ہوا اور خواتین کی نشستیں ہمیں ملیں‘یہ آرٹیکل 6 کو ابھی تک سمجھنے سے ہی قاصر ہیں۔معظم بٹ کا کہنا تھا کہ 1956 اور 1962 کی طرح 1973 کا آئین کسی فرد واحد نے پاکستان کو نہیں دیا‘یہ آئین عوام نے بنایا ہے اور ہم اس کی حفاظت کرنا بھی جانتے ہیں‘آپ لوگوں نے حقیقی طور پر آئین سے غداری کی ہے‘90 دن میں صوبائی الیکشن نہ کروا کے نقوی نے آئین سے غداری کی‘غداری کی بنیاد پر ایک پارٹی پر پابندی لگی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی وکلاء ونگ میں ملک کے سب سے نامور وکلاء ہیں۔ہم ہر مقدمہ بہادری اور دلیری کے ساتھ لڑے ہیں‘ہم نے آپ کو بھی ہرایا ہے اور عدالتوں کو بھی ہرایا ہے‘جب کوئی بھی جج آئین کی روح سے ہٹے گا اس پر ہم عدم اعتماد کریں گے‘آرٹیکل 6 کا یہ اعلامیہ ٹوائلٹ پیپر سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔
نیاز اللہ نیازی نے کہا کہ آزاد عدلیہ میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کرنے والے ججز کو سیلوٹ کرتے ہیں،عمران خان نے جماعت بنائی ہی آئین و قانون کی حکمرانی کے لیے تھی‘ایسے الزامات لگانے پر حکومت پر آرٹیکل 6 لگتا ہے۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے کرپشن کو پھیلایا‘فارم 45 والوں کو ہرا کر فارم 47 والوں کی حکومت بنوائی گئی‘ہم عدالتوں اور آئین و قانون کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایک جج کسی سابق وزیراعظم کے خلاف ہیں تو اسے بینچ کا حصہ نہیں ہونا چاہیے‘عوام کا مینڈیٹ مسلم لیگ ن نے چرایا یہ بھی آرٹیکل 6 کے مرتکب ہیں‘اگر سائفر، عدت کا کیس بھی ختم ہوگیا تو باقی سب کیسز بھی جھوٹے ہیں۔ عمر ڈارنے کہا کہ میں تو آپ کی عدالت میں ایک بلی کا مقدمہ لیکر آیا ہوں‘قیدی نمبر 804 کی تو بلی کو بھی اغوا کر لیا گیا ہے‘عوام کی رائے کو دبا کر ملکی ترقی و سلامتی کو کبھی نہیں یقینی بنایا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کبھی بھی پاپولر ووٹ کو تسلیم نہیں کیا‘دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں پاپولر پارٹیز آگے آئی ہیں‘آج کی پارلیمنٹ عوام کی نمائندہ پارلیمنٹ نہیں ہے‘جن کو عوام نے منتخب کیا وہ باہر ہیں‘عوام نے جن کو رد کیا وہ پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوئے ہیں یہ قبضہ مافیا ہیں‘کوئی کسی کے گھر پر قبضہ کرتا ہے انہوں نے سیٹوں پر غاصبانہ قبضہ کیا‘پاکستان میں جب تک آئین کی بالادستی قائم نہ ہوئی ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔ شاندانہ گلزار نے کہا کہ خان صاحب کی ایک کال پر آئی ایل ایف نے لبیک کہا‘ہمیں خان صاحب نے تھیم دی انصاف کو انصاف دو ‘جب تک ججز نے خط نہیں لکھا کوئی یقین نہیں کرنے کو تیار تھا‘عثمان ڈار فیملی کے ساتھ کیا ہوا سب نے دیکھا‘ان کی ماں نے بیٹوں کی قربانی دی عمران خان کی نہیں دی۔ ان کا کہنا تھا کہ دو چور خاندان پچھلے کئی سالوں سے اس ملک پر مسلط ہیں‘ان کے مہنگے جوتے ان کے کوٹ خریدنے کے لیے آپ کی جیب سے پیسے جائیں گے‘جب یہ شیطان مردود کو جنازہ ہوگا کوئی پڑھنے تک نہیں آئے گا۔شاندانہ گلزار نے کہا کہ بائڈن کے آرڈر پر جنرل باجوہ اور یہ سب اکٹھے ہوگئے‘پہلے ڈکی والے کو وزیراعظم بنانے کا کہا پھر چورنی کو کہا‘پی ٹی آئی سے دشمنی سمجھ آتی ہے وطن سے کیا دشمنی ہے؟
Comments are closed.