اسلام آباد(آن لائن) الیکشن کمیشن نے سالانہ گوشوارے جمع نہ کرانے والی10 سیاسی جماعتوں اور سابق پارلیمینٹیرینزکے خلاف سخت اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کر لیا ہے ،سیاسی جماعتوں سے انتخابی نشان واپس لینے اور پارلیمنٹیرینز کو انتخابات میں حصہ لینے سے روکنے کی تجویز پیش کردی گئی۔بدھ کے روز الیکشن کمیشن میں ممبر سندھ نثار درانی کی سربراہی میں چار رکنی کمیشن نے سابق اراکین اسمبلی اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے سالانہ گوشوارے جمع نہ کرانے کے حوالے سے کیس کی سماعت کی اس موقع پر الیکشن کمیشن حکام نے کمیشن کو بتایا کہ سابق اسمبلیوں کے ارکان 12 اگست کو ریٹائرڈ ہو گئے تھے اور مجموعی طور پر 37 ارکان نے گوشوارے جمع نہیں کروائے ہیں
جس پر ممبر خیبر پختونخوا نے کہاکہ سابق اراکین کیلئے گوشوارے جمع نہ کروانے پر قانون خاموش ہے جس پر ممبر بلوچستان نے کہاکہ اگر سابق ارکان اسمبلی کے حوالے سے قانون خاموش ہے تو کمیشن کیا کر سکتا ہے جس پر الیکشن کمیشن حکام نے کہاکہ ایسے ارکان کو انتخابات کیلئے نئے کاغذات نامزدگی جمع نہ کروانے دئیے جائیں حکام نے بتایا کہ دس سیاسی جماعتوں نے بھی گوشوارے جمع نہیں کروائے ہیں اور قانون کے مطابق ایسی سیاسی جماعتوں سے انتخابی نشان واپس لے لیا جائے جس پر ممبر خیبر پختونخوا نے کہاکہ آپ قانون کی کیا بات کرتے ہیں قانون تو کہتا ہے کہ آزاد ارکان تین دن میں سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کر سکتے ہیں اب تو آزاد ارکان کو پندرہ دن دیئے گئے ہیں الیکشن کمیشن نے گوشوارے جمع نہ کروانے والے ارکان اور سیاسی جماعتوں کو آخری موقع نہ دینے کا فیصلہالیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کر لیاواضح رہے کہ الیکشن کمیشن میں عوامی نیشنل پارٹی، پیپلز مسلم لیگ پاکستان، پاکستان عوامی راج ، مو آن پاکستان، عوامی جمہوریہ پارٹی پاکستان، حق دو تحریک بلوچستان اور پاکستان پیپلز لیگ نے بھی تاحال گوشوارے جمع نہیں کروائے ہیں۔۔۔
Comments are closed.