اسلام آباد(آن لائن)پاکستان میں متعین امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے کہا ہے کہ پاک امریکہ تعلقات کی ایک طویل تاریخ ہے،دونوں ممالک شراکت داری اور تعاون کی طویل تاریخ بھی رکھتے ہیں،امریکہ پاکستان کے سٹائل تعلقات کو اہمیت دیتا ہے،امریکہ سمجھتا ہے کہ پاکستان میں بہت استعدکار موجود ہے،وہ یہاں اسلام آباد میں کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ، امریکی سفیر نے کہا کہ پاکستان کے پاس متحرک نوجوان آبادی ہے،پاکستان کے ساتھ تعاون کا سلسلہ جاری رکھیں گے،امریکی اور پاکستان کے درمیاں پارٹنرشپ کی بڑی تاریخ ہے، دہشت گردری کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کی قدر کرتے ہیں، گزشتہ سال دونوں ممالک کے درمیان تجارت 9 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی، ہم پاکستان کے آئی ایم ایف کے ساتھ کام کو سپورٹ کرتے ہیں، ہم منگلا ڈیم کو نئے ٹربائنز کے ساتھ اپ گریٹ کر رہے ہیں،250 ملین ڈالر ہم صاف پانی کی فراہمی میں سرمایہ کاری کر رہیں ہیں،پاکستان میں مستقبل میں بھی سرمایہ کاری کرینگے ،ہم ہیلتھ کئیر سسٹم میں سرمایہ کاری کررہے ہیں ،85 ملین ڈالر مال نیوٹریشن کے خاتمے پر سرمایہ کاری کررہے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ شعبہ تعلیم میں بھی سرمایہ کاری کررہی ہیں، 20 ملیں ڈالر ہم ایکڈیمک پروگرام میں سرمایہ کاری کر رہیں ہیں،
ہم گندھارا تہذیب کی تحفظ کو بھی سپورٹ کررہی ہیں،امریکہ 1 ڈالر بلین صوبوں کو جسٹس اینڈ سیکورٹی پروگرام میں فراہم کررہا ہے ، پاکستان اور امریکہ مشترکہ طور پر افغان مہاجرین اور اسائلم سیکرز کو سپورٹ کررہا ہے، خیال پایا جاتا ہے کہ پاک امریکہ تعلقات کا محور سیکورٹی مسائل ہیں ، لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے،گزشتہ کہی سالوں میں امریکہ نے پاکستان میں قدرتی آفات ، سیلابوں اور معاشی طور پر سپورٹ کیا ، امریکہ کی نجی شعبہ پاکستان کے پوٹینشل کی متعرف ہیں۔اس موقع پر ایڈیشنل سیکرٹری وزارت خارجہ مریم آفتاب نے کہا کہ ہر حوالے سے امریکہ پاکستان تعلقات اہمیت کے حامل ہیں،ہم نے اقتصادی, تعلیمی, سائنسی و دیگر شعبوں مین تعاون و شراکت داری دیکھی،اقتصادی تعاون دونوں ممالک کی معیشتوں اور خطے کیلئے اہم ہے ،دہشت گردی کے خلاف تعاون دونوں ممالک اور خطے کی سلامتی میں اہمیت رکھتا ہے۔،ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے دونوں ممالک.مل کر آج کے دور کے سب سے بڑے چیلنج کا سامنا کر سکتے ہیں،امریکہ اور پاکستان اپنے مفادات کے مشترکات اور ارتکاز کے حوالے سے نئے شعبے تلاش کر رہے ہیں،ہم اقوام متحدہ سلامتی کونسل قراردادوں، کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق بات چیت سے مسئلہ کشمیر کا حل چاہتے ہیں،آج کے دور میں درپیش چیلنجز کے مقابلے کے لیے تعاون و شراکت داری کا فروغ اہم ہے۔
Comments are closed.