ہم نے فیصلے ضمیر نہیں قانون کے مطابق کرنے ہوتے ہیں، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ
اسلام آباد (آن لائن) چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے کہا ہے کہ ہم نے فیصلے ضمیر نہیں قانون کے مطابق کرنے ہوتے ہیں۔ انصاف کی فراہمی میں ٰ بینچ اور بار کا تعاون نا گزیر ہے ۔ عدلیہ اور وکلا کے لئے سہولیات فراہم کی ہیں ، عدلیہ میں نئی ٹیکنا لو جی کا استعمال نا گزیر ہو چکا ۔ اسلام آباد بار کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا انصاف کی فراہمی میں ٰ بینچ اور بار کا تعاون نا گزیر ہے‘ ہم نے فیصلے اپنے ضمیر نہیں قانون کے مطابق کرنے ہوتے ہیں ایک عام آدمی انصاف کے لئے ہماری طرف دیکھ رہا ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا 2023ء اسلام آباد کی عدلیہ کیلئے خاص اور اہم سال رہا۔ کچہری کو جی الیون اور اسلام آباد ہائیکورٹ کو ریڈ زون میں شفٹ کیا گیا۔ کچہری میں وکلاء اور سائلین کے لیے سہولیات دیں جو مزید فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا زمانہ ہے، ٹیکنالوجی بڑھ رہی ہے، اگر ٹیکنالوجی کا استعمال نہ کیا تو ہم پیچھے رہ جائیں گے۔ انہوں نے کہا دوسرے پروفیشن کی طرح ہمارے شعبے میں بھی تبدیلیاں آرہی ہیں ۔ ہمارے شعبے میں بھی مصنوعی ذہانت کو سیکھنا اور اس کا استعمال بہت ضروری ہو گیا ہے ۔ آج ریسرچ کے طریقہ کارتبدیل ہو گئے ہیں ایک کلک کرنے پر سارا متعلقہ قانون سامنے آجاتا ہے ۔ ہمارے زمانے میں نوٹسز کو ڈھونڈنا پڑتا تھا ۔ اب نوٹسز ای میل کے ذریعے بھیجے جاتے ہیں لیکن بعض لوگ آج بھی یہ نہیں کر پارہے ہیں، ہم نے ای نوٹس کا افتتاح کیا، یعنی نوٹس ای میلز کے ذریعے بھیجے جائیں گے
، اب وکیل کو، مدعی کو میسجز کے ذریعے پتا چل رہا ہے کہ ان کا کیس کب سماعت کے لیے لگ رہا ہے۔ انہوں نے کہا انفارمیشن مشین ہے جس میں آپ کیس کی تفصیل ڈالیں گے تو ساری تفصیلات شامل ہوجائیں گی، یہ عام آدمیوں کیلئے ہے، یہ ایک بہت بڑی چیز ہے جو مغرب میں عام ہے۔جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ زیر ٹرائل قیدیوں کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری سے ہم نے یہ سلسلہ شروع کیا تھا، بار اور ہائی کورٹ کو یکجا کرنے کی درخواست پر بھی کام ہوا ہے تاکہ ان کو تمام مسجز اور انفارمیشن ملتی رہے۔ انہوں نے کہاکہ نو ٹس ٹریکنگ سسٹم پر بھی کام ہورہا ہے، ہم ای فائلنگ پر بھی کام کر رہے ہیں، ہمیں پیپر سے پاک ہونا ہے، ججز کی تقرری کے حوالے سے مسئلے ہر بھی کام ہورہا ہے، یہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے ساتھ ہونا ہے ہم ان سے تعاون کر رہے ہیں کہ جلد سے جلد اس پر کام ہو، ججز کی تعیناتی کے عمل پر کام ہورہا ہے، عدلیہ میں بھی اب ٹیکنا لو جی کا استعمال ہو رہاہے ۔ ۔ اگر ہم نے جدید ٹیکنا لوجی کو استعمال نہ کیا تو ترقی میں بہت پیچھے رہ جائیں گے ۔ نئے وکلا کی ٹریننگ خوش آئند ہے ۔ میرا نوجوان وکلا کو پیغام ہے کہ ایک طرف جدید ٹیکنالوجی کو اپنائیں دوسری طر ف کتاب اور قانون سیکھنے پڑھنے سے پیچھے نہ ہٹیں کیوں کہ انصاف کی فراہمی کے لئے قانون سے آگاہی نا گزیر ہے ۔ انہوں نے کہا ہم نے جو بھی فیصلہ کرنا ہوتا ہے وہ قانون کے مطابق ہی کرنا ہے ۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق نے کہا کہ 1993 میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری کا آغاز کیا، ہمارے زمانے میں نوٹسز کو ڈھونڈنا پڑتا تھا، نوٹسز اب ای میل کے ذریعے بھیجے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ وکلا اور سائلین کو میسج اور ای میل کے ذریعے کیس سے متعلق معلوم ہوجاتا ہے۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق نے کہا کہ نئے وکلا کا ٹریننگ پروگرام ایک خوش آئند اقدام ہے، وکلا کی ابتدائی رہنمائی ضروری ہے، قانون کی کتاب سے رشتہ نہ توڑیں، ایک عام آدمی کے مسائل کی وجہ سے ہم بیٹھے ہیں، ججز اور وکلا کو قانون کا معلوم ہوگا تو عام آدمی کو انصاف دیا جائے گا۔
Comments are closed.