اسماعیل ہانیہ کی شہادت کو عالم اسلام کی مزاحمتی تحریکوں کیلئے ناقابل تلافی نقصان قرار
راولپنڈی(آن لائن)جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے حماس کے سربراہ اسماعیل ہانیہ کی شہادت کو عالم اسلام کی مزاحمتی تحریکوں کیلئے ناقابل تلافی نقصان قرار دیتے ہوئے 3 اگست کو یوم اسیران فلسطین منانے اور اسماعیل ہانیہ سمیت شہدائے فلسطین کی غائبانہ نماز جنازہ کا اعلان کیا ہے اسماعیل ہانیہ کی شہادت کے بعد دو ریاستی حل کا موقف ختم ہوگیا بعض مغربی ممالک کی حمایت سے مسلمان ممالک کی خاموشی اسرائیل کی اصل طاقت ہے‘ ایٹمی ملک ہونے کے ناطے پاکستان اپنا کردار ادا کرے مسلمان ملکوں کے فوجی سربراہان کا فوری اجلاس بلوایا جائے اور اسرائیل کو دہشت گرد ریاست قرار دیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے حماس کے سربراہ اسماعیل ہانیہ کی شہادت کے بعد لیاقت باغ دھرنے کے مقام پر پریس کانفرنس میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسماعیل ہانیہ کی شہادت افسوسناک واقعہ ہے جس سے آج ہمارے دل بہت غمگین ہیں حماس کے سربراہ اسماعیل ہانیہ کو اسرائیل نے شہید کیا ہے رپورٹس کے مطابق ہزاروں لوگوں کو غزہ میں شہید کیا گیا اس وقت مسجدوں اور کیمپوں پر حملے ہورہے ہیں اسماعیل ہانیہ کی شہادت لاکھوں اسماعیل پیدا کرے گی ہم اسماعیل ہانیہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔3 اگست کو یوم اسیران فلسطین منایا جائے گا اور نماز مغرب کے بعد لیاقت روڈ پر غائبانہ نماز جنازہ ادا کی جائے گی انہوں نے کہا کہ اسرائیل انسانیت دشمنی کررہا ہے اور امریکہ اس کو سپورٹ کررہا ہے کچھ مغربی ممالک نے اسرائیل کی مخالفت کی ہے لیکن بحیثیت مجموعی مغربی ممالک کی حمایت اسرائیل کو حاصل ہے جبکہ مسلمان ممالک کی خاموشی اسرائیل کی طاقت ہے القسام بریگیڈ نے اسرائیل کو شکست دی ہے
اسرائیل سویلین لوگوں اور گھروں کو نشانہ بنا رہا ہے انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں پتہ راحیل شریف نوکری پر ہیں یا نہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جب یہ نوکریاں قبول کرتے ہیں تو مسلمانوں کے تحفظ کیلئے کیا کرتے ہیں جب لاوہ پھٹے گا تو کوئی محفوظ نہیں رہے گا حکومت پاکستان کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ہم ایک ایٹمی طاقت ہیں ہمارا وجود لاالہ الااللہ پر ہے قائد اعظم نے کہا تھا کہ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے ایک قرارداد پاکستان کے حق میں اور دوسری قراداد فلسطین کے حق میں پیش کی گئی تھی انہوں نے کہا کہ وقت اور حالات کا تقاضا ہے کہ اسرائیل کو دہشت گرد قرار دیا جائے مسلمان فوجوں کے سربراہوں کو بلایا جائے آج اگر اسرائیل کا ہاتھ نہ کاٹا گیا تو یہ سب کے گریبان پر ہوگا انہوں نے کہا کہ اسماعیل ہانیہ کی شہادت کے بعد دو ریاستی حل کا موقف ختم ہوگیا ہے اسرائیل کو مکمل طور پر دہشت گرد ریاست قرار دیا جائے انہوں نے کہا کہ ہم اپنے عظیم مزاحمت کار کے ساتھ کھڑے ہیں حماس ایک جمہوری جماعت اور ایک مزاحمت کرنے والی پارٹی ہے اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق وہ اپنی زمین کی حفاظت کے لئے قابض اسرائیلی فوج سے مسلح جدوجہد کر سکتی ہے انہوں نے کہا کہ ہم اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتے وہ ایک ناجائز ریاست ہے اس وقت ہر سطح پر اسرائیل کی کھل کر مذمت ہونی چاہیے انہوں نے کہا کہ آج ہمارا دھرنا گورنر ہاوٴس کراچی میں شروع ہونا تھا مگر اسماعیل ہانیہ کی شہادت کی وجہ سے ایک دن موخر کردیا گیا ہے اگر ہمارے مطالبات نہیں مانے گے تو ان شاء اللہ آگے بڑھیں گے حکومت سے آج مذاکرات کا دوسرا دور ہے اس میں واضح ہوجائے گا کہ حکومت کتنی سنجیدہ ہے ہم تو دھرنا دیئے بیٹھے ہیں مذاکرات ہونگے تو پتہ چلے گا انہوں نے کہا کہ ختم نبوت کے معاملے پر ہم سنجیدہ ہیں اور ہمارا موقف واضح ہے کہ قادیانی اپنے آپکو بحیثت اقلیت قراردیں تو پاکستان کا آئین اقلیت کو اجازت دیتا ہے مگر وہ اپنے آپکو مسلمان کہلانے کے حقدار نہیں۔
Comments are closed.