سوشل میڈیا مواد کو کنٹرول کرنا مفروضے ہیں ،بلاوجہ چیزوں کو متنازع بنایا جاتا ہے‘شزہ فاطمہ خواجہ

اسلام آباد(آن لائن)وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ اگر فیس بک مقامی قوانین پر عملدرآمد کرتی ہے تو ٹوئٹر(ایکس) کو بھی عملدرآمد کرنا ہوگا ،بات چیت جاری ہے‘سوشل میڈیا مواد کو کنٹرول کرنا مفروضے ہیں ،بلاوجہ چیزوں کو متنازع بنایا جاتا ہے۔بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹوئٹر(ایکس) کی جانب سے پاکستانی قوانین پر عملدرآمد نہ کرنا بہت بڑا ایشو ہے ،اگر فیس بک مقامی قوانین پر عملدرآمد کرتی ہے تو ٹوئٹر(ایکس) کو بھی عملدرآمد کرنا ہوگا

،انہوں نے پاکستان میں فائر وال کی تنصیب کا واضح جواب دینے سے گریز کیا اور کہا کہ سائبر سکیورٹی کو یقینی بنانے کی صلاحیت ہونا ضروری ہے ،سائبر سکیورٹی متعلقہ حکومت کا حقیقت میں مسئلہ ہے ،سوشل میڈیا مواد کو کنٹرول کرنا مفروضے ہیں ،بلاوجہ چیزوں کو متنازع بنایا جاتا ہے ،تمام سوشل میڈیا کھلا ہے لیکن جب ان سے ٹوئٹر کی بندش کا سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ایکس والے پاکستانی قوانین پر عملدرآمد نہیں کرتے ،ٹوئٹر (ایکس) سے بات چیت جاری ہے ،سوچنے کی بات ہے باقی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کھلے ہیں اور ٹوئٹر کیوں بند ہے ،زبان بندی کرنا ہوتی تو ٹک ٹاک اور فیس بک بند کرتے ،ٹک ٹاک بھی مقامی قوانین پر95 فیصد عمل کرتا ہے، انہوں نے کہا کہ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کو ختم نہیں کیا جارہا اس حوالے سے خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے ۔

Comments are closed.