وفاقی حکومت کا تاریخی فیصلہ: 5 سال سے لاپتہ افراد کے اہل خانہ کیلئے فی کس 50 لاکھ روپے معاوضے کا اعلان کر دیا
اسلام آباد (آن لائن)وفاقی حکومت نے غیر معمولی اور تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے 5 سال سے لاپتہ افراد کے اہل خانہ کیلئے فی کس 50 لاکھ روپے معاوضے کا اعلان کر دیا ،لاپتہ افراد کمیشن جو 13 سال سے کام کررہا تھا نے 2 رپورٹس وفاقی کابینہ میں پیش کیں جسے وفاقی کابینہ نے منظور کرلیںجبکہ اس حوالے سے وفاقی کابینہ نے خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دید ی جو لاپتہ افراد کے اہل خانہ کو قانونی اور ما لی امداد کی فراہمی کے لئے کام کریگی ۔جمعہ کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پاکستان کو افغان جنگ کے بعد سے لاپتہ افراد کے مسائل کا سامنا ہے ،ہمیں نہ صرف بین الالاقوامی سطح پر مسائل کا سامنا تھا بلکہ ملک کی اندرونی سالمیت کے لئے بھی یہ خطرناک ایشو بن چکا تھا ۔ نگران دور حکومت میں اس معاملے پر ایک کمیٹی بنائی گئی تھی ۔ کمیٹی کی متعدد میٹنگز ہوئیں ، کمیٹی اراکین کوئٹہ گئے، لاپتہ افراد کے لواحقین سے ملے اور ایشو کا ہر پہلو سے جائزہ لیا ۔
اس دوران نگران حکومت کا دورانیہ شروع ہو گیا اور کام کی رفتار سست ہو گئی تاہم دوبارہ حکومت بننے کے بعد ایک اور کمیٹی بنائی گئی جس میں ا نٹیلی جنس اداروں کے حکام کے علاوہ تمام فریقین سے تحقیقات کے بعد ایک تفصیلی رپورٹ مرتب کی اور کابینہ ڈوثرن میں پیش کی ، آج کابینہ اجلاس میں اس حوالے سے دونوں کمیٹیوں کی ر پورٹ کا جائزہ لیا گیا اور سفارشات کی منظوری دی گئی، ۔ انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کے اہل خانہ کو صرف قانونی اور مالی مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے اسی چیز کو مد نظر رکھتے ہوے وزیراعظم نے ان کے لئے سپورٹ پیکیج کی منظوری دی ہے اور اس سپورت پیکیج کے تحت لاپتہ افراد کو دی جانیوالی امداد کا طریقہ کار اور دوسرے معاملات طے کرنے کے لئے ایک خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے ۔ یہ سپورٹ پیکیج لاپتہ افراد کے لواحقین کے لئے کوئی معاوضہ نہیں ۔ کیونکہ ہم سب اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ انسانی جان کا کوئی معاوضہ نہیں ہوتا ، یہ صرف انکے لئے ایک امداد ی پیکیج ہے ۔
لاپتہ افراد کا ایشو حل ہونے تک اس پیکیج کے ذریعے ان فیملیز کی مد د کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک اچھی پیشرفت ہے جو لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے لئے ایک برا ریلیف ثابت ہو گا ،اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ لاپتہ افراد سے متعلق ” نیشنل کانسنس اینڈ لیگل ریزولوشن“ کے تحت حکومت نے ہر خاندان کی معاشی مشکلات کو دور کرنے کے لیے گرانٹ کے طور پر 50 لاکھ روپے دیئے جائیں گے۔ پانچ سال سے زیادہ عرصے والے گمشدہ افراد کے خاندانوں کے دکھ میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا گیا ہے اورلاپتہ افراد کے ہر خاندان کی معاشی مشکلات کو دور کرنے کے لیے گرانٹ کے طور پر 50 لاکھ روپے دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے،اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آج کے اقدام کو ریاست یا اس کے اداروں کی طرف سے کسی بھی ذمہ داری کی قبولیت کے طور پر نہیں لیا جانا چاہیے ،اس کے برعکس یہ ریاست کا ایک مخلصانہ اور مادرانہ رویہ ہے،یہ متاثرہ فیملیز کی مشکلات کو دور کرنے کے اور ان کے غم میں شریک ہونے کی ایک کوشش ہے،انہوں نے کہا کہ جانتے ہوئے بھی کہ گمشدہ افراد کے پیچھے متعدد اور پیچیدہ وجوہات ہیں لیکن اس کے باوجود حکومت پاکستان ویلفیئر کی ایک اعلیٰ مثال قائم کی ہے،پروپیگنڈہ کا شکار بھی لیکن عوام سے پیار بھی،ان کا مزید کہنا تھا کہ ریاست گمشدہ افراد کی ذمہ دار نہیں لیکن متاثرہ خاندانوں کے دکھ میں شریک ہے
،حکومت وقت نے آج پھر ثابت کر دیا ہے کہ ریاست ماں جیسی ہوتی ہے،اعظم نذیرتارڑ نے کہا کہ درناک الزامات کے باوجود ریاست اور اداروں کا ایک م±خلص قابل تحسین قدم ہے،پاکستان میں ہر شہری کی زندگی کا تقدس اور تحفظ اہم ہے، اور ریاست اس مقدس امر کو یقینی بنانے کی ذمہ دار نبھا رہی ہے، لاپتہ افراد کا معاملہ کابینہ کے اجلاس میں زیر بحث آیا،پاکستان نے مسنگ پرسنز کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں،ان میں سے بہت سے کیسز کو انفورسڈ ڈسپیئرنس انکوائری کمیشن (CIED) کے ذریعے حل کیا گیا ہے،انہوں نے کہا کہ ریاست تمام وسائل کا استعمال کرتے ہوئے مسنگ پرسنز کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے پرعزم ہے،اس عزم کے اظہار میں حکومت پاکستان "National Consensus & Legal Resolution (NCLR) of Missing Persons” کا احسن اقدام شروع کیا ہے،حکومت پاکستان مسنگ پرسنز کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے قانونی اور حفاظتی اقدامات کو مزید مضبوط کر رہی ہے۔
Comments are closed.