محمود خان اچکزئی نے قرار داد کی مخالفت کر دی ،سپیکر نے سخت الفاظ حذف کر دیئے

پارلیمنٹ کیخلاف الفاظ استعمال کرنے پر حکومتی اراکین کا شدید احتجاج

یہاں بیٹھے 80 سال کی عمر والوں کی ٹانگیں قبر میں ہیں اور جھک مار کرجارہے ہیں، زرتاج گل
اسلام آباد(آن لائن) قومی اسمبلی اجلاس میں رکن اسمبلی محمود خان اچکزئی نے پوائنٹ آف آرڈر پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پارلیمنٹ 25 کروڑ انسانوں کی پارلیمنٹ ہے،کشمیر پر قرارداد کی مخالفت کی ہے کشمیر کے معاملے میں پاکستان اور ہندوستان دونوں گڑ بڑ کر رہے ہیں کشمیر نہ ہندوستان کا اٹوٹ انگ ہے نا پاکستان کی شہ رگ ہے محمود خان اچکزئی نے ریاست جموں و کشمیر کی خودمختاری کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ بھاڑ میں جائے یہ پارلیمنٹ، بھاڑ میں جائیں یہ ممبران، محمود خان اچکزئی کے ریمارکس پر حکومتی اراکین نے شدید احتجاج کیا ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے محمود خان اچکزئی کے الفاظ حذف کر دیئے سنی اتحاد کونسل کی پارلیمانی لیڈر زرتاج گل نے کہا کہ یہاں ایک حکومتی اتحادی نے عمروں کی بات کی ہے

مگر یہاں حکومتی سائیڈ سے 80 سال کی عمر والوں کی ٹانگیں قبر میں ہیں وہ اس عمر میں بھی جھک مار کر جارہے ہیں تو نئی نسل کو کس طرح کی قانون سازی سکھا رہے ہیں اس ایوان میں ایک قرارداد منظور کی جاتی ہے اسرائیل کا نام تک نہیں لیا جاتا یہ حکومت اسرائیل کا نام لینے تک کی جرات نہیں کرسکتی ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ جو آج قانون سازی ہوئی ہے ہم اس پر اپنا موقف رکھنا چاہ رہے تھے ہمارا یہ احتجاج ریکارڈ پر رہے کہ پارلیمانی پریکٹس کو ملحوظ خاطر رکھا جانا چاہیئے اگر ایسا نہ ہو تو وہ بری قانون سازی میں شمار ہوتی ہے یہ الگ بات ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے نے جب ایسے فیصلے کی جانب مجبور کیا تو وہ بھی متنازعہ فیصلہ ہے اس سے قبل صرف سیاسی جماعتوں کی محاذ آرائی تھی مگر اداروں کے درمیان کوئی تصادم تھا تو وہ پردے میں تھا مگر پھر یہ فیصلہ آگیا اسی وقت کہا تھا کہ ایک نہ ختم ہونے والی لڑائی شروع ہوچکی ہے اگر پارلیمان نے نیام سے تلوار نکال لی اور سیکشن 66 اور 104 میں ترمیم متعارف کرالی یہ ایک حربہ ہے اس معاملے پر اپوزیشن اور حکومت کی سیاست کی بدترین شکست ہے کہ یہ ایک معاملے پر متفق نہیں ہوسکتے سیاست اور سیاسی اکابرین کی ایک عمر ہے، کہتے ہیں لڑکی کی عمر گزر جائے تو رشتے نہیں آتے ایسا ہی سیاست میں بھی ہوتا ہے اپوزیشن کی لیڈر شپ ہو یا حکومتی اتحادیوں کی سب کی عمریں نکل رہی ہیں اور ہماری بھی

،ہمارے ہاں البتہ سب 70 سے نیچے ہیں پیپلز پارٹی، ن لیگ اور پی ٹی آئی اس سے اوپر ہے ملک کو سیاسی بحران سے نکالنے کیلئے کوئی اقدام نہیں کررہا ایک وقت تھا کہ آپ خود ترمیم کرکے مخصوص نشستیں دے دیتے اور ان کو سپریم کورٹ نہ جانا پڑتا ایک قومی ایجنڈا مرتب کرنے کی ضرورت ہے بصورت دیگر بڑی تاریخی غلطی کردینگے ہم اتحادی ہیں مگر اس قانون سازی پر ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا ہمیں ایسا بلڈوز کیا گیا کہ بات تک نہیں کرنے دی گئی اسی لئے کہتا ہوں آگے کا روڈ میپ وضع کیا جائے ،بنگلہ دیش میں ایک کوٹہ سسٹم حسینہ واجد کو نگل گیا، ہمیں بھی اس وقت سے ڈرنا چاہیے حکومت اور اپوزیشن دونوں کو گرینڈ ڈائیلاگ کی طرف جانا ہوگا بوقت ضرورت اداروں کو بھی انگیج کرنا ہوگا۔

Comments are closed.