چیف جسٹس سے اپیل کرتا ہوں آپ سے فیصلے میں غلطی ہوئی اس پر نظر ثانی کی جائے‘طاہر محمود اشرفی
اسلام آباد(آن لائن)علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ میں آج یہ فتوی پیش کر رہا ہوں کہ اگر کوئی شخص کسی پر جاں بوجھ کر توہین مذہب اور توہین رسالت کا الزام لگاتا ہے تو قانون اس کے خلاف کھڑا ہو‘میں چیف جسٹس سے اپیل کرتا ہوں آپ سے فیصلے میں غلطی ہوئی اس پر نظر ثانی کی جائے۔یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ ہم عدلیہ سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ توہین مذہب کے کیسز کے فیصلے جلدی کریں تاکہ گناہگاروں کو سزا ملے‘چند افراد کی وجہ سے ہم اپنے ملک میں بد امنی پیدا نہیں ہونے دیں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کسی کو اجازت نہیں دیں گے کہ کسی دوسرے مذہب کے لوگوں کو نقصان پہنچایا جائے‘جڑانوالا اور سرگودھا میں جو واقعات ہوئے، پاکستان ایسے واقعات کا متحمل نہیں ہو سکتا‘پاکستان میں توہین مذہب اور رسالت کا مسئلہ بیان کیا جاتا ہے‘پاکستان میں موجود غیر مسلم توہین مذہب کے مرتکب نہیں ہیں۔
طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ ہم عدلیہ سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ توہین مذہب کے کیسز کے فیصلے جلدی کریں تاکہ گناہگاروں کو سزا ملے۔ان کا کہنا تھا کہ میں آج یہ فتوی پیش کر رہا ہوں کہ اگر کوئی شخص کسی پر جاں بوجھ کر توہین مذہب اور توہین رسالت کا الزام لگاتا ہے تو قانون اس کے خلاف کھڑا ہو۔اصل مجرم ذاتی مفاد کے لیے توہین آمیز الفاظ منسوب کرنا بھی توہین ہے۔ بین الاقوامی پروپیگنڈے کا شکار بھی اسی لیے ہوتے ہیں کہ عدلیہ کے فیصلوں میں تاخیر ہے۔آج اس فورم سے یہ پیغام دینا ہے کہ ہم بڑے ہیں، غیر مسلم ہمارے چھوٹے بھائی ہیں۔طاہر اشرفی نے کہا کہ آج یورپ اور فلسطین میں کیا ہو رہا ہے، ہمیں اس کے خلاف بھی آواز اٹھانا ہے‘دنیا میں اسلاموفوبیا پر بھی غور کرنا چاہئے‘اپنی غلطیوں کی اصلاح کرنی چاہئے‘ آج کہا جاتا ہے جبرا لوگوں کو مسلمان بنایا جاتا یے، جو کہ بے بنیاد ہے‘کہا جاتا ہے بچیوں کے نکاح زبردستی کرایا جاتا ہے لیکن اسلام میں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بیٹی سے نکاح کا پوچھا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اسلام نے تاریخ رقم کر دی کہ جبر سے شادی نہیں ہو سکتی‘چند افراد کی وجہ سے ہم اپنے ملک میں بد امنی پیدا نہیں ہونے دیں گے۔پاکستان میں اقلیت کو دن منایا جا رہا ہے۔آئین پاکستان اور اسلام اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ ہر بندہ اپنے مذہب میں آزاد ہے۔اسلام سے زیادہ غیر مسلم کے حقوق کو کوئی بیان نہیں کرتا۔اس حوالے سے جھوٹی خبروں کو بھی روکنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم آزادی صحافت کے قائل ہیں لیکن اس کی بھی حدود ہونی چاہئے‘میں چیف جسٹس سے اپیل کرتا ہوں آپ سے فیصلے میں غلطی ہوئی اس پر نظر ثانی کی جائے۔
Comments are closed.