ہم پڑوسی کی جنگ میں پڑنے کے نتائج کا اندازہ نہیں لگا سکے‘صدر زرداری
اسلام آباد (آن لائن)صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ہم پڑوسی کی جنگ میں پڑنے کے نتائج کا اندازہ نہیں لگا سکے۔اسلام آباد میں اقلیتوں کے عالمی دن کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں آپ سب کوخوش آمدید کہتا ہوں، اس دن کو منانے کا مقصد پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں پاکستان میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کو خراج تحسین پیش کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد جو کچھ ہوا میری جنریشن اس کے آئینی گواہ ہیں، تب سے ہمیں جس طرح تقسیم کیا گیا اور ہمیں کمزور کر کے ایک پڑوس ملک کی جنگ میں جھونک دیا گیا، یہ کسی کی غلطی نہیں بلکہ ہماری ہی غلطی تھی،ہم پڑوسی کی جنگ میں پڑنے کے نتائج کا اندازہ نہیں لگا سکے، اور اس کے نتائج کے بارے میں ہم نے نہیں سوچا، جن لوگوں کو ہم نے ہمارے دوستوں نے بنایا اس کے نتائج ہمارے جنریشن میں کیا مرتب ہوں گے یہ ہم نے نہیں سوچا۔ان کا کہنا تھا کہ آج مدرسوں میں اپنی سمجھ کے حساب سے مذہب کے بارے میں پڑھایا جارہا ہے، قائد اعظم نے کسی سیاسی پوائنٹ کی وجہ سے بنایا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ مودی کے بھارت میں اقلیت محفوظ نہیں ہے اور یہ بات قائد اعظم نے اس وقت محسوس کی تھی کہ ایک دن یہ ہوگا اور اسی وجہ سے پاکستان بنایا ہمارے بزرگوں نے بنایا، ہم نے قرارداد پاکستان نے پاس کی، میرے والد مسلم لیگ کا حصہ تھے، ہم نے جو بھی کیا تھا وہ صحیح تھا لیکن عالمی طاقت عالمی طاقت ہی ہے۔
صدر مملکت نے بتایا کہ آج غزہ میں جو میزائل جارہا ہے وہ یہ نہیں دیکھ رہا کہ آگے مسلمان ہے یا مسیح، میزائل تو میزائل ہے، اور اگر آپ کو لگتا ہے کہ غزہ مین مسیحی نہیں تو آپ غلط ہیں، سیاست میں یہ مسیحی بھر قربان ہورہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ 40 سال تک ہم وار مائندسیٹ والے ملک کے پروسی رہے، یہ ہمارا ملک ہے، یہ ہمارے بچوں کا مستقبل ہے، اور تمام اقلیتیں ہمارے بچے ہیں، ہر شعبے میں ہمارے پاس اقلیتوں کے لیے مخصوص سیٹیں ہونی چاہیے۔صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ ملک میں اقلیتوں کو تمام تر حقوق حاصل ہیں ۔ پاکستان ہم سب کا ہے سب نے مل کر اس کی خدمت کرنی ہے ۔ مودی کے بھارت میں اقلیتیں غیر محفوظ ہیں ۔ اقلیتوں کے دن کو منانے کا مقصد ملک کی سماجی اور معاشی ترقی میں ان کی خدمات کا اعتراف کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد جو ہوا اس کے آئینی گواہ ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آج مودی کے دیس میں اقلیتیں غیر محفوظ ہیں ۔ قائد ا عظم نے بھارت میں اقلیتوں کا مستقبل دیکھ لیا تھا ۔
اور اسی وجہ سے انہوں نے آزادی کے لئے جدوجہد کر کے ہمیں ایک آزاد ملک کا تحفہ دیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ میرے والد نے بن کے رہے گا پاکستان کے نعرے لگائے ۔ بنگال کے بعد سندھ اسمبلی نے قرار داد پاکستان منظور کی تھی ۔ ہم سندھ کے لوگ درد دل رکھنے والے ہیں ۔ ہمارے دل میں بغداد کا بھی درد ہے ۔ ہم غزہ کی صورتحال پر پریشان ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اقلیتو ں کو تمام تر بنیادی حقوق حاصل ہیں سرکاری ملازمتوں میں اقلیتوں کا پانچ فیصد کوٹہ رکھا گیا ہے ۔ میں ا قلیتوں کے حقوق کے تحفط کے لئے اپنی ذمہ داری سے بخوبی سے آگا ہ ہوں یہ کوئی اقلیتی برادری پر احسان نہیں بلکہ میں نے اس کا حلف اٹھا رکھا ہے ۔ انہوں نے پاکستان کھپے کا نعرہ بھی لگایا ۔
Comments are closed.